وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام ایک خط میں جو میڈیا کے ایک حلقے میں لیک ہوا ہے، ترقیاتی اخراجات میں کمی اور مزید قرضے لے کر مالی استحکام حاصل کرنے کی حکمت عملی پر انتہائی سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کے جائزے کی صداقت ثابت کرنے کیلئے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ رواں مالی سال پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اخراجات کے لیے مجموعی بجٹ کا 5 فیصد مختص کیا گیا جو 18.771 ٹریلین روپے کے مجموعی بجٹ میں سے ایک ٹریلین روپے بنتا ہے۔ اس کے برعکس گزشتہ مالی سال مجموعی بجٹ کا 6.25 فیصد ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیا گیا تھا جو 167 ٹریلین روپے کے مجموعی بجٹ میں سے ایک ٹریلین روپے تھا، تاہم دستاویزات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ترقیاتی اخراجات کی مختص رقم میں کتنی کٹوتی کی گئی، حالانکہ معمول کے مطابق خصوصاًآئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط کے مطابق مالیاتی خسارے کو پائیدار سطح پر رکھنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔
اس تناظر میں وزیر موصوف کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی جماعت کی بعض بنیادی ترجیحات پر نظرثانی کریں، بالخصوص سڑکوں کی تعمیر پر، جسے ملک کے اندر رابطوں کے فروغ کے لیے اہم اور ووٹ حاصل کرنے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس امر کو یقینی بنانے کے لیے احتیاط برتنا ضروری ہے کہ سڑکوں کی تعمیر سے متعلق خریداری اور ٹھیکوں کی فراہمی کے عمل پر سختی سے قواعد و ضوابط کی پابندی کی جائے تاکہ اقربا پروری اور بدعنوانی کے الزامات کو کم کیا جاسکے۔
پاکستان کو پانی کی شدید قلت سے دوچار ملک قرار دیے جانے کے پیش نظر آبی ذخائر کی تعمیر کی فوری ضرورت ہے۔ لہٰذا پی ایس ڈی پی کے لیے مختص محدود وسائل کا زیادہ حصہ اس ذیلی شعبے میں سرمایہ کاری پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔
نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کا تصور جس کی کابینہ بشمول وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی زبانی طور پر حمایت کرتے ہہیں، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں منفی رجحان کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ یکم جولائی سے 11 ستمبر 2026ء کے دوران نجی شعبے کے قرضوں کے خالص بہاؤ میں 364.5 ملین روپے کی منفی رقم ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ سال یکم جولائی سے 12 ستمبر 2025ء کے دوران یہ منفی رقم 170 ملین روپے تھی۔
یہ درست ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (ایل ایس ایم) کے شعبے نے مالی سال 2027ء کے جولائی میں 3 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی جبکہ مالی سال 2026ء میں یہ شرح 4.98 فیصد تھی، تاہم مختلف صنعتی پیداواری یونٹس نے ان اعدادوشمار کو چیلنج کیا ہے۔ بالخصوص برآمدات کے ایک بڑے شعبے ٹیکسٹائل انڈسٹری نے بزنس ریکارڈر کے ایک غیر رسمی سروے میں 150 صنعتی یونٹس کی بندش کی شکایت کی۔ دیگر بڑے صنعتی شعبوں نے بھی پیداواری لاگت میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے جس میں شرح سود کا 11.5 فیصد ہونا بھی شامل ہے جو خطے کی اوسط شرح سے دوگنا ہے۔ اس صورت حال نے پاکستانی مصنوعات کو علاقائی منڈیوں میں غیر مسابقتی بنادیا ہے جبکہ بعض صورتوں میں مقامی منڈیوں میں بھی ان کا مقابلہ مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ طویل اور غیر محفوظ سرحدیں ایک بار پھر اسمگلنگ کے لیے سازگار راستہ بن گئی ہیں۔
