بچت کرنے والا ہی قیمت چکاتا ہے —دوم
- "نجکاری کا مقصد ایسا مالیاتی نظام تشکیل دینا تھا جو عوام کی بچتیں جمع کرے، بچت کنندگان کو منصفانہ منافع دے اور اس رقم کو کاروبار اور پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کرے۔"
پاکستان کا بینکاری نظام مضبوط، منافع بخش اور محفوظ حصار میں ہے، لیکن ملک کا مالیاتی نظام محدود گہرائی رکھتا ہے۔ ظفر مسعود اس صورت حال کا ذمہ دار ’’معاشی ماحول‘‘ کو ٹھہراتے ہیں، جس میں بجٹ خسارہ، غیر رسمی معیشت اور ٹیکس دہندگان کی محدود تعداد شامل ہیں۔ تاہم، اس معاشی ماحول کی تشکیل میں خود بینکاروں کا بڑا کردار رہا ہے، جو گزشتہ ربع صدی کے دوران وزارتِ خزانہ میں خدمات انجام دیتے، مرکزی بینک کے بورڈ میں شامل رہتے اور نگران اداروں میں تعینات ہوتے رہے ہیں۔ آج بینکوں کے پاس حکومتی تمسکات کا 83 فیصد موجود ہے، جبکہ ان کی سرمایہ کاری ان کے ڈپازٹس سے بھی بڑھ چکی ہے۔
نئے بینکوں کا مارکیٹ میں داخلہ شاذونادر ہی ممکن ہوتا ہے، جبکہ کمزور بینکوں کا خاتمہ عموماً دوسرے بینکوں میں ضم ہونے سے ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری کے دیگر تمام راستے بھی بالآخر کسی نہ کسی بینک سے ہو کر گزرتے ہیں۔ اس بندوبست کی قیمت کوئی نہ کوئی ادا کرتا ہے، اور وہ ہے بچت کرنے والا عام شہری۔
مالیاتی جبر
یہ مالیاتی جبر ہے، جس میں بچت کرنے والے شہری بالواسطہ ٹیکس کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ خود نگران ادارہ بھی ماضی میں اس حقیقت کا اعتراف کر چکا ہے۔ 2008 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کو بینکوں کے لیے لازم قرار دینا پڑا تھا کہ وہ ڈپازٹس پر بچت کنندگان کو کم از کم منافع ادا کریں، کیونکہ بینکوں کی منڈی پر گرفت کے باعث وہ انہیں نہ ہونے کے برابر منافع دے رہے تھے۔ اس وقت پالیسی ریٹ اور بچت کنندگان کو ملنے والے منافع کے درمیان فرق تقریباً ساڑھے نو فیصد پوائنٹس تھا۔
گزشتہ دو برس کے دوران اس ضابطے کو بتدریج ختم کیا جاتا رہا ہے۔ جنوری 2025 سے کم از کم منافع کی شرط کارپوریٹ اور ادارہ جاتی ڈپازٹس پر لاگو نہیں رہی، جو فہرست شدہ بینکوں کے مجموعی ڈپازٹس کے نصف سے زیادہ ہیں۔ رواں سال اگست سے یہ شرط ٹرسٹس، نجی کمپنیوں اور ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے انفرادی ڈپازٹس پر بھی ختم کر دی گئی ہے۔ مالیاتی صحافت نے اس اقدام کو درست طور پر بینکوں کے بھاری ٹیکسوں کے عوض انہیں دی جانے والی رعایت قرار دیا، جس کی قیمت ڈپازٹ رکھنے والوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
مہنگائی کے دوران اس پالیسی کے نقصانات سب سے زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ مئی 2023 میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جبکہ پالیسی ریٹ 21 فیصد تھا اور ڈپازٹس پر منافع کی شرح اس سے بھی کم تھی۔ نتیجتاً بچت کرنے والوں کی رقم کی حقیقی قوتِ خرید ایک سال میں خاموشی سے تقریباً پانچواں حصہ گھٹ گئی، اور یہ نقصان بینکاری نظام کے ذریعے ان تک منتقل ہوا۔ آج حقیقی ڈپازٹ ریٹس ایک بار پھر مثبت ہیں، لیکن جس نظام نے بچت کرنے والوں کو اس نقصان سے دوچار کیا، اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
