افراتفری میں ڈوبنے کے بجائے اس کی لہر پر سوار ہونا سیکھیں، اسد عمر کا طلبہ کو مشورہ
- اے آئی کو خطرے کے بجائے مواقع کے طور پر اپنانے، محنت پر بھروسا رکھنے اور ناکامیوں سے سیکھنے پر زور؛ جامعہ کراچی میں میڈیاورس 26 کے مباحثے میں سیف حسن اور دیگر مقررین کا بھی اظہارِ خیال
سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر یقینی صورت حال سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے قبول کرنا سیکھیں، کیونکہ افراتفری سے نمٹنے کی صلاحیت کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے نئے مواقع کے دروازے کھول سکتی ہے۔
اسد عمر نے منگل کے روز جامعہ کراچی میں منعقدہ میڈیاورس کے تیسرے ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ غیر متوقع حالات پر قابو پانے کی کوشش کرنے کے بجائے ان میں بہتر کارکردگی دکھانے اور آگے بڑھنے کا ہنر سیکھیں۔
سرفنگ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جب ایک بہت بڑی لہر آتی ہے تو وہ افراتفری کی مانند ہوتی ہے۔ آپ یا تو اس لہر پر سوار ہونا سیکھ کر ایک سنسنی خیز تجربے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں یا پھر اس میں ڈوب سکتے ہیں۔‘‘
اسد عمر نے یہ بات ’’افراتفری میں توازن: غیر یقینی صورت حال سے نمٹنے پر گفتگو‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پینل مباحثے کے دوران کہی۔ اس مباحثے میں ٹیلی ویژن ڈائریکٹر اور اداکار سیف حسن، برطانوی نژاد پاکستانی اداکار علی خان اور کانٹینٹ کریئیٹر و سماجی کاروباری شخصیت اسامہ ناصر بھی شریک تھے، جبکہ اس کی نظامت فوشیا میگزین کی بانی رابعہ مغنی نے کی۔
یہ پینل مباحثہ میڈیاورس 26 کا حصہ تھا، جس کا اہتمام جامعہ کراچی کے شعبۂ ابلاغِ عامہ نے ’’افراتفری میں نظم و ضبط‘‘ کے موضوع کے تحت کیا۔ تقریب جامعہ کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز کے پروفیسر سلیم الزماں صدیقی آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات پر گفتگو کے دوران اسد عمر نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو خطرے کے بجائے ایک موقع کے طور پر دیکھیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہر شخص کے لیے مصنوعی ذہانت کے پروگرام ڈیزائن کرنے کا ماہر بننا ضروری نہیں، لیکن ہر شخص کو اپنے بہترین مفاد میں اے آئی استعمال کرنا آنا چاہیے۔ اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
ٹیلی ویژن ڈائریکٹر سیف حسن نے بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ تفریحی صنعت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت ایک انتہائی مفید ذریعہ ہے اور ہم اسے پہلے ہی پروڈکشن میں استعمال کر رہے ہیں۔‘‘
اپنے حالیہ ڈرامے ’’آپ کی عزت‘‘ کے ایک منظر کا حوالہ دیتے ہوئے سیف حسن نے بتایا کہ اس کی تیاری میں اے آئی استعمال کی گئی تھی۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی صنعت سے وابستہ افراد کی جگہ لینے کے بجائے پروڈکشن کے مراحل کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم، کانٹینٹ کریئیٹر اسامہ ناصر نے خبردار کیا کہ اے آئی کی سہولت کو آزادانہ سوچ کی قیمت پر قبول نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے احساس ہوا ہے کہ حالیہ دنوں میں میں چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی اے آئی پر انحصار کرنے لگا ہوں۔ اے آئی ہمیں کام تیزی سے مکمل کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم اب بھی اپنے ذہن کی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال کر رہے ہیں؟‘‘
اسامہ ناصر نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ٹیکنالوجی کو سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کام میں تیزی لانے کی کوشش سیکھنے، تخلیقی صلاحیتوں اور تنقیدی سوچ کی قیمت پر نہ ہو۔
مباحثے میں ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ناکامیوں سے نمٹنے اور ایسے حالات کا سامنا کرنے میں روحانیت کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی جن پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔
سیف حسن نے اس بات پر زور دیا کہ ایمان اور محنت ساتھ ساتھ چلنے چاہییں۔ ان کے مطابق دعا کو کوشش کا متبادل بنانے کے بجائے محنت کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’میں محنت پر یقین رکھتا ہوں۔ آپ کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے اور پھر دعا کرنی چاہیے۔ میں اپنے طلبہ سے کہتا ہوں کہ محنت کرنا لاٹری کا ٹکٹ خریدنے کے مترادف ہے۔ جیتنے کی امید رکھنے سے پہلے آپ کو ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔‘‘
اپنے پیشہ ورانہ تجربات کا ذکر کرتے ہوئے اسامہ ناصر نے بتایا کہ ناکامیوں نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ان کے کام سے دوسرے لوگوں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت بھی اجاگر کی کہ ماضی کے تجربات یا مستقبل کی غیر یقینی صورت حال میں الجھنے کے بجائے انسان کو حال میں جینا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’جب آپ حال میں جیتے ہیں تو بار بار ماضی میں جانے یا مستقبل کے بارے میں فکرمند رہنے سے بچ جاتے ہیں۔ آپ اپنا کام کرتے ہیں، جو کچھ کرنے کی ضرورت ہو وہ کرتے ہیں اور پھر نتیجے سے خود کو الگ کر لیتے ہیں۔‘‘
اداکار علی خان نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مشکل حالات کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا جواز نہ بنائیں۔
انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں آج کے نوجوانوں کے لیے بہت سے معاملات میں زندگی ہمارے مقابلے میں کچھ آسان ہے۔ اسی وجہ سے ان کے لیے بہانے بنانا بھی آسان ہو سکتا ہے۔ میں روایتی اندازِ فکر پر یقین رکھتا ہوں۔ افراتفری کو بہانہ نہ بنائیں۔ اگر آپ کے اردگرد حالات بدنظمی کا شکار محسوس ہوں تو یاد رکھیں کہ خود کو پُرسکون کرنے کے بہت سے طریقے موجود ہیں۔‘‘
غیر یقینی مستقبل سے نمٹنے کے طریقوں پر دوبارہ بات کرتے ہوئے اسد عمر نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مالی کامیابی اور کامیابی کے روایتی پیمانوں سے آگے بڑھ کر سوچیں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ غور کریں کہ وہ زندگی سے حقیقتاً کیا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اپنے ذاتی عزائم اور اقدار کو سمجھنا بامعنی مواقع کی شناخت کے لیے ضروری ہے۔
غیر یقینی صورت حال اور نقطۂ نظر کا موضوع ’’ورس ٹاکس‘‘ کے دوران بھی زیرِ بحث آیا، جہاں ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹر جنید اکرم، جو گنجی سوئگ کے نام سے مشہور ہیں، نے بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ مشکل تجربات کس طرح معنی اختیار کر سکتے ہیں۔
جنید اکرم نے بچپن کی ایک یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایک اسکول وین پر ’’ہارنا کوئی آپشن نہیں‘‘ کے الفاظ لکھے دیکھے تھے۔ اس وقت وہ اس پیغام کو پوری طرح نہیں سمجھ سکے تھے، لیکن یہ بات زندگی بھر ان کے ذہن میں رہی۔
انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی مشکلات کو صرف اس وقت کے احساسات کی بنیاد پر نہ پرکھیں، کیونکہ جو تجربات ابتدا میں مایوس کن دکھائی دیتے ہیں، وہ بعد میں زندگی کے اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’آج جس افراتفری کو آپ محسوس کر رہے ہیں، یہی کل آپ کے سکون کی وجہ بنے گی۔‘‘
تقریب میں ڈیف ریچ کے طلبہ نے پاکستان کا قومی ترانہ اشاروں کی زبان میں پیش کیا، جس سے خصوصی افراد کی شمولیت اور نمائندگی کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔
میڈیاورس میگزین کی بانی اور مدیر سیدہ مونا بتول کی رہنمائی میں منعقدہ اس تقریب کے ساتھ طلبہ کی جانب سے شروع کیے گئے اس اقدام کا تیسرا ایڈیشن مکمل ہوا۔
میڈیاورس کا آغاز 2024 میں ایک تعلیمی منصوبے کے طور پر کیا گیا تھا۔
2025 میں اس کا دوسرا ایڈیشن ’’تبدیلی کے لیے میڈیاورس‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہوا، جس میں سماجی تبدیلی، تنوع اور رسائی جیسے موضوعات پر توجہ دی گئی تھی۔ رواں سال کی تقریب میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ تیزی سے غیر متوقع ہوتی دنیا میں افراد کس طرح اپنی زندگی کے لیے سمت اور مقصد تلاش کر سکتے ہیں۔

























Comments