BR100 Increased By (0.36%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.37%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.49 (0.87%)
BIPL 24.96 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 30.35 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 13.12 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 15.90 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
DGKC 192.45 Increased By ▲ 0.09 (0.05%)
FABL 94.14 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
FCCL 52.79 Increased By ▲ 0.41 (0.78%)
FFL 14.72 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 19.56 Decreased By ▼ -0.44 (-2.2%)
HBL 306.10 Increased By ▲ 3.95 (1.31%)
HUBC 201.42 Decreased By ▼ -1.29 (-0.64%)
HUMNL 10.16 Increased By ▲ 0.05 (0.49%)
KEL 6.09 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.46 Decreased By ▼ -0.89 (-3.25%)
MLCF 93.16 Increased By ▲ 0.41 (0.44%)
OGDC 316.73 Decreased By ▼ -1.03 (-0.32%)
PAEL 35.63 Increased By ▲ 0.13 (0.37%)
PIBTL 14.68 Increased By ▲ 0.11 (0.75%)
PIOC 243.21 Increased By ▲ 0.17 (0.07%)
PPL 226.91 Decreased By ▼ -0.88 (-0.39%)
PRL 93.02 Increased By ▲ 0.45 (0.49%)
SNGP 91.84 Decreased By ▼ -0.08 (-0.09%)
SSGC 23.81 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 7.80 Increased By ▲ 0.02 (0.26%)
TPLP 12.97 Increased By ▲ 0.30 (2.37%)
TRG 56.56 Decreased By ▼ -1.24 (-2.15%)
UNITY 8.07 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.01 Decreased By ▼ -0.01 (-0.98%)
دنیا

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں تیزی سے شدت آنے کا امریکی انتباہ

  • ریاض پر حوثیوں کے میزائل حملے کے بعد امریکا نے خبردار کیا ہے کہ یمن تنازع میں اچانک تیزی آ سکتی ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکا نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی ’’تیزی سے شدت اختیار کر سکتی ہے‘‘، یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن تنازع دوبارہ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ریاض کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میری لینڈ کے دیہی علاقے میں واقع صدارتی کمپلیکس کیمپ ڈیوڈ میں ویک اینڈ مختصر کرتے ہوئے ہفتے کو اچانک وائٹ ہاؤس واپس روانہ ہوگئے۔

وائٹ ہاؤس نے صدر کی قبل از وقت واپسی کی کوئی وجہ نہیں بتائی، تاہم یہ پیش رفت سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع میں ایک نئی حد عبور کیے جانے کے موقع پر ہوئی ہے۔ حوثی یمن کے وسیع علاقے پر قابض ہیں اور ریاض کی قیادت میں قائم اتحاد کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ہفتے کو سعودی دارالحکومت ریاض میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں اے ایف پی کے صحافیوں نے ہوائی اڈے کے قریب تیل کی بڑی کمپنی آرامکو کے لوگو والا ایک فیول ٹینک آگ کی لپیٹ میں دیکھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے خبردار کیا، ’’اس فوجی تنازع میں تیزی سے شدت اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘ محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ سے باہر موجود امریکی شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ خطے کے اندر اور وہاں سے سفر کرنے کے اپنے منصوبوں پر ’’سنجیدگی سے نظرثانی‘‘ کریں۔

حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کی برق رفتاری سے جاری کارروائیوں اور یمن کے وسیع علاقوں پر قبضے کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

’’ناکام بنا دیا گیا‘‘

تشدد کی حالیہ لہر نے دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی برآمدات کے ساتھ ساتھ سمندری آمدورفت کو بھی متاثر کیا ہے۔

امریکی خبر رساں پلیٹ فارم ایکسیوس کے مطابق امریکا نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کے خلاف حملے کے لیے سعودی درخواست مسترد کردی تھی، تاہم بعد ازاں واشنگٹن نے سعودی عرب کو 24.3 ارب ڈالر مالیت کے 48 ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی۔

اتوار کو امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے قاہرہ کے ایک غیر معمولی دورے کے دوران مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔

مصری ایوان صدر کے بیان کے مطابق السیسی نے ’’علاقائی بحرانوں کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی بنیادی اہمیت‘‘ پر زور دیا۔

یہ دورہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مصری دارالحکومت کے دورے کے چند روز بعد ہوا، جہاں انہوں نے السیسی کے ساتھ حوثیوں کے یمنی ساحل پر قبضے کے بعد باب المندب سے محفوظ اور پُرامن بحری آمدورفت یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔

باب المندب آبنائے بحیرۂ احمر میں واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جو توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد اس کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

حوثیوں کے تازہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے نشریاتی ادارے این ٹی وی کو بتایا کہ ان کے ملک نے باہمی دفاعی معاہدے کے شراکت دار سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ممکنہ معاونت کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اس حوالے سے فوجی ضروریات، بالخصوص ریاستی سطح کے تکنیکی معاملات میں، سامنے آسکتی ہیں۔ ایسی درخواست پوری کرنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔‘‘

ادھر سعودی عرب حوثیوں کے اپنے علاقے پر حملوں کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اتوار کو سعودی عرب کے کئی بڑے اخبارات نے ریاض پر ہونے والے حملے کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ اس سے چند گھنٹے قبل ریاض کی قیادت میں قائم اتحاد نے تصدیق کی تھی کہ حوثیوں کی جانب سے داغا گیا بیلسٹک میزائل ’’کامیابی سے روک کر تباہ‘‘ کردیا گیا۔

اتحاد نے مزید کہا کہ ایران نواز جنگجوؤں نے مملکت کے مغربی حصے کے کئی شہروں میں ’’شہریوں اور شہری تنصیبات‘‘ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جن میں بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع بھی شامل ہے جو سعودی تیل کی برآمدات کا ایک اہم مرکز ہے۔

اتحاد کے مطابق خلیجی بادشاہت کے فضائی دفاعی نظام نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر درجنوں فضائی حملے کیے ہیں، تاہم وہ جنگجوؤں کی پیش قدمی روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ جنگجوؤں نے ’’بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دو کامیاب فوجی کارروائیاں‘‘ کیں۔

انہوں نے کہا، ’’پہلی کارروائی میں سعودی دارالحکومت ریاض میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری کارروائی میں ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔‘‘

برق رفتاری سے جاری کارروائیاں

یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حملوں سے سعودی دارالحکومت کو خطرہ لاحق ہوا ہے، جس سے عالمی معیشت پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے جو پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ کے باعث شدید متاثر ہے۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی شرائط سے آگاہ کردیا ہے، جسے اس نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے دوران مسلسل بند کر رکھا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا آغاز فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا، جس کے جواب میں ایران نے خطے کے مختلف ممالک پر جوابی حملے کیے۔

حوثی بھی اس تنازع میں شامل ہوگئے، جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں نے اپنے مخالفین کے خلاف حملے کیے۔

اگرچہ یمن میں تنازع مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگ سے پہلے کا ہے، تاہم دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے یمن میں حالیہ کشیدگی نے اسے وسیع تر تشدد کا سب سے فعال محاذ بنا دیا ہے۔

2022 میں طے پانے والی ایک نازک جنگ بندی جولائی میں ختم ہوگئی، جس کے بعد حوثیوں نے رواں ماہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

Comments

200 حروف