صوبوں کی تشکیل نو پر ہنگامہ
- تبدیلی ناگزیر ہے، لیکن یہاں تبدیلی لانے کے لیے فیصلہ کن سوچ درکار ہے؛ ملک کے جغرافیائی ڈھانچے کو موجودہ حقائق اور بڑھتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ازسرنو ترتیب دینا ہوگا
ایک اقتصادی کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر کے اس بیان نے کہ ’’نظام بیٹھ چکا ہے‘‘، ایک ایسے بارودی مواد میں آگ لگا دی جو طویل عرصے سے خاموشی اور سکون کے ساتھ غیر فعال پڑا تھا۔ پاکستان میں ریاستوں اور صوبوں کی آخری بار تنظیمِ نو 1969 اور 1970 کے درمیان ہوئی تھی۔ تب سے اس نوعیت کے کئی مطالبات سامنے آئے، لیکن انہیں مسترد کر دیا گیا اور ایسے مطالبات کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا گیا۔ عمومی تاثر یہ تھا کہ مزید تقسیم سے وفاق کمزور پڑ سکتا ہے—ایک ایسی احمقانہ سوچ جو بدقسمتی سے پالیسی سازی میں رہنما اصول بنی رہی۔
اس بیان سے پیدا ہونے والا ہنگامہ اور شور و غل ایک طرف ’’معقول دلائل‘‘ اور دوسری طرف پاکستان کا نقشہ دوبارہ ترتیب دینے کے تصور کی شدید ’’جذباتی مگر غیر منطقی‘‘ مخالفت کے درمیان جھولتا رہا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمارے سامنے یہ مثال موجود ہے کہ بھارت نے اسی طرح کے مسئلے سے کیسے نمٹا۔ اس نے اپنے ملک کو تقسیم کرنے میں اس خوف یا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا کہ اس سے ’’بھارتی وفاق‘‘ خطرے میں پڑ جائے گا یا، اس سے بھی بدتر، ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بکھر جائے گا۔
نہرو نئی ریاستوں اور صوبوں کے قیام کے معاملے میں آگے بڑھنے کے لیے پُراعتماد تھے۔ 1947 میں تقسیمِ ہند اور پاکستان و بھارت کے قیام کے وقت بھارت میں صرف 9 صوبے اور 560 سے کچھ زائد نوابی ریاستیں تھیں، جن پر مہاراجے اور راجے حکمرانی کرتے تھے۔ یہ نوابی ریاستیں خودمختار اور آزاد تھیں۔ بھارت کے پہلے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل نے طاقت اور دباؤ کے ذریعے ان ریاستوں کو بھارت میں ضم کیا۔
1947 اور 1950 کے درمیان نوابی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کس ڈومینین، یعنی پاکستان یا بھارت، میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ حیدرآباد، جو اس وقت رقبے کے لحاظ سے موجودہ فرانس جتنا بڑا تھا، نے آزاد رہنے کی کوشش کی؛ کشمیر اور جوناگڑھ نے بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، چالاک پٹیل نے جارحانہ مذاکرات یا بندوق کے زور پر انہیں بھارت کا حصہ بنا لیا۔ قائداعظم کی وفات کے صرف 17 دن بعد حیدرآباد کا الحاق کر لیا گیا، جبکہ کشمیر آج بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔
بھارت میں ریاستوں کی پہلی تنظیمِ نو پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے عمل میں لائی گئی، جس کے تحت 14 ریاستیں اور 6 وفاقی زیرِ انتظام علاقے قائم کیے گئے، جن کا انتظام براہِ راست نئی دہلی کے پاس تھا۔ آج بھارت 28 ریاستوں اور 8 وفاقی زیرِ انتظام علاقوں پر مشتمل ہے۔ اگرچہ ابتدائی تقسیم لسانی بنیادوں پر کی گئی تھی، تاہم بعد میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں نسلی بنیادوں پر عمل میں آئیں۔ بہتر یہی ہوتا کہ دونوں بنیادوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاتا۔
1953 میں جنوبی بھارت میں مدراس ریاست سے الگ کر کے آندھرا پردیش تشکیل دیا گیا؛ مدراس میں تامل بولی جاتی تھی جبکہ آندھرا پردیش میں تیلگو۔ بعد ازاں ہندی بولنے والی آبادی کے لیے پنجاب سے الگ کر کے ہریانہ بنایا گیا، جبکہ پنجاب کو پنجابی بولنے والوں کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ 1970 کی دہائی میں شمال مشرقی بھارت میں 7 ریاستیں قائم کی گئیں۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور بہار سے 3 نئی ریاستیں الگ کر کے بنائی گئیں۔ 2014 میں تلنگانہ کا قیام عمل میں آیا اور حیدرآباد اگلے 10 برس تک دونوں کے لیے مشترکہ دارالحکومت رہا۔
اس طرح مطالعے کے لیے ایک واضح نمونہ موجود ہے۔ 1947 میں پاکستان 5 صوبوں اور 13 نوابی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ 1955 میں وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعے، جس کی منظوری گورنر جنرل اسکندر مرزا نے دی تھی، مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں کو ضم کر کے ’’ون یونٹ‘‘ اسکیم نافذ کر دی۔ ملک کے دو حصے تھے: مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان۔ یہ انتظام 1970 تک برقرار رہا، جب چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر یحییٰ خان نے یکم جولائی 1970 کو قانونی فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) کے تحت صوبوں کی حیثیت بحال کر دی۔ اس فیصلے نے 1970 کے انتخابات کی راہ ہموار کی، اور 1971 میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔ تب سے ہم نے صوبائی تنظیمِ نو کے معاملے پر دوبارہ غور نہیں کیا۔
آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے اور یہ انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ جہاں علاقائی سطح پر شرحِ پیدائش کم ہو کر ایک فیصد یا اس سے بھی کم رہ گئی ہے، وہیں ہم اب بھی 1.6 فیصد کی شرحِ نمو کے ساتھ اپنی آبادی بڑھانے کی صلاحیت کا فخریہ مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جرمنی، آسٹریا، فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ کی مجموعی آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے۔ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ ہونے کے پیشِ نظر عام شہریوں کی ضروریات مؤثر انداز میں پوری کرنے کے لیے مزید صوبوں کے قیام پر غور کرنا کوئی باغیانہ سوچ نہیں۔
یہ مطالبہ کوئی سیاسی گستاخی نہیں بلکہ ایک سیاسی، سماجی اور معاشی ضرورت ہے۔ عمومی تصور یہ ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر نمائندگی فراہم کریں گی۔ حال ہی میں ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے ہمیں ’’نمائندگی کے ذریعے ٹیکس‘‘ کے تصور کی وضاحت کی، اور یہ خیال معقول معلوم ہوتا ہے۔
نئے صوبوں کے قیام کی حمایت اور مخالفت میں برپا ہنگامہ خیزی اور جوش و خروش کسی بھی طرح جمہوری رویے کے منافی نہیں؛ کیونکہ جمہوری عمل کا تقاضا ہے کہ اس طرح کی خواہش کو آگے بڑھانے کے فوائد اور نقصانات کا مناسب جائزہ لیا جائے۔ انتہائی متضاد موقف رکھنے کے باوجود تمام جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے کسی درمیانی راستے پر پہنچنا ہوگا۔ تاہم یہ مذاکرات اور بحث و مباحثہ پارلیمان کے ایوان میں ہی ہونا چاہیے، خواہ اس وقت پارلیمان کی نمائندگی کتنی ہی ناقص کیوں نہ ہو، تاکہ سب کی آواز سنی جا سکے۔ کسی ایک جماعت یا دو جماعتوں کو پارلیمانی عددی برتری کی بنیاد پر حاصل ویٹو کا اختیار استعمال نہیں کرنا چاہیے، ورنہ یہ بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گی۔
قوم کو بے عملی کے اس جابرانہ جمود سے باہر نکلنا ہوگا۔ موجودہ صورتِ حال کے خول کو اب ٹوٹنا چاہیے تاکہ ایسے متبادل راستے جنم لے سکیں جو موجودہ حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔ تبدیلی ناگزیر ہے، لیکن یہاں تبدیلی لانے کے لیے فیصلہ کن سوچ درکار ہے۔ فی الحال مختلف وفاقی وزرا کی جانب سے اس معاملے پر متضاد اشاروں نے مزید ابہام پیدا کر دیا ہے؛ ایک وزیر کا کہنا ہے کہ 15 یا اس سے زائد صوبوں کا خاکہ تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرے کا دعویٰ ہے کہ یہ قبل از وقت خیال ہے اور اس پر بات چیت بھی ایجنڈے میں شامل نہیں۔
صوبوں کی ازسرنو تشکیل کے اس تصور کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک ڈھونگ ہے—ملک کو درپیش مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک دھوکا۔ موجودہ صورتِ حال برقرار رہنے سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے جو موجودہ نظام سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اختیارات عوام کو منتقل کرنے سے سرکاری عہدے داروں کی زیادہ کڑی نگرانی ہوتی ہے اور نتیجتاً ان کے اقدامات کے لیے جواب دہی بھی بڑھتی ہے۔ جو لوگ احتساب کو ناپسند کرتے اور اس سے سختی سے گریز کرتے ہیں، وہ ظاہر ہے اسی خرابی کو برقرار رکھنے کے حق میں ہوں گے۔
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کا قیام خود بخود بہتر طرزِ حکمرانی کا باعث بنے گا؟ اس تحریر کے مصنف کے نزدیک جواب نفی میں ہے۔ جب تک ایسے ڈھانچے موجود نہ ہوں جو اختیار اور ذمہ داری میں توازن قائم کریں، بہتر طرزِ حکمرانی ممکن نہیں ہوگی۔ جواب دہی کے کلچر کی عدم موجودگی میں یہ اقدام درحقیقت مزید سنگین بدعنوانی، بے لگام اقربا پروری اور کھلی جانبداری کو جنم دے سکتا ہے۔
درحقیقت، اس تصور کے مخالفین طنز اور طعنے کے ذریعے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر صرف چار یا پانچ صوبوں کے ساتھ ہی ہم بدعنوانی کے اشاریے میں بہت بلند درجے پر ہیں تو مزید صوبے بننے سے نقصان اور بھی زیادہ نہیں ہوگا؟ ایسا ردعمل واضح طور پر توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان متنوع آرا سے قطع نظر، بااختیار انتظامی اکائیوں یا صوبوں کی ضرورت ناگزیر ہے۔ تاہم، ان کا قیام محض من مانی سوچ کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔
برصغیر کی تقسیم کے لیے نقشے مرتب کرتے وقت سر سیرل ریڈکلف، جو نہ ماہر نقشہ نویس تھے اور نہ ہی جغرافیہ و تاریخ پر ان کی گرفت بہت مضبوط تھی، نے ابتدائی نقشہ بندی میں لاہور بھارت کو اور امرتسر پاکستان کو دے دیا۔ شدید احتجاج کے بعد انہوں نے دونوں شہروں کا فیصلہ تبدیل کر دیا۔ انہیں یہ حساس جغرافیائی تقسیم اس لیے سونپی گئی تھی کہ برصغیر کے بارے میں ان کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں اور اس بنا پر خیال کیا گیا کہ وہ غیر جانب دار رہیں گے۔
تربیت اور پیشے کے اعتبار سے قانون دان ہونے کے باعث یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ وہ اپنے پیچھے جغرافیائی تقسیم کے ایسے زخم چھوڑ گئے جن کے نشان آج تک موجود ہیں۔ معروف صحافی کلدیپ نائر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا: ’’میں تقریباً لاہور آپ کو دے ہی چکا تھا، لیکن چونکہ کلکتہ بھارت کے لیے مختص کیا گیا تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ پاکستان کے پاس کم از کم ایک بڑا شہر تو ہونا چاہیے۔‘‘
ہم اس معاملے کے لیے کسی دوسرے ریڈکلف کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس پورے تصور کا باریک بینی سے مکمل جائزہ لینا ہوگا؛ اگر اس میں وقت لگتا ہے تو لگنے دیں۔ مثال کے طور پر چین نے 1982 یا 1983 میں ہانگ کانگ کو یکم جولائی 1997 کو 14 سے 15 برس کے وقفے کے بعد دوبارہ سرزمینِ چین میں شامل کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے۔ ہمیں بھی یہ کام پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ کرنا چاہیے اور خود کو کسی عجلت پسندانہ مدت کی پابندی میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ یہ عمل عوام کی مرضی کا عکاس ہونا چاہیے، محض ایک ’’نوٹیفکیشن‘‘ کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔ ون یونٹ بھی ایک قلم کی جنبش سے قائم ہوا تھا اور اسی طرح ختم بھی کر دیا گیا۔
ملک کے تھنک ٹینکس کو صوبوں کی ازسرنو تشکیل کا خاکہ تیار کرنے کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔ اس کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان سنجیدہ غوروفکر ضروری ہے۔ جیسا کہ کہا گیا، ضرورت ناگزیر ہے؛ کتنے صوبے درکار ہیں اور انہیں کب تشکیل دیا جائے، اس کا فیصلہ ہماری بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ملک کے جغرافیائی ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
چنانچہ ملک کے مالیاتی دارالحکومت کا معاملہ بھی بحث کے ایک اہم موضوع کے طور پر سامنے آتا ہے—اور بجا طور پر۔ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز اور مالیاتی دارالحکومت ہونے کے باعث کراچی شہر عدم توجہی، بدانتظامی اور غفلت کے سبب اپنی گنجائش کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے، اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ یہ سب کچھ دانستہ طور پر کیا جا رہا ہو۔ متنازع مردم شماری کے نتائج کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی شہر کو اس کی حدودِ برداشت تک پہنچا رہی ہے۔ آج اس عالمی نوعیت کے وسیع و عریض شہر کا حجم اور پھیلاؤ مقامی سطح پر خود حکمرانی کا تقاضا کرتا ہے۔
اگر چین کے پاس شنگھائی اور بھارت کے پاس ممبئی ہو سکتا ہے تو مقامی لوگوں کو انتظامی اختیار دینے میں ہمیں کیوں ہچکچانا چاہیے؟ بالآخر یہ ہونا ہی ہے، لیکن فی الحال ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے لیے اعلیٰ ترین نظم و ضبط کے مضبوط اصول موجود ہوں۔ چینیوں اور بھارتیوں نے جرات مندانہ اقدامات کیے اور متعدد نئے صوبے قائم کیے۔
جس چیز کی ہمارے ہاں شدید کمی ہے وہ ایک متعین نظام کے اندر قواعد و ضوابط کی پابندی کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ ہر شہری کو خود احتسابی کی اہمیت سمجھنا ہوگی۔ یہی طرزِ فکر مختلف متبادل راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر اس کی ذمہ داری قبول کرنے، فیصلوں کے نتائج کو تسلیم کرنے اور اپنی غلطیوں کا بے خوفی سے اعتراف کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ قواعد کی پابندی نہ کرنے کا اعتراف ہی ریاستی امور چلانے میں بہترین طور طریقوں کی راہ ہموار کرے گا۔
تاریخ میں وہی سیاست دان یاد رہتے ہیں جو اینٹوں کی میراث پاتے ہیں مگر پیچھے سنگِ مرمر چھوڑ جاتے ہیں۔ کراچی کبھی جنوبی ایشیا کا پیرس کہلاتا تھا، مگر عدم توجہی نے اسے برباد کرکے ایک کھنڈر بنا دیا ہے۔ آئیے ردعمل کا مظاہرہ کریں اور کراچی اور پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت واپس حاصل کریں۔ آئیے اس بحث کو دو گنجے آدمیوں کے درمیان کنگھی کے لیے مقابلے تک محدود نہ کریں۔ آئیے اتنی کم بصیرت کے ساتھ حکمرانی کا سلسلہ جاری نہ رکھیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments