ایران کا امریکا کو پیغام، مشرق وسطیٰ جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں
- صرف انصاف اور منصفانہ بنیادوں پر ہونے والے مذاکرات ہی تنازع ختم کرسکتے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران کے اعلیٰ سفارت کار نے اتوار کو اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ کے خلاف امریکہ کی جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں نکل سکتا جبکہ تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے اواخر میں شروع کی گئی جنگ کے دوران شدید بمباری کی مہم بھی جنگ کا فیصلہ کن اختتام لانے میں ناکام رہی جبکہ واشنگٹن نے حالیہ ہفتوں میں فوجی کارروائیوں میں کمی کرتے ہوئے معاشی دباؤ بڑھانے کو ترجیح دی ہے۔
تنازع کا بنیادی نکتہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی ایران کی کوشش ہے جو خلیجی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ اتوار کو ایک برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے اس گزرگاہ پر ایک اور تیل بردار جہاز کے نامعلوم میزائل یا گولے کی زد میں آنے کی اطلاع دی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غیر ملکی سفیروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے دشمنوں نے ایک بار پھر فوجی محاذ آرائی کا راستہ چنا تو ہمارا جواب پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا اور ہم مزید طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نہ فوجی حل موجود ہے اور نہ ہی نئی پابندیوں پر مبنی کوئی حل، ان کے بقول صرف انصاف اور منصفانہ بنیادوں پر ہونے والے مذاکرات ہی تنازع ختم کرسکتے ہیں۔ جون میں دونوں فریقوں نے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا تھا جس میں مستقل حل کے لیے ایک فریم ورک وضع کیا گیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کے باعث امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کردیں۔
ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جوابی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے قرار دیے گئے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
برطانوی بحری سلامتی کے ادارے یو کے ایم ٹی او نے اتوار کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر نے اطلاع دی کہ اسے گولے سے نشانہ بنایا گیا جس کے باعث انجن روم کو نقصان پہنچا۔ تاہم عملہ محفوظ رہا اور ماحول پر کسی قسم کے اثرات کی اطلاع نہیں ملی۔
ادارے نے واقعے کی تاریخ، جہاز کے مقامِ روانگی یا منزل کی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی بتایا کہ یہ آئل ٹینکر تھا یا ایل این جی بردار جہاز۔
ایرانی اور امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بالواسطہ مذاکرات کیے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے 7 شرائط پیش کی ہیں۔
ایران نے دیگر مطالبات کے علاوہ پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی، بیرون ملک اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کے شعبے پر عائد پابندیاں اٹھانے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا، البتہ مزید مذاکرات یا دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو امریکا کی تازہ جوابی تجویز کو جوہری معاملے سے متعلق اس کی سابقہ تجاویز کے مطابق قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے واضح طور پر بتایا ہے کہ ہماری توجہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر مرکوز ہے۔ آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے لیے ایرانی تجارتی بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کا خاتمہ اور پابندیاں اٹھانا ضروری ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے جنگ کو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے حالانکہ ایران طویل عرصے سے ایسے عزائم کی تردید کرتا آیا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید بے چینی کے بعد توجہ جلد ہی آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر مرکوز ہوگئی۔
امریکا نے یکم ستمبر کے بعد سے ایران کو نشانہ نہیں بنایا، تاہم حالیہ دنوں میں اس نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں ایک بار پھر اضافہ کیا ہے۔
امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن نے سعودی عرب اور قطر میں مزید پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں تعینات کی ہیں تاکہ ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی سے اہم توانائی تنصیبات کا تحفظ کیا جاسکے۔



















Comments