ٹرمپ نے ایران اور عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کںٹرول کرنے کی خبروں کو مسترد کردیا
- اس آبی گزرگاہ پر کسی ایک ملک کو کنٹرول حاصل نہیں ہوگا، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو مشترکہ طور پر منظم کریں گے، جو جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے کا حصہ ہو سکتی ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک غیر رسمی ڈرافٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک معاہدے کے تحت ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری ٹریفک کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے گا، جبکہ ایران اور عمان مشترکہ طور پر اس راستے کی نگرانی کریں گے۔ اس مجوزہ فریم ورک میں امریکہ کی جانب سے ایران کے قریب فوجی موجودگی کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں ہٹانے کی بات بھی شامل تھی۔
تاہم صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ پر کسی ایک ملک کو کنٹرول حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ کوئی بھی اس کو کنٹرول نہیں کرے گا، یہ بین الاقوامی پانی ہے، اور عمان کو بھی سب کی طرح ہی برتاؤ کرنا ہوگا، ورنہ ہمیں انہیں ختم کرنا پڑے گا۔
ان کے اس بیان کے بعد وائٹ ہاؤس اور عمانی سفارت خانے نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اب بھی بڑی حد تک تعطل کا شکار ہیں، جبکہ یہ تنازعہ 28 فروری سے شروع ہونے کے بعد ہزاروں جانیں لے چکا ہے اور عالمی توانائی منڈی کو متاثر کر چکا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مجوزہ معاہدے میں امریکی فوجی انخلا کی بھی بات کی گئی تھی، تاہم امریکہ نے اسے مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے، جبکہ ایران اسے پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے پہلے روزانہ 125 سے 140 بحری جہاز گزرتے تھے، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔


Comments