BR100 Increased By (0.36%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.37%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.49 (0.87%)
BIPL 24.96 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 30.35 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 13.12 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 15.90 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
DGKC 192.45 Increased By ▲ 0.09 (0.05%)
FABL 94.14 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
FCCL 52.79 Increased By ▲ 0.41 (0.78%)
FFL 14.72 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 19.56 Decreased By ▼ -0.44 (-2.2%)
HBL 306.10 Increased By ▲ 3.95 (1.31%)
HUBC 201.42 Decreased By ▼ -1.29 (-0.64%)
HUMNL 10.16 Increased By ▲ 0.05 (0.49%)
KEL 6.09 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.46 Decreased By ▼ -0.89 (-3.25%)
MLCF 93.16 Increased By ▲ 0.41 (0.44%)
OGDC 316.73 Decreased By ▼ -1.03 (-0.32%)
PAEL 35.63 Increased By ▲ 0.13 (0.37%)
PIBTL 14.68 Increased By ▲ 0.11 (0.75%)
PIOC 243.21 Increased By ▲ 0.17 (0.07%)
PPL 226.91 Decreased By ▼ -0.88 (-0.39%)
PRL 93.02 Increased By ▲ 0.45 (0.49%)
SNGP 91.84 Decreased By ▼ -0.08 (-0.09%)
SSGC 23.81 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 7.80 Increased By ▲ 0.02 (0.26%)
TPLP 12.97 Increased By ▲ 0.30 (2.37%)
TRG 56.56 Decreased By ▼ -1.24 (-2.15%)
UNITY 8.07 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.01 Decreased By ▼ -0.01 (-0.98%)
مارکٹس

چاول کی فصل میں بیکٹیریل لیف بلائٹ کا خدشہ، کاشتکاروں کو محتاط رہنے کی ہدایت

  • ابتدائی طور پر پتوں پر سفید یا زرد رنگ کی پانی میں بھیگی ہوئی دھاریوں کی شکل میں انفیکشن ظاہر ہوتا ہے، محکمہ زراعت
شائع اپ ڈیٹ

ماہرینِ زراعت نے صوبے بھر کے چاول کے کاشتکاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بیکٹیریل لیف بلائٹ (پتوں کے جھلسنے کی بیماری) کے خلاف محتاط رہیں۔ واضح رہے کہ بیکٹیریل لیف بلائٹ تباہ کن بیماری ہے اور بعض علاقوں میں اگیتی کاشت کی گئی چاول کی فصلوں میں پہلے ہی دیکھی جا چکی ہے۔

محکمہ زراعت (ایکسٹینشن) کے ترجمان نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ وقت پر حفاظتی اقدامات اپنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری ’زینتھوموناس اورائزی‘ نامی بیکٹیریا کی وجہ سے پھیلتی ہے جو کہ سازگار موسمی حالات برقرار رہنے کی صورت میں چاول کے پودوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

بیماری کی علامات بیان کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پتوں پر سفید یا زرد رنگ کی پانی میں بھیگی ہوئی دھاریوں کی شکل میں انفیکشن ظاہر ہوتا ہے جو عموماً پتوں کے سروں اور کناروں سے شروع ہوکر لمبائی اور چوڑائی میں پھیلنے لگتا ہے۔ بیماری شدت اختیار کرے تو متاثرہ پتوں پر دودھیا رنگ کا بیکٹیریا نما اخراج ظاہر ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں فصل تیزی سے سوکھنے اور گلنے لگتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ بیکٹیریا جڑی بوٹیوں اور چاول کی فصل کے باقیات پر زندہ رہ سکتا ہے جبکہ متاثرہ بیج بیماری کے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔ معتدل درجہ حرارت کے ساتھ زیادہ نمی، بارش اور کھیتوں میں گہرا کھڑا پانی بیماری کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کرتے ہیں۔ مزید برآں تیز ہواؤں یا کیڑوں کے حملوں سے پودوں کو پہنچنے والا فزیکل نقصان انہیں بیماری کے لیے مزید حساس بنا دیتا ہے۔

بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام اور مؤثر تدارک کے لیے محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو نائٹروجن والی کھاد کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے گریز اور لیف فولڈر، سنڈیاں اور ٹڈی دل جیسے کیڑوں پر مؤثر طریقے سے قابو پانے کی ہدایت کی ہے۔

Comments

200 حروف