جائزہ مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے متعلق تجویز پر امریکی جواب دے گا، ایران
- مذاکرات میں زیرِ بحث ترجیحات پر اختلافات کے باعث تعطل برقرار ہے
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی تجویز پر امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔ جائزہ مکمل ہونے کے بعد ایران ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جواب دے گا۔
پریس کانفرنس میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ قطر اور پاکستان سمیت متعدد ممالک 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ ختم کرانے کی کوششوں میں ثالثی کر رہے ہیں۔
جون میں عارضی جنگ بندی ختم ہونے اور دوبارہ حملے شروع ہونے کے بعد ایران نے ستمبر کے وسط میں اپنی تجویز پیش کی تھی، جس پر امریکی جواب موصول ہونے کی تصدیق بھی کی گئی۔ تاہم مذاکرات میں پیش رفت رک گئی ہے۔ ایران کے سکیورٹی سربراہ نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکی جواب آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات بحال کرنے سے متعلق ایران کی سات شرائط کو مناسب طور پر پورا نہیں کرتا۔
اختلاف کی بنیادی وجہ امریکا کا ایران کے جوہری پروگرام پر ابتدا ہی سے بات چیت پر اصرار ہے، جبکہ تہران پہلے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور وہاں سلامتی بحال کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ جنگ سے قبل عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچواں حصہ تجارت اسی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔
دوسری جانب اسماعیل بقائی نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کا مسئلہ اقوام متحدہ کے روڈ میپ کے تحت بہت پہلے حل ہو جانا چاہیے تھا اور تہران یمنیوں اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے کی حمایت کرے گا۔






















Comments