فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ٹرمپ کے نمائندے کے طور پر ایران کا دورہ کرنے سے متعلق دعویٰ غلط اور گمراہ کن ہے، دفترخارجہ
- پاکستان ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے لیے تیار ہے، ترجمان طاہر اندرابی
دفتر خارجہ نے بعض حلقوں میں گردش کرنے والے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکا کے نمائندے کی حیثیت سے ایران کا دورہ کیا تھا۔ دفتر خارجہ نے ان دعوؤں کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا 24 اگست کو تہران کا دورہ امریکا ایران تنازع کے پرامن حل کے لیے خالصتاً پاکستان کی جاری کوششوں کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے بات چیت میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، فوجی تعطل ختم کرنے اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکراتی حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز رہی۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کا بھی حصہ تھا اور واشنگٹن و تہران کے درمیان اختلافات ختم کرنے میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق ایرانی قیادت نے کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ اور خلیج میں بحران کے حل کے لیے برادر ممالک کے ساتھ مخلصانہ اور مربوط کوششوں میں فعال طور پر مصروف رہا ہے، بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں۔
دریں اثنا انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کے تحت خطے میں اپنے ہم منصبوں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔
طاہر اندرابی نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار نے 17، 19 اور 25 اگست کو ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے تین ٹیلی فونک گفتگو کیں، جن میں علاقائی صورتحال اور خطے میں امن کے لیے مذاکرات و سفارت کاری کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے 14 اگست کو مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور 24 اگست کو کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے بھی گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال کے ساتھ مذاکرات، سفارت کاری اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے گا اور امن مذاکرات کی بحالی اور علاقائی تنازعات کے جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف 31 اگست سے یکم ستمبر تک ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا دورہ کریں گے۔
طاہراندرابی نے کہا کہ اجلاس کے بعد پاکستان ایک سال کے لیے ایس سی او کی سربراہی سنبھالے گا، جبکہ پاکستان کی صدارت کی اہم سرگرمی 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والا ایس سی او سربراہ اجلاس ہوگا۔
وزیراعظم دورے کے دوران کرغز قیادت سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے جبکہ دورے کی مزید تفصیلات آئندہ دنوں میں جاری کی جائیں گی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اس وقت سرکاری دورے پر لندن میں ہیں، جہاں ان کی توجہ پاکستان، برطانیہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور، بحری سلامتی، دولت مشترکہ سے متعلق روابط اور برطانوی ارکان پارلیمنٹ و پاکستانی کمیونٹی سے رابطوں پر مرکوز ہے۔
دورے کے دوران اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیز سے ملاقات کی اور صومالی بحری قزاقوں کے زیر حراست بحری جہاز ایم وی آنر پر سوار 10 پاکستانی ملاحوں کی بحفاظت رہائی کے لیے فوری ادارہ جاتی مداخلت کی درخواست کی۔
دونوں جانب سے بحری سلامتی، ضابطہ جاتی اصلاحات اور بلیو اکانومی کے شعبوں میں پاکستان اور آئی ایم او کے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے پاکستانی نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے ایک کثیرالجماعتی گروپ سے بھی ملاقات کی۔ بات چیت میں پاکستان، برطانیہ تعلقات، جموں و کشمیر تنازع، مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں، مکہ دفاعی معاہدے اور آزاد جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دولت مشترکہ کی سیکریٹری جنرل شرلی آیورکور بوچوے سے الگ ملاقات میں اسحاق ڈار نے دولت مشترکہ کے اصولوں کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور نوجوانوں کی ترقی، موسمیاتی لچک، اقتصادی ترقی اور دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ میں تعاون پر گفتگو کی۔
ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے دولت مشترکہ کی سیکریٹری جنرل کو امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے پاکستان کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
لندن روانگی سے قبل اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویرا اور ازبک وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
گفتگو میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی و عالمی امن و سلامتی، کثیرالجہتی تعاون، دوطرفہ تعلقات اور آئندہ ایس سی او سربراہ اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
طاہر اندرابی نے 19 سے 20 اگست تک شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کے پاکستان کے دورے کا بھی ذکر کیا اور اسے نئی شامی حکومت کے قیام کے بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ قرار دیا۔
پاکستان اور شام نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے ادارہ جاتی روابط اور تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران علاقائی صورتحال پر متعدد بیانات جاری کرنے میں دیگر عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ بھی شرکت کی۔
انہوں نے 16 اگست کو آٹھ اسلامی ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کا حوالہ دیا، جس میں غزہ سے متعلق امریکی جامع منصوبے پر عملدرآمد کے لیے روڈ میپ کو مسترد کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت پر اسرائیل کی مذمت کی گئی تھی۔
ان ممالک نے منصوبے پر فوری عملدرآمد، جنگ کے خاتمے اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کا مطالبہ کیا۔
22 اگست کو پاکستان ان 11 اسلامی ممالک میں بھی شامل تھا جنہوں نے شمال مغربی شام میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔























Comments