BR100 Decreased By (-1.63%)
BR30 Decreased By (-1.98%)
KSE100 Decreased By (-1.19%)
KSE30 Decreased By (-1.55%)
BAFL 55.55 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
BIPL 24.24 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
BOP 27.92 Decreased By ▼ -0.31 (-1.1%)
CNERGY 12.29 Decreased By ▼ -0.23 (-1.84%)
DFML 16.22 Increased By ▲ 0.25 (1.57%)
DGKC 176.59 Decreased By ▼ -5.58 (-3.06%)
FABL 90.44 Decreased By ▼ -0.68 (-0.75%)
FCCL 49.99 Decreased By ▼ -1.31 (-2.55%)
FFL 13.69 Decreased By ▼ -0.25 (-1.79%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.26 (-1.35%)
HBL 286.00 Decreased By ▼ -6.27 (-2.15%)
HUBC 191.00 Decreased By ▼ -3.89 (-2%)
HUMNL 8.35 Decreased By ▼ -0.31 (-3.58%)
KEL 5.62 Decreased By ▼ -0.11 (-1.92%)
LOTCHEM 23.90 Decreased By ▼ -0.26 (-1.08%)
MLCF 87.10 Decreased By ▼ -2.75 (-3.06%)
OGDC 298.20 Decreased By ▼ -4.85 (-1.6%)
PAEL 32.88 Decreased By ▼ -0.19 (-0.57%)
PIBTL 12.88 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
PIOC 227.50 Decreased By ▼ -4.81 (-2.07%)
PPL 213.82 Decreased By ▼ -2.85 (-1.32%)
PRL 94.85 Decreased By ▼ -5.03 (-5.04%)
SNGP 90.21 Decreased By ▼ -1.62 (-1.76%)
SSGC 22.60 Decreased By ▼ -0.61 (-2.63%)
TELE 6.84 Decreased By ▼ -0.14 (-2.01%)
TPLP 11.44 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
TRG 54.65 Decreased By ▼ -2.18 (-3.84%)
UNITY 7.69 Decreased By ▼ -0.10 (-1.28%)
WTL 0.92 Decreased By ▼ -0.01 (-1.08%)
پاکستان

مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ

  • اگر خطے میں بحران برقرار رہا تو پاکستان کو مزید سخت مانیٹری پالیسی اختیار کرنا پڑسکتی ہے، آئی ایم ایف
شائع اپ ڈیٹ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث پاکستان میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ فنڈ کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں بحران برقرار رہتا ہے اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھتے ہیں تو پاکستان کو مزید سخت مانیٹری پالیسی اختیار کرنا پڑسکتی ہے۔

فنڈ نے اپنی تازہ رپورٹ بعنوان اکتوبر 2026 کا علاقائی اقتصادی جائزہ: مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا، غیر یقینی حالات میں رہنمائی اور مشکل وقت میں معاشی استحکام کا فروغ میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور پاکستان (مینپ) کے تیل درآمد کرنے والے ممالک میں مہنگائی کا دباؤ سب سے زیادہ مصر اور پاکستان میں بڑھا جہاں اگست میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح بالترتیب 14.5 فیصد اور 11.1 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجوہ خوراک اور توانائی سے متعلق اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہیں جو علاقائی رسد اور تجارت میں خلل کے باعث توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ جن ممالک میں مہنگائی پہلے ہی ہدف سے زیادہ ہے اور مانیٹری پالیسی بظاہر نرم ہے، وہاں شرح سود میں مزید اضافے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایسی صورتحال میں پالیسی ریٹ تخمینہ شدہ غیر جانبدار سطح سے کم ہوتا ہے جس کی نمایاں مثالیں کرغز جمہوریہ اور پاکستان ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور پاکستان (مینپ) کے خطے میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں لچک دار شرح مبادلہ کے نظام کے تحت تنازع شروع ہونے کے بعد شرح سود میں اضافہ کیا گیا جو خطے کے ممالک کے مانیٹری پالیسی ردعمل میں فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ درمیانی مدت میں پاکستان کی بیرونی مالیاتی صورتِ حال کمزور ہوسکتی ہے کیونکہ درآمدات میں اضافہ اور ترسیلاتِ زر کی رفتار میں کمی متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق مینپ خطے کی دیگر معیشتوں میں 2026 کے دوران اب تک معاشی سرگرمیاں مستحکم رہی ہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں مصر، اردن، مراکش، پاکستان اور تیونس کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2025 کی دوسری ششماہی کے مقابلے میں بڑی حد تک مستحکم رہی۔ صنعتی پیداوار اور پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) سمیت معاشی سرگرمیوں کے فوری اشاریے بھی 2026 میں اب تک عمومی طور پر مستحکم رہے ہیں یا معمولی سکڑاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ دوسری سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح میں کمی آئی۔

فنڈ نے مزید کہا کہ ترسیلاتِ زر اور سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی مستحکم رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2026 میں اب تک مصر میں جی ڈی پی کے تناسب سے خالص ترسیلاتِ زر گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں زیادہ رہی ہیں جبکہ مراکش، پاکستان اور تیونس میں یہ بڑی حد تک مستحکم رہیں۔

تاہم آئی ایم ایف نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں جاری جنگ کے باعث رواں سال مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور پاکستان (مینپ) کے خطے میں معاشی پیداوار میں نمایاں کمی کی پیش گوئی کی ہے جبکہ 2027 میں شرح نمو 6.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ فنڈ نے خبردار کیا کہ توانائی کی پیداوار میں مزید تعطل سے معاشی منظرنامہ خراب ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث توانائی کی پیداوار، بحری نقل و حمل، سیاحت، تجارت اور کاروباری اعتماد متاثر ہونے کے نتیجے میں خطے کی معاشی پیداوار رواں سال 1.3 فیصد سکڑنے کا امکان ہے۔ 2027 میں معاشی پیداوار میں تیزی سے اضافے کی توقع ہے، تاہم ان معیشتوں کی پیداوار عمومی طور پر جنگ سے پہلے لگائے گئے تخمینوں سے کم رہے گی۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع طویل عرصے تک جاری رہتا ہے تو مہنگائی کا دباؤ بڑھنے اور معاشی سرگرمیاں کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔ ایک منفی منظرنامے کے تحت جس میں 2027 کی دوسری سہ ماہی تک جنگ جاری رہنے کا امکان فرض کیا گیا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2027 میں اوسطاً 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں جو رپورٹ میں بنیادی تخمینے سے تقریباً 45 فیصد زیادہ ہیں۔

فنڈ نے کہا کہ ایسی صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور پاکستان (مینپ) اور قفقاز و وسطی ایشیا (سی سی اے) کے براہِ راست متاثرہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان ممالک کی حقیقی جی ڈی پی میں اوسطاً 3.8 فیصد کمی جب کہ 2027 میں مہنگائی کی شرح بنیادی تخمینے کے مقابلے میں تقریباً 1.25 فیصد پوائنٹس زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

Comments

200 حروف