ایس بی پی جولائی میں متعارف کرائے گئے ’انویسٹ پاک‘ پلیٹ فارم کی نشاندہی کرے گا، جس کے ذریعے کوئی بھی شخص پانچ ہزار روپے سے حکومتی تمسکات آن لائن خرید سکتا ہے۔ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے، مگر اس میں تیس سال کی تاخیر ہوئی ہے۔ اس پلیٹ فارم پر صرف حکومت کے اپنے تمسکات خریدے جا سکتے ہیں، اور اس کے استعمال کے لیے بھی بینک اکاؤنٹ ضروری ہے۔ مزید یہ کہ اسے اسی سرکلر کے ذریعے متعارف کرایا گیا جس میں ڈپازٹ رکھنے والوں کو حاصل تحفظ ختم کیا گیا، اس دلیل کے ساتھ کہ جو افراد ٹریژری بلز خرید سکتے ہیں، انہیں کم از کم منافع کی ضمانت کی ضرورت نہیں۔ یوں ایک طرف حکومت میں سرمایہ کاری کا دروازہ کھولا گیا، تو دوسری طرف بچت کنندگان کا ایک اہم تحفظ ختم کر دیا گیا۔
نجی کاروبار میں سرمایہ کاری کے لیے بچت کنندگان کو جو متبادل راستے میسر ہونے چاہییں، وہ اب بھی بند ہیں یا بالآخر کسی بینک ہی سے جا ملتے ہیں۔ ان میں منافع دینے والے ڈیجیٹل بٹوے، مدت پوری ہونے پر رقم واپس کرنے والے ڈپازٹس قبول کرنے والی مالیاتی کمپنیاں، آزاد سرمایہ کاری فنڈز اور کارپوریٹ بانڈز شامل ہیں۔
نتیجتاً بچت کرنے والے یا تو اپنی رقم استعمال کیے بغیر پڑا رہنے دیتے ہیں یا اسے بینکاری نظام سے باہر منتقل کر دیتے ہیں۔ مالی سال 2026 کے اختتام پر زیرِ گردش نقد رقم تقریباً 12 کھرب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ باقی رقم کا بڑا حصہ زمین کے پلاٹوں، سونے اور ڈالرز کی صورت میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ یوں وہ سرمایہ جو کاروباری اداروں کی مالی ضروریات پوری کر سکتا تھا، غیر پیداواری شکلوں میں پڑا رہتا ہے۔
آسان بینکاری
بینکوں کے لیے یہ نہایت آسان کاروبار ہے۔ انہیں کم لاگت پر ایسے ڈپازٹس دستیاب ہیں جنہیں صارفین آسانی سے کہیں اور منتقل نہیں کر سکتے، جبکہ حکومت انہیں دوہرے ہندسوں میں شرحِ منافع پر قرض لیتی ہے۔ ایسے میں بینکوں کو نہ قرض لینے والوں کی تلاش کرنا پڑتی ہے، نہ قرض کے خطرات کا درست تخمینہ لگانا اور نہ ہی نئی مالیاتی مصنوعات متعارف کرانا ضروری ہوتا ہے۔ 2024 میں ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو (اے ڈی آر) پر ٹیکس نے ثابت کیا کہ دباؤ ڈالنے پر بینک قرض فراہم کر سکتے ہیں، لیکن بیشتر وقت انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
حکومت کے اپنے مفادات بھی ہیں جن کے باعث وہ اس صورت حال کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ 2025 کی پہلی ششماہی میں بینکوں نے اپنے قبل از ٹیکس منافع کا 54.5 فیصد ٹیکس ادا کیا، جو کئی برس کی بلند ترین شرح تھی۔ جب حکومت بینکوں کے منافع کا نصف سے زیادہ حصہ ٹیکس کی صورت میں وصول کرتی ہو تو اس کے پاس ان منافعوں کو بلند رکھنے کی مضبوط وجہ موجود ہوتی ہے۔ ظفر مسعود بینکوں پر ٹیکسوں کی شکایت کرتے ہیں، لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان ٹیکسوں کے بدلے حکومت کو کیا حاصل ہوتا ہے: ایسی حکومت جس کا مفاد اسی نظام کو برقرار رکھنے میں وابستہ ہے جو نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی محدود رکھتا ہے۔
اس صورت حال کی وضاحت کے لیے کسی خفیہ سازش کی ضرورت نہیں، اس لیے میں ’’کارٹل‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال نہیں کرتا۔ جب حکومت اپنے ہی نیلامی کے نظام کے ذریعے قرض لیتی ہو اور بینکوں کے بیشتر اثاثے حکومتی قرضوں کی صورت میں موجود ہوں تو محفوظ اجارہ دارانہ منڈی کو برقرار رکھنے کے لیے خفیہ ملاقاتیں ضروری نہیں ہوتیں۔ ظفر مسعود کے اپنے اعداد و شمار بھی یہی ظاہر کرتے ہیں۔ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے نیچے آنے کے ساتھ بینکوں کا خالص شرحِ سود مارجن تقریباً 5.8 فیصد سے گھٹ کر 4.5 فیصد رہ گیا۔ حکومت سے قرض لینے کی لاگت کے ساتھ بینکوں کے منافع میں ہونے والی تبدیلی واضح کرتی ہے کہ ان کے منافع کا بڑا ذریعہ حکومت ہی ہے۔ اس ضمن میں لندن کے ان بینکوں سے ان کا موازنہ موزوں نہیں جو بینک آف انگلینڈ سے قرض لے کر برطانوی حکومتی بانڈز خریدتے ہیں، کیونکہ دونوں منڈیوں کا حجم اور ساخت مختلف ہے۔
