اسرائیلی وزیر اعظم نے ترک صدر اردگان کو سام دشمن آمر قرار دے دیا
- ترکیہ نے جمعے کو نیتن یاہو کے عالمی سطح پر گرفتاری وارنٹ کے لیے درخواست دینے کا اعلان کیا ہے
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے جمعے کو ترک صدر رجب طیب اردوان کو ’’سام دشمن آمر‘‘ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل ’’خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ترکیہ کی کوششوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے گا‘‘۔
یہ بیان شام کی جانب سے اسرائیل پر ملک کے شمال میں ایک فضائی اڈے کو بمباری کا نشانہ بنانے کے الزام کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ یہ اڈہ ترکیہ کی سرحد سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع ہے۔ بعد ازاں نیتن یاہو نے بھی بالواسطہ طور پر اس حملے کا اعتراف کیا تھا۔
نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ترکیہ وہاں فوجی موجودگی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ترکیہ نے اڈے کے دورے کی تردید کی ہے۔
یہ بیان ترکیہ کی جانب سے جمعے کو کیے گئے اس اعلان کے بعد بھی سامنے آیا ہے کہ اس نے نیتن یاہو کے عالمی سطح پر گرفتاری وارنٹ کے حصول کی درخواست دی ہے۔ ترکیہ نے غزہ کے لیے امدادی بحری بیڑے کو اسرائیل کی جانب سے روکنے کے معاملے میں نیتن یاہو پر ’’نسل کشی‘‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا، ’’اسرائیل طویل عرصے سے ترکیہ کے منافقانہ رویے سے متاثر نہیں ہوا۔ اردوان ایک سام دشمن آمر ہے جس نے کردوں کا قتلِ عام کیا، حماس کی دہشت گرد تنظیم کے قتلِ عام کی حمایت کی اور اپنے ہی عوام کو دبایا۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل ’’خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ترکیہ کی کوششوں اور اپنی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے گا۔‘‘
منگل کو شام نے اسرائیل پر شمال مغربی شہر حلب کے قریب ایک غیر فعال فوجی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ یہ اڈہ خانہ جنگی کے دوران نقصان پہنچا تھا اور 2012 سے غیر فعال ہے۔
اسرائیل نے کہا تھا کہ ترکیہ کے ایک فوجی وفد نے حال ہی میں اس مقام کا دورہ کیا تھا، جبکہ شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ایک مانیٹرنگ گروپ نے کہا کہ یہ اڈے کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔
ترکیہ نے جمعرات کو اڈے پر کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے شام کی خودمختاری کی ’’مستقل مزاجی سے‘‘ حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
نیتن یاہو کے دفتر نے جمعے کو انگریزی زبان میں جاری بیان میں اردوان پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’اسرائیل کے خلاف اپنی جارحیت کو شام تک وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
بیان میں کہا گیا ہے، ’’اسرائیل اسے برداشت نہیں کرے گا۔‘‘
























Comments