دنیا

جنگ کے بڑھتے خدشات، امریکہ اور ایران جنیوا میں جوہری مذاکرات کے لیے تیار

  • امریکہ اور ایران نے منگل کو جنیوا میں اپنی طویل المدتی جوہری تنازعہ کو حل کرنے کے لیے بالواسطہ مذاکرات کیے
شائع اپ ڈیٹ

امریکہ اور ایران نے منگل کو جنیوا میں اپنی طویل المدتی جوہری تنازعہ کو حل کرنے کے لیے بالواسطہ مذاکرات کیے، تاہم اس بات کے کم اشارے موجود ہیں کہ دونوں جانب کوئی مفاہمت ممکن ہو رہی ہے، جبکہ واشنگٹن خطے میں فوجی قوت تعینات کر رہا ہے۔

رائٹرز کے ذرائع کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر مذاکرات میں حصہ لیں گے، جو عمان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں، اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شریک ہوں گے۔ اس دوران امریکی فوج بھی امریکی صدر ٹرمپ کے احکامات ملنے کی صورت میں ممکنہ حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

ایران نے پیر کو آبنائے ہرمز میں فوجی مشق کا آغاز کیا، جو خلیج کے عرب ممالک کے لیے اہم تیل برآمدی راستہ ہے۔ ایران کے اس اقدام کا مقصد ڈپلومیسی کے ذریعے تنازعہ ختم کرنے کی کوششوں کے دوران اپنی تیاری دکھانا تھا۔

تہران اور واشنگٹن نے 6 فروری کو اپنے عشروں پر محیط تنازعے پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے۔ امریکہ اور اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے، جو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، حالانکہ اس نے یورینیم کو بم بنانے کے لیے ضروری خالصیت کے قریب تک افزودہ کیا ہے۔

تہران نے گزشتہ مذاکرات کی کوشش کے دوران یورینیم افزودگی روک دی تھی، اور داخلی احتجاجات کی وجہ سے ایرانی حکمرانوں کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔

اب امریکہ نے ٹرمپ کے مطابق خطے میں ایک بڑی بحری قوت تعینات کر دی ہے۔ واشنگٹن مذاکرات کے دائرہ کار کو غیر جوہری امور، جیسے ایران کے میزائل ذخائر تک بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران صرف اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے عوض مذاکرات کرنے پر تیار ہے اور میزائل پروگرام یا یورینیم افزودگی مکمل ترک نہیں کرے گا۔

مذاکرات سے ایک روز قبل عباس عراقچی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسّی سے جنیوا میں ملاقات کی تاکہ تکنیکی تعاون اور مذاکرات کے پہلوؤں پر بات چیت ہو سکے۔