ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی، کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں دم توڑ گئیں
- ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے اختتام پر ثالثی کے لیے پاکستان کا دورہ مکمل کر کے بغیر کسی پیش رفت کے واپس لوٹ گئے
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ میں سفارتی پیش رفت کی امیدیں نئے ہفتے کے آغاز پر مزید معدوم ہو گئیں، کیونکہ دو ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور تہران و واشنگٹن اپنے مؤقف میں نرمی دکھانے کو تیار نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے اختتام پر ثالثی کے لیے پاکستان کا دورہ مکمل کر کے بغیر کسی پیش رفت کے واپس لوٹ گئے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا، جس سے امن کی کوششوں کو یکے بعد دیگرے دھچکا پہنچا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک گفتگو میں واضح کیا کہ تہران دھمکیوں یا ناکہ بندی کے تحت مسلط مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پہلے ایرانی بندرگاہوں پر عائد رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی، تب ہی کسی بامعنی مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی پیشکش ناکافی تھی، اس لیے دورہ منسوخ کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت میں شدید اختلافات اور ابہام پایا جاتا ہے۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملوں کا حکم دیا، جس سے جنگ بندی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر رکھا ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی ترسیل ہوتی ہے، جبکہ امریکہ ایرانی تیل کی برآمدات کو روک رہا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