ایل این جی کی سپلائی میں رکاوٹ سے صنعت شدید متاثر ہونے کا خدشہ
- کاروبار کرنے کی بلند لاگت کے باعث صنعتیں پہلے ہی عالمی منڈی میں مشکلات کا شکار ہیں
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے فورس میجر شق کے تحت قطر کی جانب سے پاکستان کو 5 نومبر تک ایل این جی کی فراہمی معطل کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فورس میجر ایک قانونی شق ہے جو قدرتی آفات، حادثات یا ناگزیر ہنگامی حالات پیش آنے کی صورت میں فریقین کو اپنی معاہداتی ذمہ داریاں پوری کرنے سے مستثنیٰ قرار دیتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قطر دنیا کی ایل این جی کی 20 فیصد سپلائی فراہم کرتا ہے اور خبردار کیا کہ امریکا-ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی اس رکاوٹ سے صنعتی شعبے کو گیس کی فراہمی شدید متاثر ہوگی۔
میاں زاہد حسین نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک میں قدرتی گیس اور درآمدی ایل این جی کی اوسط سالانہ غیر محدود طلب 1.27 سے 1.46 ٹریلین مکعب فٹ کے درمیان رہی ہے۔
تاہم گیس راشننگ اور پائپ لائن کی محدود گنجائش کے باعث حقیقی کھپت سالانہ بمشکل 1.1 سے 1.2 ٹریلین مکعب فٹ تک محدود رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارچ سے ستمبر 2026 کے دوران ایران-امریکا جنگ کے باعث صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ پاکستان صرف 17 ایل این جی کارگو حاصل کر سکا۔ ان کے مطابق قطر سے آخری ایل این جی کھیپ 22 ستمبر کو پہنچی تھی۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ کاروبار کرنے کی بلند لاگت کے باعث صنعتیں پہلے ہی عالمی منڈی میں مشکلات کا شکار ہیں۔
ایل این جی کی فراہمی میں متوقع کمی پاکستانی فیکٹریوں کو پیداوار کم کرنے پر مجبور کر دے گی۔
ترجمہ:
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستانی برآمد کنندگان بین الاقوامی خریداروں سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے اور آرڈرز منسوخ ہو گئے تو اس کے ملکی برآمدی شعبے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
میاں زاہد حسین نے نشاندہی کی کہ وزارتِ توانائی اور پیٹرولیم ڈویژن اس سے قبل اوپن مارکیٹ سے اسپاٹ کارگو خرید چکے ہیں اور موجودہ حالات میں ملک میں گیس کی طلب و رسد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ سے ایل این جی کے اسپاٹ کارگو خریدنے کے سوا کوئی متبادل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عارضی مالی بوجھ صنعتی سرگرمیوں کی ممکنہ بندش، پیداواری صلاحیت مفلوج ہونے اور برآمدات میں تباہ کن کمی کے ممکنہ نقصان کے مقابلے میں کہیں کم ہوگا۔
ملکی سطح پر دستیاب گیس کے ذخائر اور درآمدی ایل این جی کو ترجیحی بنیادوں پر صنعتی عمل اور برآمدی شعبے کے لیے مختص کیا جانا چاہیے تاکہ قومی معیشت کی رفتار برقرار رکھی جا سکے اور وسائل کے معاشی طور پر مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں حالیہ جنگ کے باوجود پاکستان کی معاشی اور سفارتی کارکردگی کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی ہے۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ صنعتی پہیے کو پوری صلاحیت کے ساتھ رواں رکھنا ہی کامیابی کا حقیقی پیمانہ ہے۔
























Comments