BR100 Decreased By (-0.72%)
BR30 Decreased By (-1.21%)
KSE100 Decreased By (-0.6%)
KSE30 Decreased By (-0.54%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.15 Decreased By ▼ -0.20 (-0.66%)
CNERGY 13.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.53%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.50 Decreased By ▼ -3.95 (-2.05%)
FABL 93.96 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
FCCL 52.08 Decreased By ▼ -0.71 (-1.34%)
FFL 14.53 Decreased By ▼ -0.19 (-1.29%)
GGL 19.10 Decreased By ▼ -0.46 (-2.35%)
HBL 304.48 Decreased By ▼ -1.62 (-0.53%)
HUBC 199.70 Decreased By ▼ -1.72 (-0.85%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.07 Decreased By ▼ -0.02 (-0.33%)
LOTCHEM 26.35 Decreased By ▼ -0.11 (-0.42%)
MLCF 91.39 Decreased By ▼ -1.77 (-1.9%)
OGDC 313.70 Decreased By ▼ -3.03 (-0.96%)
PAEL 35.29 Decreased By ▼ -0.34 (-0.95%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 240.45 Decreased By ▼ -2.76 (-1.13%)
PPL 222.24 Decreased By ▼ -4.67 (-2.06%)
PRL 91.59 Decreased By ▼ -1.43 (-1.54%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.62 Decreased By ▼ -0.18 (-2.31%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.22 (-1.7%)
TRG 56.14 Decreased By ▼ -0.42 (-0.74%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
اداریہ

آئین پر عملدرآمد کیلئے بھی رقم نہیں؟

  • حکومت نے آئینی اختیارات کی منتقلی کا وہ عمل مکمل نہیں کیا جو بہت پہلے طے ہوجانا چاہیے تھا۔
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت جو اخراجات پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور بار بار غیر ملکی قرض دہندگان سے رجوع کرتی ہے، اب سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کی جانب سے اس الزام کا سامنا کر رہی ہے کہ وہ محض اس وجہ سے ہر سال 5 سے 6 ٹریلین روپے ضائع کر رہی ہے کہ اس نے آئینی اختیارات کی منتقلی کا وہ عمل مکمل نہیں کیا جو بہت پہلے طے ہوجانا چاہیے تھا۔

ڈیولوشن پرسینیٹ کی ذیلی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ وزارتیں، ادارے اور فرائض جو صوبوں کو منتقل ہوجانے چاہییں تھے یا مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ کار میں آنے چاہییں، 18ویں آئینی ترمیم کے باوجود وفاق کے پاس برقرار ہیں۔ اگر مالی لاگت کے حوالے سے کمیٹی کا تخمینہ درست ہے تو اس ناکامی کا حجم انتہائی تشویش ناک ہے۔

کمیٹی نے 25 وزارتوں اور اداروں کی نشاندہی کی ہے جنہیں اس کے مطابق وفاقی حکومت نے غیر قانونی طور پر اپنے پاس برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان میں صحت، تعلیم، قومی غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، ہاؤسنگ، پٹرولیم، منصوبہ بندی و ترقی، ریلوے اور واپڈا سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ 18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد سے وفاقی اخراجات میں سالانہ 5 سے 6 ٹریلین روپے تک کمی لائی جاسکتی ہے۔

مالی سال 2026-27 کے تقریباً 19 ٹریلین روپے کے وفاقی بجٹ کے مقابلے میں یہ معمولی نوعیت کا معاملہ نہیں بلکہ حکومتی ڈھانچے کے مرکز میں موجود ایک ممکنہ انتہائی بڑی ساختی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔

واضح سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال کو برقرار رہنے کیسے دیا گیا؟ 18ویں آئینی ترمیم 2010 میں منظور ہوئی اور اختیارات کی منتقلی کا عمل باضابطہ طور پر جون 2011 تک مکمل کرلیا گیا تھا۔ اگر وفاقی ادارے ایسے فرائض انجام دیتے رہے ہیں جو آئین کے تحت کسی اور سطح کو تفویض کیے گئے تھے تو ضروری نشاندہی بہت پہلے کیوں نہیں کی گئی؟ اور اگر کی گئی تھی تو اسے کس نے نظرانداز کیا؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس مالی نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

