فوجی سیمنٹ کے دو پلانٹس پر بیٹری اسٹوریج، سولر پاور کی تنصیب کا فیصلہ
- منصوبہ شروع ہونے کی تاریخ سے 10 ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع
فوجی سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ (ایف سی سی ایل) نے بتایا ہے کہ اس کے بورڈ نے اپنے دو پلانٹس پر مجموعی طور پر 50 میگاواٹ آور گنجائش کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور 10 میگاواٹ کی مخصوص سولر پاور کی تنصیب کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
لسٹڈ کمپنی نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ نوٹس میں اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔
نوٹس میں کہا گیا کہ فوجی سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سرکولیشن کے ذریعے قرارداد کی منظوری دیتے ہوئے کمپنی کے نظام پور اور جھنگ باہتر پلانٹس پر بالترتیب 25 میگاواٹ آور کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور 5 میگاواٹ کے مخصوص سولر پاور سسٹمز کی تنصیب کی منظوری دے دی ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ منصوبہ شروع ہونے کی تاریخ سے 10 ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔
کمپنی نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا مقصد دن کے اوقات میں حاصل ہونے والی سولر توانائی کوبیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز میں ذخیرہ کرنا ہے تاکہ شام کے اوقات میں طلب کے عروج کے دوران اسے استعمال کیا جاسکے، اس اقدام سے گرڈ کی مہنگی بجلی پر انحصار کم ہوگا، کمپنی کے توانائی کے اخراجات بہتر ہوں گے اور قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
ایف سی سی ایل کو پاکستان میں 1992 میں ایک پبلک کمپنی کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا اور اس نے 1993 میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ کمپنی مختلف اقسام کے سیمنٹ کی تیاری اور فروخت کے شعبے میں کام کرتی ہے۔
مالی سال 2025 میں کمپنی نے اپنی سولر پاور کی صلاحیت بڑھا کر 67.5 میگاواٹ کردی جس سے اس کی پیکیجنگ کی ضروریات کا 90 فیصد پورا ہوا اور توانائی کے مؤثر استعمال میں بھی مدد ملی۔
پاکستان میں متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصاً سولر توانائی، کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے، جو رہائشی اور تجارتی شعبوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔
تقریباً 22 کروڑ 40 لاکھ آبادی پر مشتمل جنوبی ایشیائی ملک کا انحصار درآمدی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پر بہت زیادہ ہے جس کے باعث وہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار رہتا ہے۔
جاری امریکا-ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایندھن کی قلت نے حکومت کو متبادل توانائی کے ذرائع تلاش کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر مجبور کردیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ کفایت شعاری کے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔























Comments