BR100 Decreased By (-0.6%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.55%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.97 Decreased By ▼ -0.15 (-1.14%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.35 Decreased By ▼ -5.10 (-2.65%)
FABL 93.80 Decreased By ▼ -0.34 (-0.36%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.45 Decreased By ▼ -0.27 (-1.83%)
GGL 19.02 Decreased By ▼ -0.54 (-2.76%)
HBL 305.56 Decreased By ▼ -0.54 (-0.18%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 91.49 Decreased By ▼ -1.67 (-1.79%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.69 Decreased By ▼ -4.22 (-1.86%)
PRL 91.18 Decreased By ▼ -1.84 (-1.98%)
SNGP 90.70 Decreased By ▼ -1.14 (-1.24%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.64 Decreased By ▼ -0.16 (-2.05%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکی کے بعد ایران کا امریکا سے عبوری معاہدے کی پاسداری پر زور

  • امریکا، ایران میں دھمکیوں اور حملوں کا تبادلہ، عالمی جنگ کے خدشات بڑھ گئے؛ تیل کی قیمتیں متاثر، دونوں فریق مکمل جنگ سے گریز کے دعویدار
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے منگل کے روز کہا ہے کہ اگر امریکا جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت تنازع روکنے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو ایران بھی اس کی پاسداری کرے گا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر مزید حملوں کی دھمکی کے بعد کشیدگی بدستور عروج پر ہے۔

جولائی کے اواخر کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست حملوں کے پہلے تبادلے اور آبنائے ہرمز سے نکلنے والے دو آئل ٹینکروں پر فائرنگ کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے، جسے ایران نے عملاً بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کر رکھا ہے۔

چھ ماہ سے جاری تنازع اتوار کو امریکا کی جانب سے ایران کے جزیرے لارک پر حملے سے قبل ایک اقتصادی محاذ آرائی میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اس حملے کے جواب میں ایران نے رات گئے اردن میں موجود دو امریکی فضائی اڈوں پر میزائل داغے۔

فاکس نیوز کے ایک رپورٹر نے ٹرمپ کے حوالے سے پیر کو کہا، ’’ہم ان پر سخت حملہ کریں گے۔۔۔ جواب دیا جائے گا۔‘‘ تاہم صدر ٹرمپ نے الگ سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ شروع ہونے والے حملوں کا مطلب یہ نہیں کہ مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ’’محدود اور قابو میں‘‘ تھا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران سخت جواب دے گا۔

اگرچہ بظاہر دونوں فریق دوبارہ مکمل جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے، تاہم مزید حملوں کا جواب دینے کے ان کے عزم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ایسا تنازع، جو بتدریج پابندیوں، ناکہ بندیوں اور معاشی دباؤ کے ذریعے لڑا جا رہا تھا، کتنی تیزی سے دوبارہ فوجی کارروائیوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

ایران تنازع ’’طول پکڑنے‘‘ کا خدشہ

تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت اسی صورت میں بحال کرے گا جب واشنگٹن جون میں دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شرائط پر عمل درآمد کرے گا، تاہم یہ معاہدہ جلد ہی عملی طور پر غیر مؤثر ہوگیا تھا۔

ایم او یو میں لڑائی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم کئی مشکل ترین معاملات کو مؤخر کردیا گیا تھا اور وسیع تر مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت کی راہ ہموار کی گئی تھی، جو کسی مزید معاہدے کے بغیر گزر گئی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا، ’’میں واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ اگر امریکا مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر واپس آتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران فوری طور پر اس کا جواب دے گا۔‘‘

وہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ تنظیم کے ارکان میں روس، چین، بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

انہوں نے پیر کو یہ بھی کہا تھا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور تہران اب بھی مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے تیار ہے۔

تاہم کسی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے اور رواں ہفتے بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کے اہم خام تیل پیدا کرنے والے خطے سے تیل کی رسد میں خلل کے خدشات ایک بار پھر بڑھا دیے ہیں۔ منگل کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں مزید 1.3 فیصد اضافہ ہوا۔

پی وی ایم کے تجزیہ کار جان ایونز نے کہا، ’’امریکا اور ایران کے درمیان میزائل حملوں کے جواباً تبادلے سے ان لوگوں کے خدشات درست ثابت ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اگرچہ یہ ’لامتناہی جنگ‘ نہ بھی ہو، تاہم یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔‘‘

ان خدشات کو تقویت اس وقت ملی جب شپنگ انٹیلی جنس اور ٹریکنگ کمپنیوں میریسک اور کلیپر کے اعدادوشمار کے مطابق پیر کی رات آبنائے ہرمز سے باہر نکلتے ہوئے سعودی عرب کا تیل لے جانے والے دو سپر ٹینکرز کو چند منٹ کے وقفے سے نامعلوم سمت سے داغے گئے گولوں کا نشانہ بنایا گیا۔

معاشی دباؤ

28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے اس تنازع میں ہزاروں افراد، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان کے شہری شامل ہیں، جاں بحق ہوچکے ہیں۔ واشنگٹن نے تہران کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے اور تنازع کے خاتمے پر مجبور کرنے کے لیے بتدریج معاشی دباؤ کا سہارا بڑھا دیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے ممالک کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے تحت ثانوی پابندیوں کا اعلان ہر ہفتے متوقع ہے، جن کا ابتدائی ہدف بینک ہوں گے۔

ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے منگل کو کہا کہ تہران کے پاس زرمبادلہ کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ہمتی نے کہا کہ حالیہ اتار چڑھاؤ پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک زرمبادلہ کی مارکیٹ میں 2 ارب ڈالر تک کی رقم فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا، ’’میں امریکا کے صدر سے کہہ رہا ہوں کہ ایران کے پاس زرمبادلہ موجود ہے اور وہ کافی ہے۔‘‘

ان کے بیانات کا مقصد بظاہر مارکیٹ کو کسی حد تک مطمئن کرنا تھا، کیونکہ پزشکیان سمیت ایرانی حکام ایران کی معیشت کو درپیش بڑھتی ہوئی مشکلات کی نشاندہی کرچکے ہیں۔

اگست میں ایرانی کرنسی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور ایک ڈالر کے مقابلے میں 20 لاکھ ریال کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گئی، جبکہ جولائی میں سالانہ افراطِ زر کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی۔

Comments

200 حروف