ان سوالات کے جوابات ضروری ہیں کیونکہ حکومت ایک ہی وقت میں مالی مشکلات کا حوالہ، کفایت شعاری کے اقدامات، رائٹ سائزنگ اور بیرونی فنانسنگ کی کوشش جاری نہیں رکھ سکتی جبکہ مبینہ طور پر اتنے بڑے پیمانے پر اختیارات اور اداروں کی تکرار برداشت کرتی رہے۔

یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں ریاست کے حجم اور اخراجات کم کرنے کے وعدے کرتی رہی ہیں۔ تاہم کمیٹی کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتی مشینری ایسے ڈھانچوں کے ذریعے وسائل استعمال کرتی رہی ہے جن کے آئینی جواز پر اب کھلے عام سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

یہ صورتحال پاکستان میں اصلاحات کو بار بار ناکام بنانے والی گہری انتظامی خرابی کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ قوانین منظور کیے جاتے ہیں، آئینی ترامیم کو سراہا جاتا ہے، عملدرآمد کمیشن قائم کیے جاتے ہیں اور آخری تاریخیں مقرر کی جاتی ہیں، لیکن پرانا انتظامی ڈھانچہ کسی نہ کسی طرح برقرار رہنے کے راستے نکال لیتا ہے۔ بیوروکریسی کے مفادات، سیاسی سرپرستی اور ادارہ جاتی جمود نے اصلاحات کے خلاف غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔

جہاں عوامی خزانے کی اتنی بڑی رقم ممکنہ طور پر شامل ہو، وہاں نااہلی اور اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

تاہم کمیٹی کے نتائج کو اب مناسب جانچ پڑتال سے گزرنا ہوگا۔ اس کے 5 سے 6 ٹریلین روپے کے تخمینے کو وزارت اور فرائض کی سطح پر تفصیل سے تقسیم کیا جانا چاہیے، جبکہ جن اداروں کی نشاندہی کی گئی ہے ان کی آئینی حیثیت اور حقیقی اخراجات کو شفاف انداز میں طے کیا جانا چاہیے۔ اتنے غیر معمولی دعوے کے لیے اتنے ہی مضبوط شواہد درکار ہیں۔ تاہم جہاں اختیارات کی تکرار یا آئینی دائرہ اختیار سے باہر اداروں کو برقرار رکھنا ثابت ہوجائے، وہاں یہ تقاضا اصلاحی کارروائی میں مزید تاخیر کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔

اس صورتحال میں خاصی تلخ ستم ظریفی ہے کہ پاکستان ریاستی امور چلانے کے لیے بار بار قرض لے رہا ہے، جبکہ ریاست کے اندر ہی کھربوں روپے کے ایسے اخراجات ممکنہ طور پر برداشت کیے جارہے ہیں جن سے بچا جاسکتا ہے۔

قرض ملک کے مالیاتی ڈھانچے کا مستقل حصہ بن چکا ہے کیونکہ اخراجات مسلسل دستیاب وسائل سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اگر کمیٹی کی نشاندہی کردہ بچت کا ایک بڑا حصہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے تو اسے حاصل کرنے میں ناکامی ناقابلِ دفاع ہوگی۔

لہٰذا حکومت کو کمیٹی کے نتائج کا فوری اور مقررہ مدت کے اندر جائزہ لینے کا حکم دینا چاہیے اور اس جائزے کے نتائج عوام کے سامنے پیش کرنے چاہییں۔

ہر وہ وزارت اور ادارہ جو ایسے فرائض انجام دے رہا ہو جو آئینی طور پر اب وفاق کے پاس نہیں رہے، اسے قانون کے مطابق صوبوں کو منتقل، ازسرنو تشکیل یا ختم کیا جانا چاہیے اور غیر ضروری اخراجات کی ذمہ داری بھی متعین کی جانی چاہیے۔

ٹیکس دہندگان سے مزید رقم طلب کرنے یا قرض دہندگان سے ایک اور قرض لینے سے پہلے اسلام آباد کو بالآخر اپنے ہی آئین پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف