سیلاب اور ناقص منصوبہ بندی
- شہری پھیلاؤ اکثر موجودہ نکاسی آب کے نظام کا خیال رکھے بغیر کیا گیا ہے
لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژنز کے بعض علاقوں میں حالیہ سیلاب اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آفات اکثر انسانی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور کمزور عمل درآمد کے باعث مزید سنگین ہوجاتی ہیں۔ پنجاب اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک اندرونی رپورٹ اس بات کے پریشان کن شواہد فراہم کرتی ہے کہ رواں سال مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی تباہی محض قدرتی آفت نہیں تھی جسے ٹالا نہ جاسکتا ہو۔
پرانے پلوں اور کلورٹس کی بندش، قدرتی آبی گزرگاہوں میں رکاوٹ، نالوں میں غیر مجاز کٹ اور ناقص منصوبہ بندی کے تحت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ان تمام عوامل نے بحران کو سنگین بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
شہری پھیلاؤ اکثر موجودہ نکاسی آب کے نظام کا خیال رکھے بغیر کیا گیا ہے، جہاں سڑکیں، عمارتیں اور دیگر ڈھانچے قدرتی آبی گزرگاہوں کے ساتھ یا ان کے اوپر تعمیر کردیئے گئے، جس سے شدید بارش ایک تباہی میں تبدیل ہوگئی۔
اتنی ہی تشویش ناک بات یہ انکشاف ہے کہ 131 حساس مقامات پر 99 نالے اپنی گنجائش سے اوپر بہہ گئے، جس کے نتیجے میں شگاف پڑے اور غیر مجاز کٹ لگائے گئے۔ اگرچہ مقامی رہائشیوں نے اپنی زیرِ آب زمینوں سے پانی نکالنے کے لیے مجبوری کے تحت ایسے کٹ لگائے ہوں گے، لیکن پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بوجھ برداشت کرنے والے نالوں میں پانی کا رخ موڑنے سے مسئلہ صرف ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ انتظامیہ کی ایک بڑی ناکامی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
حکام کو چاہیے کہ ہنگامی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے ہی آبادیوں کو محفوظ اور قانونی نکاسی آب کے راستے فراہم کریں، جبکہ قدرتی آبی گزرگاہوں میں تجاوزات اور دیگر رکاوٹیں پیدا کرنے والی مداخلتوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
اب حکومت کو عارضی سیلاب سے نمٹنے کے اقدامات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ شگافوں کی مرمت اور مشینری کی تعیناتی ضروری ہنگامی اقدامات ہیں، لیکن یہ طویل مدتی منصوبہ بندی کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ نالوں، ڈرینز، کلورٹس اور سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کی جامع نقشہ سازی کی جانی چاہیے۔
قدرتی نکاسی آب کے لیے ضروری بند کیے گئے نالوں کو دوبارہ کھولا جائے یا ان کی جگہ مناسب ڈیزائن کے حامل نئے ڈھانچے تعمیر کیے جائیں۔ نئی سڑکوں، ہاؤسنگ اسکیموں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی اجازت ایسے انداز میں نہیں دی جانی چاہیے جس سے موجودہ آبی گزرگاہوں میں رکاوٹ پیدا ہو۔
نکاسی آب کے نظام کو سیپیج کم اسٹورم واٹر ڈرینز میں تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، جبکہ نشیبی اور حساس علاقوں میں بند اور پشتوں کو مزید مضبوط کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر، سیلاب سے نمٹنے کا انتظام ایک مربوط ذمہ داری بننا چاہیے جس میں محکمہ آبپاشی، مقامی حکومت، ہائی ویز، ریلوے اور شہری ترقی کے ادارے مشترکہ طور پر کام کریں، بجائے اس کے کہ یہ ذمہ داری صرف ایک محکمے تک محدود رہے۔
موسمیاتی تبدیلی شدید اور غیر متوقع بارشوں کے امکانات میں اضافہ کر رہی ہے۔ حکومت ہر سیلاب کو روک نہیں سکتی، لیکن وہ ناقص منصوبہ بندی کو شدید بارش کو انسانی المیے میں تبدیل کرنے سے روک سکتی ہے۔
لہٰذا حالیہ سیلاب کو محض ایک قدرتی آفت نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے اس انتباہ کے طور پر لیا جانا چاہیے کہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں کو فوری طور پر زیادہ بہتر، مربوط اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات برداشت کرنے والے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
سبق بالکل واضح ہے: مؤثر سیلابی انتظام بارشیں شروع ہونے سے بہت پہلے شروع ہوجاتا ہے، جس کے لیے قدرتی نکاسی آب کے راستوں کا تحفظ، موجودہ بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبے قدرتی آبی گزرگاہوں اور نکاسی آب کے قدرتی نظام کا احترام کرتے ہوئے تشکیل دیے جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments