ایران پر نئی امریکی پابندیاں، وزارت تجارت تاحال کوئی منصوبہ تیار نہ کرسکی
- حکام کے ساتھ پسِ پردہ بات چیت سے معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے
وزارت تجارت نے ایران پر امریکا کی نئی متوقع پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے تاحال کوئی ٹھوس منصوبہ تیار نہیں کیا، حالانکہ اس کے پاکستان کی غیر رسمی تجارت اور پڑوسی ملک کو برآمدات پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام کے ساتھ پسِ پردہ بات چیت سے معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے 24 اگست کو اعلان کردہ آپریشن اکنامک ڈی ڈے پر تاحال عمل درآمد شروع نہیں ہوا۔ اس اقدام کے تحت ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر سخت سیکنڈری سینکشنز عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
سرکاری طور پر ایران کے لیے پاکستان کی برآمدات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ غیر سرکاری تجارت کا حجم سالانہ تقریباً 800 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت زیادہ تر غیر رسمی ذرائع یا بارٹر ارینجمنٹس کے تحت ہوتی ہے۔
ایران کو چاول کی برآمدات بنیادی طور پر گبد بارڈر کراسنگ پوائنٹ (بی سی پی) کے ذریعے جبکہ آم کی کھیپیں عموماً تفتان بی سی پی کے راستے بھیجی جاتی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون اور جولائی 2026 کے دوران تقریباً 1,209 چاول بردار ٹرک گبد کے راستے گزرے، جبکہ اسی عرصے میں تقریباً 1,121 آم بردار ٹرک تفتان کے راستے روانہ ہوئے۔
حکام نے بلوچستان کی مخدوش سکیورٹی صورتحال، خصوصاً کوئٹہ تفتان روٹ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اگرچہ مال بردار گاڑیاں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے قافلوں میں سفر کرتی ہیں، تاہم کارگو گاڑیوں پر حملے اب بھی دوطرفہ تجارت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔
رسمی تجارت کے حوالے سے پاکستان نے ایران سے درآمدات اور ایران کوریڈور کے ذریعے سی اے آر ایس کے تحت آنے والے کارگو کے لیے مالیاتی ذرائع (فنانشل انسٹرومنٹس) کی شرط سے استثنیٰ دے رکھا ہے۔
ایران کو بعض ضروری اشیا، جن میں خوراک، ادویات اور خیمے شامل ہیں، کی برآمدات، جبکہ ایران کے زمینی راستے سے سی اے آر ایس/آذربائیجان کو چاول کی برآمدات کو بھی 3 ماہ کے لیے فنانشل انسٹرومنٹ کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
یہ معاملہ پاکستان اور ایران کے درمیان پاک ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کے 10ویں اجلاس کے بعد مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، جو 3 سے 5 اگست 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت اور ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت نے کی۔
اجلاس میں دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں، بشمول تجارت، کسٹمز، ٹرانسپورٹیشن اور تجارت سے متعلق دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک کے کسٹمز حکام نے ٹی آئی آر کارنیٹس کے تحت اور آن لائن ٹی آئی آر (ای۔ٹی آئی آر) سسٹم کے ذریعے اشیا کی روڈ ٹرانزٹ مینجمنٹ کے لیے تمام ضروری انتظامات پر عمل درآمد پر اتفاق کیا۔
دونوں جانب نے تجارت کو سہولت دینے اور تاخیر کم کرنے کے لیے پاکستان ایران سرحد پر تمام کسٹمز بارڈر کراسنگ پوائنٹس پر 24/7 کسٹمز آپریشنز یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان اور ایران نے گبد ریمدان اور تفتان میرجاوہ بارڈر کراسنگز کی آپریشنل استعداد بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے ریلوے رابطوں اور ایئر کارگو آپریشنز کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
حکام کے مطابق ان اقدامات پر عمل درآمد سے رسمی دوطرفہ تجارت کو سہولت مل سکتی ہے۔ تاہم ایران پر امریکی پابندیوں میں ممکنہ سختی پاکستان کی ایران کوریڈور کے ذریعے تجارت کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے، بالخصوص ان برآمد کنندگان اور تاجروں کے لیے جو سرحدی منڈیوں پر انحصار کرتے ہیں۔
حکام نے زور دیا کہ ایران کے لیے پاکستان کی رسمی برآمدات پہلے ہی محدود ہیں جبکہ تجارت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی طور پر ہوتا ہے، اس لیے اسلام آباد کو امریکا کے کسی بھی نئے اقدام کے ممکنہ اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور کونٹیجنسی اسٹریٹیجی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments