وزارتِ خزانہ کی جانب سے ماہ کے آخری روز جاری کی گئی اگست کی اقتصادی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک کا آغاز انتہائی پُرامید انداز میں کیا گیا: ’پاکستان نے مالی سال 2027 کا آغاز مضبوط میکرو اکنامک بنیادوں پر کیا ہے جسے مستحکم مالیاتی وسائل، بہتر معاشی استحکام اور مسلسل استحکامی اقدامات کے نتیجے میں نمو کے بہتر ہوتے امکانات سے تقویت مل رہی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا ہے جس کا اندازہ درج ذیل اعدادوشمار سے لگایا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی 2025 کے 529 ملین ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2026 میں کم ہو کر 328 ملین ڈالر رہ گیا۔ تاہم یہ بہتری تجارتی توازن میں بہتری کے بجائے ترسیلاتِ زر میں اضافے کے باعث ہوئی جو جولائی 2025 کے 3.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر جولائی 2026 میں 3.6 ارب ڈالر ہوگئیں۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی ترسیلاتِ زر بھی بڑھ کر 41.6 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ دوسری جانب تجارتی توازن میں بہتری نہیں آئی کیونکہ اسی عرصے کے دوران برآمدات 3.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.6 ارب ڈالر ہوگئیں، تاہم خلیجی ممالک کو برآمدات کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ سامان بحری راستے سے بھیجنے کے بجائے فضائی ذریعے سے منتقل کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف درآمدات بھی 5.43 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.15 ارب ڈالر ہوگئیں۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے وضاحت کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ایل این جی کے ایک کارگو کی لاگت 3 سے 3.5 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 7.5 کروڑ ڈالر ہوگئی ہے جو بلاشبہ حالیہ درآمدی بل میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ تاہم حکومت کو اس امر پر بھی تشویش ہونی چاہیے کہ کہیں تجارتی خسارے میں اضافہ حکومت کی جانب سے درآمدی پابندیوں میں نرمی کا نتیجہ تو نہیں جو معاشی نمو کو تیز کرنے کے لیے انتظامی بنیادوں پر عائد کی گئی تھیں، کیونکہ بہت سے برآمد کنندگان اپنی مصنوعات کی تیاری میں خام مال یا نیم تیار اشیا کو بطور ان پٹ استعمال کرتے ہیں۔
دوسری جانب زرمبادلہ ذخائر جولائی 2025 کے 14.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں جولائی 2026 میں بڑھ کر 17.1 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے۔
عارف حبیب لمیٹڈ جو مالی اعداد و شمار پر نظر رکھنے والا ادارہ ہے کے مطابق یہ زرمبادلہ ذخائر 2.55 سے 2.75 ماہ کی درآمدی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں جبکہ بین الاقوامی قرض دہندہ اداروں، بشمول عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، کے مطابق کم از کم ضرورت تین ماہ کی درآمدات کے برابر ذخائر رکھنا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان ذخائر میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی رقم چین اور سعودی عرب کی جانب سے سالانہ بنیادوں پر رول اوور کیے جانے والے ڈپازٹس پر مشتمل ہے جن کی تجدید آئی ایم ایف کی جانب سے سہ ماہی اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری کے بعد اگلی قسط کی منظوری سے مشروط ہے۔
تاہم اقتصادی اپ ڈیٹ میں جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو مدنظر رکھتے ہوئے مہنگائی کی شرح 10 سے 11 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے کیونکہ حالیہ قیمتوں کے دباؤ اور عالمی سطح پر اجناس و توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات ملکی معیشت میں منتقل ہوں گے۔ یہ تخمینہ جولائی 2026 میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق ریکارڈ کی گئی 9.1 فیصد مہنگائی سے زیادہ ہے جو جون کی 11.1 فیصد شرح کے مقابلے میں کمی کو ظاہر کرتی ہے، تاہم گزشتہ سال کے اسی عرصے سے موازنہ کیا جائے تو مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے ملکی قیمتوں پر اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ جولائی 2025 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی شرح محض 4.06 فیصد تھی جو جولائی 2026 میں بڑھ کر 9.20 فیصد ہوگئی، یعنی دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔ اسی طرح ڈبلیو پی آئی بھی گزشتہ سال جولائی میں منفی 0.49 فیصد سے بڑھ کر رواں سال جولائی میں 9.43 فیصد ہوگیا جو پیداواری شعبوں کے لیے لاگت میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اقتصادی اپ ڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں میں رواں مالی سال جولائی تا اگست کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے منفی 232.1 ملین روپے کے مقابلے میں مزید کمی ہوئی اور یہ منفی 393.4 ملین روپے تک پہنچ گئے۔
اگرچہ گزشتہ سال بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کے شعبے نے 4.98 فیصد کی حوصلہ افزا شرح نمو ظاہر کی تھی تاہم نجی شعبے کے قرضوں میں یہ کمی کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ امید ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) رواں سال کے ایل ایس ایم کے اعداد و شمار جاری کرے گا تو ان سوالات کے جوابات بھی مل جائیں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیاں جولائی 2026 میں جولائی 2025 کے مقابلے میں 8.4 فیصد بڑھیں، تاہم بنیادی ساختی اصلاحات اب بھی زیرِ التوا ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد ٹیکس وصولیوں میں آسانی کے بجائے ادائیگی کی استطاعت کے اصول پر زیادہ انحصار کرنا ہونا چاہیے کیونکہ بالواسطہ ٹیکسوں پر مسلسل انحصار برقرار ہے جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریب طبقے پر زیادہ پڑتا ہے۔ یہی صورتحال ملک میں 42.2 فیصد کی بلند شرحِ غربت کی ایک اہم وجہ بھی ہے۔
آخر میں وزارتِ خزانہ کی جانب سے معیشت میں شرح نمو کو آگے بڑھانے کا اہم ذریعہ قرار دی جانے والی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) اب بھی ایک خواب دکھائی دیتی ہے۔ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق یہ جولائی 2025 کے 223.5 ملین ڈالر سے کم ہو کر جولائی 2026 میں 178.6 ملین ڈالر رہ گئی۔
اگرچہ معاشی استحکام جو 2019 سے پاکستانی حکومتوں کے لیے ایک اہم ہدف رہا ہے اور جس کے حصول میں انہیں مسلسل مشکلات کا سامنا رہا، اب حاصل کرلیا گیا ہے تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ آزاد ماہرینِ اقتصادیات میں یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کی ہدایات پر من و عن عمل کرنا شاید آگے بڑھنے کا بہترین راستہ نہیں ہے۔
اس کے بجائے ملک میں جامع داخلی اصلاحات کی ضرورت ہے جن میں سالانہ بجٹ میں موجودہ اخراجات میں اضافے کی شرح میں نمایاں کمی، بجٹ خسارے کو پائیدار سطح پر لانے کے لیے ملکی اور بیرونی ذرائع سے قرض لینے پر انحصار سے گریز اور اگر معیشت کو نجی شعبے کے ذریعے دوبارہ متحرک کرنا ہے تو قومی بچت مراکز میں موجود نجی شعبے کی بچتوں کو بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے شعبے کی جانب منتقل کرنا شامل ہے۔ بلاشبہ قرض فراہم کرنے والے ادارے بھی ایسے اقدامات کی حمایت کریں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments