27 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے ہر جمعہ کو جاری کیے جانے والے حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے 51 ضروری اشیاء شامل ہیں جس میں 0.05 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ توقع کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں 3.46 فیصد، ڈیزل میں 2.44 فیصد، بجلی میں 2.06 فیصد اور پٹرول کی قیمت میں 1.71 فیصد نمایاں اضافہ ہوا۔
ان چاروں اشیاء کی ملکی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار جائز طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع جیسے بیرونی عوامل کو ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
جلد خراب ہونے والی اشیاء کی موسمی فراہمی میں اتار چڑھاؤ اور نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے اثرات دیگر چند اشیاء میں بھی نمایاں نظر آئے، تاہم ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں ایک فیصد سے کم اضافہ ہوا۔ ان میں دال چنا 0.88 فیصد، گندم کا آٹا 0.39 فیصد، انڈے 0.14 فیصد اور دال ماش 0.17 فیصد شامل ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق پاکستان بھر میں 2026 کے مون سون سیزن کے دوران 26 جون سے 28 اگست تک 175 افراد جاں بحق اور 500 زخمی ہوئے جبکہ مجموعی طور پر 34.43 کلومیٹر سڑکیں اور 41 پل متاثر ہوئے۔ تاہم مون سون کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا، اس لیے فصلوں کی پیداوار پر پڑنے والے اثرات کا تاحال تخمینہ نہیں لگایا جا سکا۔
تاہم این ڈی ایم اے نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا ہے کہ بڑے زرعی مراکز میں معمول سے کم بارشیں ہوئی ہیں جبکہ سب سے نمایاں کمی شمال مشرقی اور وسطی پنجاب، جنوب مشرقی سندھ اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں ریکارڈ کی گئی۔
معمول سے زیادہ دن کے درجہ حرارت اور خشک موسم کے باعث بخارات بننے کی شرح میں اضافہ ہوا جس سے آبپاشی کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا۔ دوسری جانب نمی میں اضافے نے پودوں کے پتوں کی سطح پر فنگس کے جراثیم اور بیکٹیریا کے اگنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کردیا جس کے نتیجے میں جھلساؤ، پاؤڈری میلڈیو اور جڑوں کے گلنے جیسی بیماریاں پھیلیں۔
پاکستان اپنی ضروریات کی کمی پوری کرنے کے لیے عموماً سعودی عرب سے تقریباً 150 ملین ڈالر مالیت کی کھاد درآمد کرتا تھا تاہم مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث رواں سال مراکش پر زیادہ انحصار کیا گیا۔
تاہم اس کے باوجود اندازہ ہے کہ اس تنازع کے باعث عالمی سطح پر کھاد کی قلت پیدا ہوگی جس سے دنیا بھر میں زرعی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، خصوصاً افریقی ممالک میں۔ بعض اندازوں کے مطابق کھاد کی قلت کے نتیجے میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگر غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان بھی اس اضافے سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں جولائی 2026 میں سالانہ غذائی مہنگائی 10.64 فیصد تک پہنچ گئی جس کے باعث بنیادی اشیائے ضروریہ خاصی مہنگی ہوگئیں۔ یہی صورتحال جزوی طور پر خراب ہونے والی غذائی اشیا، گندم، آٹے اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافے کی بھی وضاحت کرتی ہے۔
جون میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں 9.38 فیصد، مئی میں 7.93 فیصد اور اپریل میں 7.63 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اگست کے اعدادوشمار ابھی جاری نہیں کیے گئے، اس لیے یہ امکان موجود ہے کہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کو کسی حد تک محدود رکھا گیا ہو۔
غذائی اشیا غریب گھرانوں کے اخراجات میں سب سے بڑا حصہ رکھتی ہیں لہٰذا آمدنی جتنی کم ہو، خوراک کی خریداری پر خرچ ہونے والی آمدنی کا تناسب اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔
تاہم گزشتہ جمعہ کو پی بی ایس کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار میں تشویش کی کچھ سنجیدہ وجوہات سامنے آئی ہیں کیونکہ سب سے کم خرچ والے طبقے (17,732 روپے تک) کے لیے ایس پی آئی 20 اگست 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے 350.03 سے کم ہو کر گزشتہ ہفتے 340.42 رہ گیا۔ اسی طرح 17,733 سے 22,888 روپے آمدنی والے طبقے میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں ایس پی آئی 20 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے 350.90 سے کم ہو کر 350.55 ہوگیا۔ جبکہ تمام اخراجاتی طبقات کو ملا کر مجموعی ایس پی آئی میں معمولی اضافہ ہوا اور یہ 360.9 سے بڑھ کر 361.07 ہوگیا۔
آزاد ماہرینِ اقتصادیات کی جانب سے پی بی ایس کے اعدادوشمار کی قابلِ اعتماد ہونے پر سوالات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بعض ماہرین کا مؤقف ہے کہ افراطِ زر کی شرح اصل شرح سے 2 سے 3 فیصد پوائنٹس کم ظاہر کی جارہی ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ اگرچہ سیاسی مصلحتیں حکومتی اداروں کو بعض ایسے اہم اعدادوشمار کم ظاہر کرنے پر مجبور کرسکتی ہیں جن کا براہِ راست تعلق عوام کے معیارِ زندگی سے ہے، تاہم اعدادوشمار میں دانستہ ردوبدل حکومت کو مناسب تدارکی اقدامات کرنے سے بھی روک دیتا ہے۔ امید ہے کہ پی بی ایس کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کی سختی سے جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ حکومت بروقت مناسب اقدامات کرسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments