جنگ بندی میں امریکی توسیع کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کردیا
- ایران نے اس جنگ بندی کی توسیع کی باضابطہ توثیق نہیں کی
ایران نے آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو قبضے میں لے لیا ہے، جس کے بعد اس نے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے عارضی طور پر روکنے اور جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کا اعلان کیا، تاہم امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔
دوسرے ہفتے پرانی جنگ بندی کی حیثیت بھی غیر واضح رہی، جو اس ہفتے کے آغاز میں ختم ہونے والی تھی۔ ٹرمپ نے پہلے سخت بیانات کے بعد اچانک مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جنگ بندی اس وقت تک بڑھائے گا جب تک ایران کی جانب سے امن مذاکرات سے متعلق کوئی تجویز سامنے نہیں آتی۔
ایران نے اس جنگ بندی کی توسیع کی باضابطہ توثیق نہیں کی اور امریکی بحری ناکہ بندی کو برقرار رکھنے پر تنقید کرتے ہوئے اسے جارحیت قرار دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مکمل جنگ بندی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ناکہ بندی ختم کی جائے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دو جہازوں کو قبضے میں لے کر ایرانی ساحلوں کی طرف لے جانے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایک اور جہاز پر فائرنگ کی گئی تاہم وہ محفوظ رہا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اس کی بحریہ اب تک 30 سے زائد جہازوں کو واپس موڑ چکی ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش عالمی توانائی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