بھارتی سپریم کورٹ کا غذائی مصنوعات پر وارننگ لیبلز کیلئے ٹائم لائن دینے کا حکم
- سپریم کورٹ نے صحت کے شعبے میں کام کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم کی شکایت کے بعد سخت وارننگ لیبلز نافذ کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے
بھارتی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ پیک شدہ غذائی مصنوعات پر صحت سے متعلق وارننگ لیبلز کے نفاذ کے لیے 10 دن کے اندر واضح طریقہ کار فراہم کیا جائے، جس سے نئی دہلی پر اس عوامی صحت کے اقدام کو نافذ کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے صحت کے شعبے میں کام کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم کی شکایت کے بعد سخت وارننگ لیبلز نافذ کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ یہ پیش رفت ملک بھر میں غذائی تحفظ کے خلاف کارروائی کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں حکام نے مختلف شہروں میں کھانے پینے کے مراکز پر چھاپے بھی مارے ہیں۔
غذائی ریگولیٹر نے گزشتہ ماہ دو مرحلوں پر مشتمل لیبلنگ پروگرام تجویز کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں ایسی مصنوعات پر سرخ رنگ کے چھ کونوں والے وارننگ لیبل لگائے جائیں گے جن میں اضافی چینی، نمک یا سیر شدہ چکنائی میں سے کم از کم دو کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہو۔
ریگولیٹر کے مطابق دوسرے مرحلے میں مزید سخت قواعد متعارف کرائے جائیں گے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو جاری حکم میں کہا کہ مخصوص وضاحت نہ ہونے کی صورت میں دوسرے مرحلے پر عمل درآمد مؤخر یا غیر معینہ مدت تک ملتوی ہوسکتا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا عدالتی حکم کا جائزہ لے گی، تاہم حکومت دونوں مراحل بیک وقت نافذ کرنے پر آمادہ ہے۔
بھارتی خوراک اور مشروبات کی صنعت نے وارننگ لیبلز کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں مبہم اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔























Comments