پاکستان

وزارت خزانہ نے مہنگائی کے خطرے سے خبردار کر دیا

  • مالی سال 2025-26 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 33.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی
شائع اپ ڈیٹ

وزارت خزانہ نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان میں مہنگائی کے دباؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جولائی 2026 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) مہنگائی 9 سے 10 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی جائزہ اور آؤٹ لک جولائی 2026 میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی کشیدگی عالمی توانائی قیمتوں، تجارت اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے ذریعے پاکستان کی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم بہتر معاشی بنیادوں، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور حکومتی تیاریوں کے باعث پاکستان ایسے جھٹکوں سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 33.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو 2.477 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.636 ارب ڈالر رہ گئی۔ جون 2026 میں ایف ڈی آئی صرف 13.5 ملین ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ میں یہ 210 ملین ڈالر تھی۔

مالی سال کے دوران مجموعی ایف ڈی آئی 3.6 ارب ڈالر رہی، جبکہ خالص ایف ڈی آئی 1.6 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ سرمایہ کاری چین سے 862 ملین ڈالر، ہانگ کانگ سے 339.4 ملین ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے 235.9 ملین ڈالر آئی۔ شعبہ جاتی بنیاد پر بجلی کے شعبے نے 958.3 ملین ڈالر اور مالیاتی خدمات نے 805.5 ملین ڈالر سرمایہ کاری حاصل کی۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں برآمدات بھی 4.6 فیصد کم ہو کر 30.8 ارب ڈالر رہ گئیں، جو گزشتہ سال 32.3 ارب ڈالر تھیں۔ تاہم کارکنوں کی ترسیلات زر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی اور مالی سال کے دوران یہ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 8.6 فیصد اضافہ ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق 17 جولائی 2026 تک ملکی زرمبادلہ ذخائر 22.7 ارب ڈالر رہے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 17.3 ارب ڈالر موجود تھے۔

مہنگائی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون 2026 میں سالانہ بنیاد پر سی پی آئی 11.1 فیصد رہی، جو مئی میں 11.7 فیصد تھی۔ مالی سال 2025-26 کی اوسط مہنگائی 7.1 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 4.5 فیصد تھی۔

رپورٹ میں موسمی خطرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے، جس سے کپاس، چاول، گنے اور مکئی سمیت خریف فصلوں کو پانی کی کمی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

صنعتی شعبے میں بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) نے جولائی تا مئی مالی سال 2026 کے دوران 5.8 فیصد ترقی کی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.1 فیصد کمی ہوئی تھی۔

دوسری جانب ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں مالی سال 2025-26 میں 13.01 کھرب روپے رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.8 فیصد زیادہ ہیں۔ مالیاتی خسارہ بھی جولائی تا مئی کے دوران جی ڈی پی کے 1.6 فیصد تک محدود رہا، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 3.8 فیصد تھی۔

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 27 جولائی 2026 کو شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی کے مطابق معیشت کے بنیادی اشاریے بہتر ہوئے ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ میں دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی معاشی منظرنامے کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی جون 2026 کے دوران تیزی دیکھی گئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 6,339 پوائنٹس اضافے کے بعد 180,302 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 20.19 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026