گورنر کی اعلیٰ حکام سے ملاقات ’غیر آئینی قرار‘، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے قانونی رائے طلب کرلی
- این ایف سی میں حصہ، قبائلی اضلاع کے مالی حقوق اور صوبے کے واجبات کا مطالبہ
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بدھ کو گورنر کی جانب سے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو سکیورٹی اجلاس میں طلب کرنے کے اقدام کو ’غیر آئینی اور جمہوریت پر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس معاملے پر قانونی رائے لے گی۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت، صوبائی اسمبلی اور کابینہ مکمل طور پر فعال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا آئینی طریقہ عدم اعتماد کی تحریک ہے۔
انہوں نے کہا، ’’صوبائی حکومت گورنر کے اقدام پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لے گی اور جمہوری نظام کے خلاف غیر آئینی اقدامات برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایک سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی، جس میں چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ جاری دہشت گردی، جرائم اور امن و امان کے چیلنجز کے تناظر میں کسی قسم کی غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے اور کہا کہ سیاسی سرگرمیاں سکیورٹی کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئیں۔
دریں اثناء وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی سکیورٹی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 22 برس کے دوران انٹیلی جنس بنیادوں پر ہزاروں کارروائیوں، 22 بڑی فوجی کارروائیوں اور 80 ہزار جانوں کے ضیاع کے باوجود پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔
انہوں نے موجودہ سکیورٹی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے تو صوبائی حکومت 100 روز کے اندر صوبے میں امن قائم کرسکتی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت صوبے کی سکیورٹی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنا رہی ہے۔
انہوں نے صوبے کے واجب الادا بقایاجات، قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبے کے حصے اور قبائلی اضلاع کے مالی انضمام کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی پالیسیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے قبائلی عوام کے مالی حقوق اور معاوضے کی مکمل ادائیگی تاحال نہیں کی گئی، جبکہ صوبائی حکومت اب تک بے گھر افراد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کرچکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے صوبائی وزرا اور پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف مبینہ اقدامات کو حکومت کو اشتعال دلانے کی کوششیں قرار دیا، تاہم کہا کہ ان کی حکومت پُرامن رہے گی اور آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرے گی۔
انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ ایسے کسی حکم پر عمل نہ کریں جسے وہ غیر آئینی یا غیر قانونی سمجھتے ہوں۔ انہوں نے پولیس حکام کی جانب سے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی فوری تحقیقات کا بھی حکم دیتے ہوئے ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔






















Comments