اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی یہ تنبیہ کہ جبری طور پر بے گھر ہونے والے تقریباً 83 لاکھ افراد اہم امداد سے محروم ہوسکتے ہیں، اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسانی بحران خبروں کی سرخیوں سے غائب ہونے کے بعد ختم نہیں ہوتے۔ اس تعداد میں پناہ گزین، اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے افراد اور بے وطن لوگ شامل ہیں جن کی دستاویزات کے حصول، بچوں کے تحفظ، رہائش، روزگار کے ذرائع اور بنیادی سلامتی تک رسائی کا انحصار تیزی سے ایسے بین الاقوامی نظام پر ہوتا جا رہا ہے جو خود شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق اس کی دستیاب مالی معاونت 2024 میں 5.2 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2025 میں 3.9 ارب ڈالر رہ گئی جبکہ جبری طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بدستور غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ ادارے کو رواں سال اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے 8.5 ارب ڈالر درکار ہیں، تاہم جولائی کے اختتام تک اسے صرف 2.7 ارب ڈالر، یعنی مجموعی ضرورت کا 32 فیصد موصول ہوا تھا۔ یہ اعدادوشمار انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بڑھتی ضروریات اور ان کی تکمیل کے لیے دستیاب وسائل کے درمیان وسیع ہوتے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس مالی بحران کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ چاڈ میں لاکھوں پناہ گزینوں کو رجسٹریشن میں تاخیر کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ ضروری خدمات تک رسائی کے لیے درکار دستاویزات سے محروم رہ سکتے ہیں۔ ایتھوپیا کے بعض علاقوں میں بچوں کے تحفظ کی سہولتوں کی فراہمی میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ سوڈان میں جنسی تشدد سے متاثرہ افراد اور غیر محفوظ حالات سے دوچار بچوں کو تحفظ فراہم کرنے والی اہم خدمات سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد میں ایسے پروگرام اختیاری سہولتیں نہیں، بلکہ استحصال، بدسلوکی، انسانی اسمگلنگ اور تشدد کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جو پہلے ہی نقل مکانی اور عدم تحفظ کے تلخ تجربات سے گزر چکے ہیں۔ جب تحفظ کا نظام کمزور پڑتا ہے تو جن خطرات سے بچنے کے لیے لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے، وہی خطرات دورانِ نقل مکانی بھی دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔
2025 میں یو این ایچ سی آر کے تقریباً 5 ہزار ملازمین کی تعداد میں کمی، جو اس کے مجموعی عملے کے ایک چوتھائی سے بھی زیادہ ہے، وسائل میں کمی کے ادارہ جاتی اثرات کو مزید واضح کرتی ہے۔ ادارے نے اصلاحات کی ہیں اور اپنی انتہائی ضروری سرگرمیوں کو ترجیح دی ہے، تاہم صرف کارکردگی بہتر بنانے اور تنظیمِ نو کے ذریعے ایک حد سے زیادہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ تحفظ کے نظام کو مؤثر رکھنے کے لیے عملے، فعال اداروں اور مسلسل مالی معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں جبری طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 2024 کے اختتام پر 12 کروڑ 32 لاکھ سے کم ہو کر 2025 کے اختتام پر 11 کروڑ 78 لاکھ رہ گئی، تاہم یہ تعداد اب بھی انتہائی زیادہ ہے۔
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کو محض ہنگامی اخراجات کے بجائے استحکام میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کو دستاویزات کے حصول، تعلیم، بچوں کے تحفظ اور معاشی شمولیت کے مواقع فراہم کرکے ان کی مشکلات اور عدم تحفظ کو کم کیا جا سکتا ہے اور انہیں امداد پر انحصار سے بتدریج نجات دلانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس، ایسی معاونت اچانک ختم کرنے سے غربت اور عدم تحفظ میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں میزبان ممالک اور عالمی برادری کو مزید بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ غیر معینہ مدت تک انسانی ہمدردی کی امداد پر انحصار کرتے رہیں، بلکہ انہیں تحفظ اور ایسے مواقع فراہم کیے جائیں جن کی مدد سے وہ اپنی زندگیاں دوبارہ سنوار سکیں اور بالآخر خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
عطیہ دینے والی حکومتیں ہر انسانی بحران حل نہیں کرسکتیں، تاہم انہیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پناہ گزینوں کے لیے امداد میں کٹوتی محض معاونت کی مقدار کم نہیں کرتی بلکہ ان نظاموں کو بھی تباہ کر سکتی ہے جن کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ چنانچہ لاکھوں بے گھر افراد کے لیے مالی معاونت سے متعلق فیصلے محض بجٹ کے اعداد و شمار کا معاملہ نہیں ہیں۔ ان فیصلوں سے یہ طے ہو سکتا ہے کہ کسی بچے کو تحفظ ملے گا یا نہیں، کسی پناہ گزین کو قانونی دستاویزات حاصل ہوں گی یا نہیں، اور کسی خاندان کو وقار کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کا حقیقی موقع مل سکے گا یا نہیں۔
























Comments