BR100 Decreased By (-0.81%)
BR30 Decreased By (-0.76%)
KSE100 Decreased By (-0.58%)
KSE30 Decreased By (-0.88%)
BAFL 55.75 Increased By ▲ 0.17 (0.31%)
BIPL 24.35 Increased By ▲ 0.05 (0.21%)
BOP 28.15 Decreased By ▼ -0.08 (-0.28%)
CNERGY 12.35 Decreased By ▼ -0.17 (-1.36%)
DFML 16.39 Increased By ▲ 0.42 (2.63%)
DGKC 179.06 Decreased By ▼ -3.11 (-1.71%)
FABL 91.11 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 50.80 Decreased By ▼ -0.50 (-0.97%)
FFL 13.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.43%)
GGL 19.15 Decreased By ▼ -0.11 (-0.57%)
HBL 290.52 Decreased By ▼ -1.75 (-0.6%)
HUBC 191.90 Decreased By ▼ -2.99 (-1.53%)
HUMNL 8.50 Decreased By ▼ -0.16 (-1.85%)
KEL 5.73 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 24.30 Increased By ▲ 0.14 (0.58%)
MLCF 88.51 Decreased By ▼ -1.34 (-1.49%)
OGDC 299.32 Decreased By ▼ -3.73 (-1.23%)
PAEL 33.10 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
PIBTL 13.04 Decreased By ▼ -0.06 (-0.46%)
PIOC 231.00 Decreased By ▼ -1.31 (-0.56%)
PPL 215.59 Decreased By ▼ -1.08 (-0.5%)
PRL 96.00 Decreased By ▼ -3.88 (-3.88%)
SNGP 91.35 Decreased By ▼ -0.48 (-0.52%)
SSGC 23.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.9%)
TELE 6.92 Decreased By ▼ -0.06 (-0.86%)
TPLP 11.27 Decreased By ▼ -0.14 (-1.23%)
TRG 56.65 Decreased By ▼ -0.18 (-0.32%)
UNITY 7.73 Decreased By ▼ -0.06 (-0.77%)
WTL 0.93 No Change ▼ 0.00 (0%)
ٹیکنالوجی

آئی ٹی ماہرین کا فری لانسنگ کیلئے قومی حکمت عملی بنانے پر زور

  • ملک کو ٹیکنالوجی پر توجہ دینے والی ایک مضبوط فری لانس کمیونٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے، پافلا
شائع اپ ڈیٹ

آئی ٹی ماہرین اور صنعتی تجزیہ کاروں نے پاکستان کی فری لانس افرادی قوت کو وسعت دینے کے لیے ایک مربوط قومی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مہارتوں، ابلاغ اور کاروبار کو فروغ دینے کی صلاحیتوں میں موجود خامیاں فری لانسرز کو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے روک رہی ہیں۔

پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پافلا) کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ ملک کو ٹیکنالوجی پر توجہ دینے والی ایک مضبوط فری لانس کمیونٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے، تاکہ ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ افراد اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنا سکیں، بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کریں اور زرمبادلہ کی زیادہ آمدنی پیدا کر سکیں۔

انہوں نے حکومت اور نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ مل کر فری لانسرز کو طلب میں موجود تکنیکی اور نرم مہارتوں سے آراستہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ خامیوں کو دور کرنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔

پاکستان میں اندازاً 30 لاکھ فری لانسرز موجود ہیں، جس کے باعث ملک دنیا کی سب سے بڑی فری لانس کمیونٹیز میں شامل ہے۔ تاہم، اس شعبے سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اس افرادی قوت کو وسعت دینے اور اس کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی درکار ہے۔

مشیرِ وزیر خزانہ خرم شہزاد نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ ستمبر 2026 میں پاکستان کی آئی ٹی اور ٹیکنالوجی برآمدات بڑھ کر 43 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اب تک کی دوسری بلند ترین ماہانہ سطح ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں فری لانسرز کی برآمدات تقریباً 55 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، آئی ٹی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز نے جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران 33 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی برآمدی آمدنی حاصل کی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ آمدنی 27 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔ اس طرح اس شعبے کی برآمدی آمدنی میں تقریباً 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں غیر آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز نے 21 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کمائے، جبکہ مالی سال 2025-26 کی اسی مدت میں ان کی آمدنی 10 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر ان کی آمدنی میں نمایاں طور پر 106 فیصد اضافہ ہوا۔

اس طرح زیرِ جائزہ مدت کے دوران فری لانسرز کی مجموعی برآمدی آمدنی تقریباً 55 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔

غیر آئی ٹی فری لانسرز میں مواد لکھنے والے، وائس اوور آرٹسٹ، آن لائن اساتذہ، ای کامرس کے ماہرین اور ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے والے دیگر پیشہ ور افراد شامل ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ آئی ٹی سے متعلق فری لانس خدمات پاکستان کی برآمدی آمدنی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم غیر آئی ٹی فری لانس خدمات کا شعبہ کہیں زیادہ تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔

ابراہیم امین کے خیال میں پاکستانی فری لانسرز اب بھی دستیاب مواقع سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پا رہے، جس کی وجہ جدید ٹیکنالوجی کی مہارتوں، ابلاغ اور کاروبار کو فروغ دینے کی صلاحیتوں میں موجود خامیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رسمی صنعتی شعبے میں روزگار کے محدود مواقع کے پیش نظر فری لانسنگ نوجوانوں کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقل مزاجی، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور لگن کے ساتھ نوجوان پاکستانی بین الاقوامی فری لانس پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہوئے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

دریں اثنا، فری لانسنگ کوچ ڈاکٹر نعمان احمد سعید نے نوجوانوں کو عالمی لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے لیے تیار کرنے کی غرض سے اسکول کی سطح ہی سے ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی صنعتوں کی شکل بدل رہی ہے اور کاروباری اداروں کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے بھی غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر رہی ہے۔ اس لیے فری لانسرز کے لیے مسابقت برقرار رکھنے کی غرض سے مسلسل مہارتوں میں اضافہ ضروری ہے۔

نعمان احمد سعید نے ایسے تعلیمی نظام کا مطالبہ کیا جو ڈیجیٹل خواندگی، تکنیکی مہارت اور کاروبار کو فروغ دینے کی صلاحیتوں کو ترجیح دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی عمر سے ٹیکنالوجی سے واقفیت نوجوانوں کی بڑی تعداد کو ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیار کرنے میں مدد دے گی۔

سی گلوبل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا کہ اگر حکومت قومی لائحہ عمل تیار کرے اور فری لانسنگ، مہارتوں کی ترقی اور ڈیجیٹل کاروبار کے فروغ کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرے تو پاکستان ایک سال کے اندر فری لانسرز کی تعداد 30 لاکھ سے بڑھا کر 40 لاکھ کر سکتا ہے۔

اس شعبے سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ جامع حکمت عملی کا مقصد صرف فری لانسرز کی تعداد بڑھانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے، تربیت تک رسائی بڑھانے اور زیادہ قدر کے حامل بین الاقوامی منصوبے حاصل کرنے کی قابلیت میں اضافہ کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

Comments

200 حروف