تجارت اور کارگو کلیئرنس تیز کرنے کیلئے وزیراعظم نے اہداف کی منظوری دیدی
- حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے پرعزم ہے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو تجارت اور کارگو کلیئرنس میں تیزی لانے کے لیے اہداف کی منظوری دے دی، جن میں رواں مالی سال کے اختتام تک 30 فیصد پری ارائیول کلیئرنس حاصل کرنا اور گرین چینل کے ذریعے کلیئر کیے جانے والے کارگو کا حصہ بڑھا کر 65 فیصد کرنا شامل ہے۔
وزیراعظم نے ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ تجارتی عمل میں غیر ضروری تاخیر ختم، کاروباری لاگت کم اور برآمدات کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو علاقائی اور عالمی سپلائی چینز کا مؤثر حصہ بنانے کے لیے تجارت میں سہولت کاری ضروری ہے۔
اجلاس کو تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے تحت مقررہ اہداف سے آگاہ کیا گیا۔ رواں مالی سال کے اختتام تک مجاز اقتصادی آپریٹرز (اے ای اوز) کی تعداد بڑھا کر 50 سے زائد کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے حکام کو تمام نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کرنے اور تجارت میں غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ان اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ورکنگ گروپ کی منظوری دیتے ہوئے اسے ایک ماہ کے اندر غیر ضروری ضوابط کے خاتمے اور تجارت میں سہولت کاری کا لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے پاکستانی بندرگاہوں پر براہ راست شپنگ لائنز لانے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ براہ راست شپنگ کی سہولت سے پاکستانی فیکٹریوں سے عالمی خریداروں تک مصنوعات کی ترسیل آسان اور تیز ہوگی۔
انہوں نے ہائی والیوم بندرگاہوں پر تمام متعلقہ اداروں کی خدمات کاروباری برادری کو ایک ہی مقام پر فراہم کرنے اور مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے مشترکہ معائنوں اور مشترکہ پروفائلنگ کو فروغ دینے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے نیشنل ٹریڈ پرفارمنس انڈیکس تیار کرنے کی ہدایت بھی کی، جس میں کارگو کے قیام کا دورانیہ، کسٹمز کلیئرنس، لاجسٹکس، جہاز کی کلیئرنس، پوسٹ کلیئرنس آڈٹ اور پری کلیئرنس سمیت اہم اشاریوں کی پیمائش کی جائے گی۔
انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا تجارت میں حصہ بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات پر زور دیا اور ان کے تجارتی سفر کے مختلف مراحل کا نقشہ تیار کرکے درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے تجارت میں رسک مینجمنٹ نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کنٹرولز پری ارائیول مرحلے سے پوسٹ ریلیز مرحلے تک ہونے چاہئیں تاکہ کارگو کلیئرنس تیز کی جاسکے اور صرف زیادہ خطرے والے کارگو کی تفصیلی جانچ کی جائے۔
انہوں نے رسک مینجمنٹ بہتر بنانے اور تجارتی عمل تیز کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کا بنیادی مقصد تجارت سے متعلق تمام طریقہ کار میں رکاوٹیں دور کرنا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments