ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ بندی کی ایرانی تجویز مسترد کردی
- امریکی صدر کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث ایران آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنا چاہتا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے اور مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی ختم کرنے کی ایرانی تجویز مسترد کردی ہے۔
ایران نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر یہ تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ قطری ثالثوں کے ذریعے اسے امریکا تک پہنچایا گیا ہے۔ ایران کے مطابق اس تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں سات روز کے اندر اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور خطے میں جاری لڑائی کا خاتمہ ممکن ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’میں ان کی تجویز مسترد کرتا ہوں۔۔۔ میں نے ان کا معاہدہ مسترد کردیا ہے۔‘‘
ٹینیسی روانگی سے قبل انہوں نے کہا، ’’وہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں بری طرح نقصان ہو رہا ہے۔ ہم زبردست کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے کہا، ’’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور میرے خیال میں یہ اچھی بات ہے، مجھے بھی معاہدے کرنا پسند ہیں۔ وہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا چاہتے ہیں۔۔۔ کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں، انہیں اپنی آمدنی آبنائے ہرمز سے حاصل ہوتی ہے۔‘‘
امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے اقتصادی ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے تاکہ تہران کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس ناکہ بندی کے باعث آبنائے سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا نے اس آبی گزرگاہ کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کی خبر دی تھی اور اس کے لیے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کا حوالہ دیا تھا۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ کو نجی طور پر اس بات پر شبہ ہے کہ ایران ان کے مطالبات پورے کرے گا، جبکہ انہوں نے اپنے عملے سے کہا ہے کہ نومبر میں امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ بمباری کی مہم شروع ہونے کا امکان ہے۔
اس سے قبل ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت ’’مثبت اور تعمیری‘‘ رہی ہے۔
تنازع سے تیل کی ترسیل متاثر، عالمی معیشت کو نقصان
ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے سعودی حریفوں سے بھی رابطہ کیا، جس سے سات ماہ سے جاری تنازع کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اس تنازع نے تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمندری گزرگاہ سے تیل کی آمدورفت متاثر کی ہے اور عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو اقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سات روز کی مدت شروع ہو جائے گی اور خطے میں جاری لڑائی بھی روک دی جائے گی۔
عراقچی نے کہا، ’’اگر امریکا کی جانب سے معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سنجیدگی موجود ہے تو اب سب کچھ تیار ہے۔‘‘ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے رضامندی کی صورت میں متحارب فریق ’’باہمی طور پر متفقہ امور‘‘ پر وسیع تر مذاکرات شروع کر سکتے ہیں۔
ان مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت بھی ممکنہ طور پر شامل ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کو کبھی جوہری بم حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا، جبکہ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکا کی جانب سے امن معاہدہ قبول کیے جانے کی صورت میں بھی ایران اپنے جوہری پروگرام پر کوئی لچک نہیں دکھائے گا۔
عہدیدار کے مطابق ایران اپنے حقوق سے متعلق کوئی رعایت نہیں دے گا، جن میں یورینیم کی افزودگی یا انتہائی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنا بھی شامل ہے۔
























Comments