قرضوں میں اضافے پر احسن اقبال کی تشویش بھی بجا ہے۔ قرضوں کے انتظام سے متعلق حکومتی پالیسی کا محور قلیل مدتی ٹریژری بلز پر انحصار کم کرکے درمیانی اور طویل مدتی قرضوں کی جانب منتقل ہونا ہے جن پر شرح منافع زیادہ ہوتی ہے، تاہم ان کی اصل ادائیگی کی مدت نسبتاً آگے ہوتی ہے۔
حال ہی میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کا دو حصوں پر مشتمل کامیاب اجرا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان میں سے 1.75 ارب ڈالر کے بانڈز کی مدت ساڑھے پانچ سال اور شرح منافع 7.5 فیصد ہے جبکہ باقی 1.25 ارب ڈالر کے بانڈز کی مدت 10 سال اور شرح منافع 7.9 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ تاہم یہ شرح مستقبل میں سنگین مسائل پیدا کرسکتی ہیں، جب ان قرضوں کی ادائیگی کی مدت قریب آئے گی، خصوصاً اگر ملک معاشی عروج و زوال کے چکر میں پھنسا رہا اور بجٹ کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار برقرار رہا۔
ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے مطابق جون 2026ء کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض 86.7 ٹریلین روپے تھا جس میں 59.4 ٹریلین روپے کا مقامی اور 27.3 ٹریلین روپے کا بیرونی قرض شامل ہے۔
رواں مالی سال کے بجٹ میں قرضوں کی مد میں مختص رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رکھی گئی ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ سال کے اختتام پر بھی صورت حال ایسی ہی رہے۔ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں خالص بیرونی وسائل کا تخمینہ 105,523 ملین روپے لگایا گیا تھا، لیکن نظرثانی شدہ تخمینوں میں یہ رقم بڑھ کر غیر معمولی طور پر 1,534,027 ملین روپے ہوگئی۔ رواں مالی سال کے لیے اس مد میں 813,057 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید دعویٰ کیا کہ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا اور افغانستان پر مشتمل خطے کے غریب افراد میں سے ہر دو میں ایک پاکستان میں رہتا ہے۔
سیاسی نقطۂ نظر سے احسن اقبال کا شاید سب سے اہم انتباہ یہ تھا کہ حکومت کو اگلے انتخابی دور کے آغاز سے پہلے اپنی معاشی ترقی کی سمت تبدیل کرنا ہوگی تاکہ وہ ووٹرز کے سامنے محض یہ کہنے کے بجائے کہ ہمیں معاشی بحران ورثے میں ملا، حقیقی نتائج پیش کرسکے۔
ان کا مؤقف اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ ایک ایسا فورم قائم کیا جائے جہاں وزارتِ خزانہ مالی سال 2028-29ء تک کے بنیادی تخمینے پیش کرنے کی پابند ہو۔ ان تخمینوں میں متوقع شرح نمو، معیشت کی ممکنہ صورت حال اور آئی ایم ایف پروگرام کے بعد درمیانی مدت کے لیے ایک قابلِ اعتبار معاشی منظرنامہ شامل ہونا چاہیے۔
تاہم آئی ایم ایف بھی جاری پروگرام کے تحت اپنی سہ ماہی جائزہ دستاویزات میں اور وزارتِ خزانہ بھی اپنے معمول کے فرائض کے حصے کے طور پر پہلے ہی ایسے معاشی تخمینے تیار کرتی ہیں۔
اس سے زیادہ مؤثر تجویز یہ ہوتی کہ وزیرِ منصوبہ بندی، وزارتِ خزانہ پر زور دیتے کہ وہ آئی ایم ایف کے عملے کے ساتھ مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے ایک اختراعی اور داخلی حکمتِ عملی وضع کرے۔ اس حکمتِ عملی میں رواں مالی سال اور آئندہ دو برسوں کے دوران جاری اخراجات میں 2 سے 3 ٹریلین روپے کی بھاری کٹوتی شامل ہونی چاہیے تاکہ معیشت کو بلند اور سب کی شمولیت پر مبنی شرح نمو کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ضروری تحریک فراہم کی جا سکے۔























Comments