برطانیہ میں پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں اور غیر ملکی سرمایہ کار حکومتی بانڈز کی منڈی کا بڑا حصہ رکھتے ہیں، اور بینکوں کے لیے اس کاروبار سے حاصل ہونے والا منافع ضمنی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے: یہی بینکوں کا بنیادی کاروبار بن چکا ہے۔
ان کی تین تجاویز
ظفر مسعود نے اپنے مضمون کے اختتام پر تین تجاویز پیش کی ہیں۔ پہلی تجویز یہ ہے کہ قانون کے ذریعے حکومت کے بینکوں سے قرض لینے کی حد مقرر کر دی جائے۔ لیکن یہ طریقہ کارگر نہیں ہوگا، بالکل اسی طرح جیسے قرض کی مجموعی حد مقرر کرنے کے اقدامات اکثر ناکام رہتے ہیں۔ جس حکومت کو رقم درکار ہو، وہ مقررہ حد سے بچ نکلنے کا راستہ تلاش کر لیتی ہے۔
ٹیکسوں کے معاملے میں ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ موجودہ نظام پیچیدہ ہے اور اس کا انحصار بلند اور من مانے نرخوں پر ہے۔ تاہم، بینکوں کے لیے ٹیکس کی شرح کم کر دینا بذاتِ خود ٹیکس پالیسی نہیں ہے۔ پاکستان میں مالیاتی پالیسی بنانے والوں تک رسائی رکھنے والا وہی بااثر حلقہ وسیع بنیادوں پر منصفانہ ٹیکس نظام متعارف کرانے کے لیے سب سے زیادہ موزوں حیثیت رکھتا ہے۔
ان کی تیسری تجویز دستاویزی مالیاتی ریکارڈ رکھنے والے قرض گیروں کے لیے حکومت کی جانب سے ابتدائی نقصان کی ضمانت فراہم کرنے سے متعلق ہے۔ اس انتظام میں خطرہ حکومت کے ذمے آ جائے گا، لیکن بینکاری صنعت کی بنیادی ساخت بدستور برقرار رہے گی۔
کیا تبدیل ہونا چاہیے؟
نئے اداروں کے داخلے کا راستہ کھولا جائے۔ بینکوں کے لائسنس جاری کرنے کے معیار اور فیصلوں کے لیے مقررہ مدت شائع کی جائے۔ مخصوص شعبوں کے لیے کام کرنے والے اداروں کو اجازت دی جائے، مثلاً چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو قرض دینے والے ادارے، رہائشی قرضوں کے بینک اور علاقائی بینک۔ ان کے لیے سرمایہ کی کم از کم شرط ان کے خطرات کے مطابق مقرر ہونی چاہیے، نہ کہ ہر ادارے پر یکساں ایک ارب روپے کی شرط عائد کر دی جائے۔ ڈیجیٹل بینکوں کو مکمل بینکاری کی اجازت دی جائے جو اس کے لیے تیار ہیں، اور نئے اداروں کو لائسنس دینے کا اگلا مرحلہ بھی شروع کیا جائے۔
کمزور بینکوں کے منظم اخراج کی اجازت دی جائے۔ ایسے بینکوں کو ڈپازٹ تحفظ اسکیم کے ذریعے حل کیا جائے، جس میں ڈپازٹ رکھنے والوں کی رقم محفوظ رہے، حصص داروں کی سرمایہ کاری ختم کی جا سکے اور کمزور بینکوں کو جلد بازی میں کسی بڑے بینک کے ساتھ ضم کرنے سے گریز کیا جائے۔ ہر بینک انضمام کی جانچ کے لیے خودمختار اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلنے والا مسابقتی کمیشن ہونا چاہیے۔
حکومتی قرضوں کی منڈی کھولی جائے۔ غیر بینکاری اداروں کو پرائمری ڈیلر بننے کی اجازت دی جائے۔ پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں اور اثاثہ جاتی انتظام کے اداروں کو سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) کے ذریعے حکومتی تمسکات کی نیلامی میں براہِ راست حصہ لینے کا اختیار دیا جائے۔
بچتوں کے حصول میں غیر بینکاری اداروں کو بھی مقابلے کا موقع دیا جائے۔ الیکٹرانک رقم کے اداروں کو اجازت دی جائے کہ وہ صارفین کی جانب سے جمع کرائی گئی رقوم کا کچھ حصہ ٹریژری بلز میں رکھ سکیں اور اس سے حاصل ہونے والا منافع صارفین کے ساتھ بانٹیں۔ مناسب سرمایہ رکھنے والی غیر بینکاری مالیاتی کمپنیوں کو محتاط ضابطہ جاتی حدود کے اندر مدت پوری ہونے والے ڈپازٹس قبول کرنے اور کمرشل پیپر جاری کرنے کی اجازت دی جائے۔ قرض دینے والے ہر لائسنس یافتہ ادارے کو کریڈٹ بیورو اور ادائیگیوں کے اعداد و شمار تک وہی رسائی حاصل ہونی چاہیے جو بینکوں کو حاصل ہے۔
ڈپازٹس پر کم از کم منافع کی ضمانت بحال کی جائے اور اسے اس وقت تک برقرار رکھا جائے جب تک ڈپازٹس کے حصول میں حقیقی مسابقت پیدا نہیں ہو جاتی۔ پہلے تحفظ ختم کر کے بعد میں مسابقت پیدا ہونے کی امید لگانا درست حکمتِ عملی نہیں۔
سرمایہ کاری کے لیے رقوم جمع کرنے اور انہیں فروخت کرنے کے عمل کو الگ کیا جائے۔ جو بینک میوچل فنڈز تقسیم کرتا ہے، اسے تیسرے فریق کے فنڈز بھی مساوی شرائط پر پیش کرنے چاہییں اور ہر فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیلات ظاہر کرنی چاہییں۔
زرمبادلہ کی منڈی میں بھی مسابقت پیدا کی جائے۔ ایکسچینج کمپنیوں کو راست کے ذریعے براہِ راست لین دین طے کرنے کی اجازت دی جائے، ضابطوں کا اطلاق خطرات کی نوعیت کے مطابق ہو اور زرِ مبادلہ کی خرید و فروخت کی شرحوں میں فرق بھی عوام کے سامنے رکھا جائے۔
بینکوں، مرکزی بینک اور وزارتِ خزانہ کے درمیان عہدوں کے تبادلے کے عمل کو شفاف بنایا جائے۔ بورڈز میں تقرریوں اور پالیسی سازی سے متعلق عہدوں کی تفصیلات ظاہر کی جائیں، جبکہ بینکوں کے بورڈز، مرکزی بینک اور وزارتِ خزانہ کے درمیان عہدوں کی تبدیلی کے لیے لازمی وقفہ مقرر کیا جائے۔
ان تمام اقدامات سے پہلے مسابقتی کمیشن اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو ماہرینِ معاشیات کے اشتراک سے بینکاری گروپس کی منڈی کا جامع جائزہ لینا چاہیے۔ اس جائزے میں قرضوں کی فراہمی، سرمایہ کاری فنڈز، زرمبادلہ اور حکومتی تمسکات کے شعبوں میں بینکوں کی پوزیشن کا تجزیہ کیا جائے، جبکہ فیسوں، شرحوں میں فرق اور منڈی میں ہر ادارے کے حصے کی تفصیلات بھی شائع کی جائیں۔ اگر بینکاری صنعت واقعی اتنی کھلی اور مسابقتی ہے جتنا ظفر مسعود سمجھتے ہیں، تو اسے ایسے جائزے سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
بیلچہ
ظفر مسعود کا کہنا ہے کہ حکومتی قرضوں کے لیے بینکوں کو ذمہ دار ٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسے کسی ذخیرۂ آب کو ڈیم کے حجم کا ذمہ دار قرار دینا۔ یہ ایک اچھی مثال ہے، لیکن ذخیرۂ آب اپنے ٹیکس بلوں پر عدالت سے رجوع نہیں کرتا، اپنے لیے بنائے جانے والے ضابطوں پر مذاکرات نہیں کرتا اور نہ ہی اپنے سابق ملازمین کو اس وزارت میں بھیجتا ہے جو ڈیم تعمیر کرتی ہے۔
نجکاری کا مقصد ایسا مالیاتی نظام تشکیل دینا تھا جو عوام کی بچتیں جمع کرے، ڈپازٹ رکھنے والوں کو منڈی کے مطابق منصفانہ منافع دے اور اس رقم کو کاروبار اور پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کرے۔ اس کے بجائے ہمیں مضبوط اور منافع بخش بینک ملے ہیں۔ یہ اصلاحات کا صرف نصف حصہ ہے۔ میں اس عمل کو واپس پلٹنا نہیں چاہتا، بلکہ اسے مکمل ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔ جس طبقے نے اس نظام کی بنیاد رکھی، اب اسے ہی اسے درست کرنے کے لیے بیلچہ اٹھانا چاہیے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments