BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.56%)
KSE30 Decreased By (-0.54%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.91 Decreased By ▼ -0.05 (-0.2%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.96 Decreased By ▼ -0.16 (-1.22%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.78 Decreased By ▼ -0.36 (-0.38%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.45 Decreased By ▼ -0.27 (-1.83%)
GGL 19.05 Decreased By ▼ -0.51 (-2.61%)
HBL 305.55 Decreased By ▼ -0.55 (-0.18%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.39 Decreased By ▼ -1.77 (-1.9%)
OGDC 314.15 Decreased By ▼ -2.58 (-0.81%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.53 (-1.49%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.50 Decreased By ▼ -4.41 (-1.94%)
PRL 90.99 Decreased By ▼ -2.03 (-2.18%)
SNGP 90.62 Decreased By ▼ -1.22 (-1.33%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.58 Decreased By ▼ -0.22 (-2.82%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

پمز آتشزدگی تحقیقاتی رپورٹ: نومولود بچوں کی اموات کے پیچھے حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیاں

  • رپورٹ میں اسپتال میں فائر سیفٹی کے سنگین نقائص کی پہلے ہی نشاندہی کیے جانے کا انکشاف
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہلاکت خیز آتشزدگی کی 43 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات میں سنگین خامیوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جن کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی جانیں گئیں۔ آج نیوز نے منگل کے روز یہ رپورٹ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آتشزدگی میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے جبکہ ایک بچے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا کہ اسپتال میں فائر سیفٹی کے سنگین نقائص کی پہلے ہی نشاندہی کی جاچکی تھی، تاہم ان کے تدارک اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آگ ایئر کنڈیشنر نمبر 2 سے منسلک بجلی کی کیبل سے لگی، جبکہ شارٹ سرکٹ کو اس کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔ نیشنل فرانزک ایجنسی کی تکنیکی رپورٹ کے مطابق انکیوبیٹرز یا وارمرز آگ لگنے کا مقام نہیں تھے۔ کمیٹی کو آگ جان بوجھ کر لگائے جانے یا آکسیجن لیک ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق 10 بستروں کی نرسری میں گنجائش سے زیادہ بچے موجود تھے اور واقعے کے وقت 15 نومولود زیرِ علاج تھے۔ بیشتر بچے آکسیجن یا تنفس کی معاونت پر تھے، جبکہ آتش گیر مواد اور آکسیجن سے بھرپور ماحول نے آگ اور دھوئیں کی شدت میں اضافہ کیا۔

نرسری میں ہنگامی انخلا کی مناسب سہولت موجود نہیں تھی اور نومولود بچوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے کوئی مؤثر معیاری طریقہ کار بھی وضع نہیں کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ وہاں فعال اسپرنکلر یا الارم سسٹم موجود نہیں تھا، جبکہ اسپتال میں خودکار طور پر آگ کا مؤثر سراغ لگانے کا نظام بھی نہیں تھا۔

کمیٹی نے بیرونی امداد طلب کرنے میں تاخیر کی بھی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق آگ کا پتا تقریباً شام 6 بج کر 38 منٹ پر چلا، جبکہ بیرونی امداد 6 بج کر 55 منٹ پر روانہ کی گئی اور امدادی ٹیمیں شام 7 بج کر ایک منٹ پر جائے وقوعہ پہنچیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اموات کسی ایک ناکامی کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ متعدد خامیوں کے باعث ہوئیں، جن میں حفاظتی اقدامات کا فقدان، دستیاب حفاظتی نظام کو بروقت فعال نہ کرنا اور طویل عرصے سے موجود ادارہ جاتی کمزوریوں کا برقرار رہنا شامل ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کے دوران طبی عملے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو بھی تسلیم کیا اور نومولود بچوں کو چھوڑ کر فرار ہونے سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا۔

رپورٹ میں نرس رضیہ نورین کی خصوصی طور پر تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود کو بچایا اور دیگر بچوں کو بچانے کے لیے دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالرّحمن بھی واقعے کے دوران موجود تھے اور امدادی کارروائیوں میں شریک رہے۔

کمیٹی نے نشاندہی کی کہ فائر سیفٹی کے نقائص کی پہلے بھی کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے خطوط اور وفاقی محتسب کی سفارشات کے ذریعے نشاندہی کی جاچکی تھی۔ کمیٹی کے مطابق پمز انتظامیہ نے بھی 2025 میں تسلیم کیا تھا کہ اسپتال کے حفاظتی نظام فرسودہ ہوچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان انتباہات کے باوجود ضروری بہتری نہیں لائی گئی، جس کے باعث بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری پمز اور اس کی اعلیٰ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

کمیٹی نے بیرونی امداد طلب کرنے میں تاخیر، بجلی کے نظام کی دیکھ بھال اور ٹھیکیداروں کے کردار سمیت مختلف پہلوؤں کی مزید فوجداری تحقیقات کی سفارش کی۔ اس کے علاوہ تمام اسپتالوں میں بجلی اور فائر سیفٹی کے فوری آڈٹ اور مؤثر حفاظتی انتظامی نظام قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔

Comments

200 حروف