روس میں جمعہ کو تین روزہ انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں صدر ولادیمیر پیوٹن کی اقتدار پر 26 سالہ گرفت مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ یہ انتخابات یوکرین کے ساتھ جنگ کے پانچویں سال میں ہو رہے ہیں۔
یہ روس میں فروری 2022 میں ماسکو کی جانب سے یوکرین میں فوج بھیجنے کے بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔
صرف وہی سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے رجسٹر کی گئی ہیں جو صدر پیوٹن اور کریملن کی فوجی مہم کی حمایت کرتی ہیں۔ ماسکو نے زیر قبضہ یوکرین کے علاقوں میں بھی ووٹنگ کا انتظام کیا ہے۔
یورپی یونین نے انتخابات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخالفین کو ختم کرنے کے لیے جبر کا استعمال کیا گیا جبکہ کونسل آف یورپ کے ایک ادارے نے ووٹنگ کو جعلی قرار دیا ہے۔
اگرچہ بہت کم روسی شہریوں کو شک ہے کہ پیوٹن کی جماعت یونائیٹڈ رشیا ایک بار پھر باآسانی کامیابی حاصل کرلے گی، تاہم یہ ووٹنگ جنگ کے لیے عوامی حمایت کا اندازہ لگانے کا ایک ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
روس کے ایوانِ زیریں ڈوما کی تمام 450 نشستوں کے لیے ووٹنگ اتوار کو گرین وچ مین ٹائم کے مطابق شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔
پیوٹن 1999 سے روس پر حکمرانی کر رہے ہیں اور 2000 کی دہائی کے اوائل سے ان کی جماعت ملکی سیاست پر غالب ہے۔
ماسکو نے یوکرین میں فوجی کارروائی پر تنقید پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ پیوٹن کے دور میں ہونے والے انتخابات میں شاذ ہی کوئی غیر متوقع نتیجہ سامنے آتا ہے۔
























Comments