پروازیں بحال ہونے کے چند گھنٹے بعد ریاض ایئرپورٹ پر حملہ
- اتوار کی صبح ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ شہریوں کو فضائی خطرے سے متعلق پیغامات بھیجے گئے
یمن کے حوثی باغیوں نے اتوار کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نئے حملے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے چند گھنٹے قبل سعودی حکام نے مسلسل حملوں کے باوجود پروازیں بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ گروپ نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے تین فوجی کارروائیاں کیں اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا مقصد حاصل کر لیا۔ سعودی حکام نے نئے حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اتوار کی صبح ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ شہریوں کو فضائی خطرے سے متعلق پیغامات بھیجے گئے۔ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے بتایا کہ اس نے دارالحکومت کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل اور ریاض کے علاقے میں دو ڈرونز کو روک لیا۔ بعد ازاں خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک کروز میزائل بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
سعودی سول ڈیفنس کے مطابق جنوب میں گرنے والے ملبے سے دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سعودی طیاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں یمن کے مختلف صوبوں پر 56 فضائی حملے کیے۔
ہوائی اڈے کی بندش کے باعث سعودی عرب کی اہم سرمایہ کاری کانفرنس 2027 تک ملتوی کر دی گئی، جبکہ ڈاکار ریلی سمیت متعدد تقریبات بھی جنگ کے اثرات سے متاثر ہوئیں۔
دریں اثنا، یونان کے وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے ریاض میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ یونانی حکومت کے مطابق انہوں نے موجودہ حالات کے پیش نظر سعودی عرب میں پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام برقرار رکھنے کی درخواست سے اتفاق کیا۔






















Comments