BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.29%)
KSE100 Increased By (0%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.33 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
CNERGY 13.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.3%)
DFML 16.67 Increased By ▲ 0.77 (4.84%)
DGKC 192.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.23%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.73 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.30 Decreased By ▼ -0.26 (-1.33%)
HBL 306.88 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
HUBC 201.40 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.29 Decreased By ▼ -1.44 (-0.45%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.85 Increased By ▲ 0.17 (1.16%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.15 Decreased By ▼ -2.76 (-1.22%)
PRL 93.30 Increased By ▲ 0.28 (0.3%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.84 Increased By ▲ 0.04 (0.51%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
مارکٹس

چاول کی فصل میں بیکٹیریل لیف بلائٹ کا خدشہ، کاشتکاروں کو محتاط رہنے کی ہدایت

  • ابتدائی طور پر پتوں پر سفید یا زرد رنگ کی پانی میں بھیگی ہوئی دھاریوں کی شکل میں انفیکشن ظاہر ہوتا ہے، محکمہ زراعت
شائع اپ ڈیٹ

ماہرینِ زراعت نے صوبے بھر کے چاول کے کاشتکاروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بیکٹیریل لیف بلائٹ (پتوں کے جھلسنے کی بیماری) کے خلاف محتاط رہیں۔ واضح رہے کہ بیکٹیریل لیف بلائٹ تباہ کن بیماری ہے اور بعض علاقوں میں اگیتی کاشت کی گئی چاول کی فصلوں میں پہلے ہی دیکھی جا چکی ہے۔

محکمہ زراعت (ایکسٹینشن) کے ترجمان نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ وقت پر حفاظتی اقدامات اپنائیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری ’زینتھوموناس اورائزی‘ نامی بیکٹیریا کی وجہ سے پھیلتی ہے جو کہ سازگار موسمی حالات برقرار رہنے کی صورت میں چاول کے پودوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

بیماری کی علامات بیان کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پتوں پر سفید یا زرد رنگ کی پانی میں بھیگی ہوئی دھاریوں کی شکل میں انفیکشن ظاہر ہوتا ہے جو عموماً پتوں کے سروں اور کناروں سے شروع ہوکر لمبائی اور چوڑائی میں پھیلنے لگتا ہے۔ بیماری شدت اختیار کرے تو متاثرہ پتوں پر دودھیا رنگ کا بیکٹیریا نما اخراج ظاہر ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں فصل تیزی سے سوکھنے اور گلنے لگتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ بیکٹیریا جڑی بوٹیوں اور چاول کی فصل کے باقیات پر زندہ رہ سکتا ہے جبکہ متاثرہ بیج بیماری کے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔ معتدل درجہ حرارت کے ساتھ زیادہ نمی، بارش اور کھیتوں میں گہرا کھڑا پانی بیماری کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کرتے ہیں۔ مزید برآں تیز ہواؤں یا کیڑوں کے حملوں سے پودوں کو پہنچنے والا فزیکل نقصان انہیں بیماری کے لیے مزید حساس بنا دیتا ہے۔

بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام اور مؤثر تدارک کے لیے محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو نائٹروجن والی کھاد کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے گریز اور لیف فولڈر، سنڈیاں اور ٹڈی دل جیسے کیڑوں پر مؤثر طریقے سے قابو پانے کی ہدایت کی ہے۔

Comments

200 حروف