ایرانی پاسداران کا آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ
- ڈرون آبنائے ہرمز میں جاسوسی کے مقصد سے سرگرم تھا، ایرانی سرکاری ٹی وی
ایران کے پاسداران انقلاب نے اتوار کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں ایک امریکی زیرِ آب ڈرون قبضے میں لے لیا ہے، جسے تہران نے کئی ماہ سے جاری مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران بند کر رکھا ہے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ نے ایک بیان میں کہا کہ انٹیلی جنس نگرانی اور الیکٹرانک جنگ پر مشتمل مربوط اور پیچیدہ کارروائی کے ذریعے پاسداران انقلاب کی بحری افواج کے اہلکاروں نے امریکی فوج سے تعلق رکھنے والی جدید بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑی (یو یو وی) کامیابی سے قبضے میں لے لی۔
انہوں نے کہا کہ ڈرون آبنائے ہرمز میں جاسوسی کے مقصد سے سرگرم تھا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق یہ ریموس 600 خودکار زیرِ آب گاڑی ہے، جو اب ڈیٹا کی بازیابی کے لیے فورس کے ماہرین کے قبضے میں ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرِ آب ڈرون بھی قبضے میں لیا ہے۔ یہ آبنائے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے سے قبل تیل اور گیس کی تجارت کے لیے انتہائی اہم تھی، تاہم فروری کے اواخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔
ایران نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جوابی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
























Comments