’’ہیلو انقلاب‘‘
- موبائل فون واقعی مواصلات میں ایک انقلاب ہے۔ آج اس انقلاب کے ثمرات سے لطف اندوز ہونے والے شاید تصور بھی نہیں کرسکتے کہ ماضی میں رابطہ قائم کرنا کس قدر مشکل تھا اور آج یہ کام کس قدر آسان، تیز اور کم خرچ ہوگیا ہے۔
موبائل فون کی گھنٹی بجتی ہے اور میری سات سالہ پوتی بڑے اطمینان سے فون اٹھا لیتی ہے۔ اسے بخوبی معلوم ہے کہ کس بٹن کو دبانا ہے یا اسکرین پر کہاں انگلی لگانی ہے تاکہ کال کرنے والے سے فوراً رابطہ قائم ہوجائے۔ ایسے میں مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے۔ اس زمانے میں ایسی سہولتوں کا کوئی تصور نہیں تھا، نہ میرے والدین کے لیے اور نہ ہی میرے بہن بھائیوں کے لیے۔
ان دنوں ٹیلی فون ایک ایسی آسائش تھا جو چند لوگوں ہی کو میسر تھی۔ یہ آج کے پتلے اور خوبصورت موبائل فون جیسا نہیں تھا جو آسانی سے ہتھیلی میں سما جاتا ہے اور ہر جگہ وافر تعداد میں دستیاب ہے۔ تب ٹیلی فون ایک بھاری بھرکم اور بدنما سا آلہ ہوا کرتا تھا، جسے گھر کے کسی بھی حصے میں لے جانا ممکن نہیں تھا۔ اسے گھر کے کسی کونے میں مستقل نصب کیا جاتا اور تاروں کے ذریعے باہر موجود ٹیلی فون کے کھمبے سے جوڑا جاتا تھا۔
ٹیلی فون کے کھمبے سے یہ کنکشن بھی ایک طرح کی سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا تھا، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ کے ایسے ’’تعلقات‘‘ ہیں جن کی بدولت آپ ٹیلی فون کنکشن حاصل کرنے کے اہل ہوئے۔
جی ہاں، ٹیلی فون کنکشن حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اگر مجھے درست یاد ہے تو اس زمانے میں یہ سہولت اتنی اہم سمجھی جاتی تھی کہ سندھ اسمبلی کے ہر رکن کے پاس ٹیلی فون کنکشن کے لیے درخواستوں کی سفارش کا ایک مخصوص کوٹہ ہوتا تھا، اور رکن اسمبلی سے ایسی سفارش حاصل کرنا بھی آسان نہیں تھا۔
ان دنوں میں سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ روزانہ کئی لوگ صرف اس مقصد کے لیے ہمارے دفتر کا رخ کرتے کہ اسمبلی کا کوئی رکن ان کی ٹیلی فون کنکشن کی درخواست منظور کرنے کی سفارش کردے۔
ان میں کچھ لوگ واقعی ذاتی ضرورت کے تحت آتے تھے، لیکن بہت سے افراد صرف جلدی سے کچھ پیسے کمانے کے لیے یہ سفارش حاصل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ منظور شدہ ٹیلی فون کنکشن کی درخواست اچھی خاصی رقم میں فروخت ہوجاتی تھی۔
’’ہیلو انقلاب‘‘ کتنا مشکل اور کس قدر فیصلہ کن تبدیلی لانے والا تھا، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت پورے ملک میں صرف 12,436 لینڈ لائن کنکشنز موجود تھے۔ ان میں سے بیشتر انتظامی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
کراچی کی صورتحال یہ تھی کہ یہاں صرف دو دستی ٹیلی فون ایکسچینجز تھیں، تاہم کراچی کو دارالحکومت قرار دیے جانے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر پانچ ہوگئی۔ یہ ایکسچینجز کینٹ، گارڈن، سینٹرل (بولٹن روڈ)، ٹرنک (میکلوڈ روڈ) اور سبزی منڈی میں قائم تھیں۔ ہر ایکسچینج کی گنجائش 1,200 لائنز تھی۔
قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں ملک میں ٹیلی فون کس قدر نایاب تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت ہر 3,000 افراد کے لیے صرف ایک ٹیلی فون دستیاب تھا۔ اس کے مقابلے میں آج صورتحال یہ ہے کہ اسکول جانے والے بچے بھی اپنے بستوں میں موبائل فون لیے پھرتے ہیں۔
وہ ایک انتہائی دلچسپ دور تھا اور ٹیلی فون معاشرتی تعلقات کا ایک اہم حصہ بن چکا تھا۔ لوگ اکثر گھر میں ٹیلی فون ہونے کی بات چھپاتے تھے، کیونکہ اس کا علم ہوجانے سے دن رات کسی بھی وقت غیرضروری لوگوں کی آمد و رفت اور فون کالز کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا۔
اجنبی لوگ رات گئے یا کسی بھی غیرموزوں وقت فون کرکے کہتے کہ براہِ کرم محلے کے فلاں انکل یا آنٹی کو فون پر بلادیں، کوئی ہنگامی صورتحال ہے اور ان سے فوری رابطہ کرنا ہے۔ مسئلہ صرف زحمت کا نہیں تھا بلکہ ٹیلی فون کے بل کی ادائیگی بھی ایک اہم معاملہ تھا، کیونکہ اس زمانے میں کوئی کال مفت نہیں ہوتی تھی اور بیرونِ شہر کالیں خاص طور پر بہت مہنگی تھیں۔
یہ بھی عام بات تھی کہ ٹیلی فون کا مالک فون کے بالکل قریب کھڑا رہتا تاکہ دوسری طرف موجود شخص کی پرائیویسی میں مداخلت کرتے ہوئے یہ یقینی بنا سکے کہ وہ چپکے سے کسی بیرونِ شہر نمبر پر دوبارہ کال نہ کردے۔
کبھی کبھی صرف ایک فون کال پر ہونے والی بحث پڑوسیوں کے درمیان ایسے اختلافات پیدا کردیتی تھی جو طویل عرصے تک ختم نہیں ہوتے تھے۔
آج ہتھیلی میں سما جانے والے نفیس موبائل فون کے مقابلے میں اس زمانے میں بھاری بھرکم ٹیلی فون ہوتے تھے، جن کے درمیان میں ڈائلر نصب ہوتا تھا۔ زیادہ محتاط لوگ ڈائلر پر تالہ لگا دیتے تاکہ کوئی دوسرا شخص فون نہ کرسکے۔ تاہم تالہ کھولنے کے بھی کئی طریقے تھے اور ایسے ماہرین بھی موجود تھے جو یہ کام بخوبی جانتے تھے اور مالک کے خرچ پر مفت بیرونِ شہر کالیں کیا کرتے تھے۔
محلے میں کس کس گھر میں ٹیلی فون ہے، یہ بھی ایک بڑا راز ہوتا تھا۔ مالکان نہیں چاہتے تھے کہ یہ بات عام ہو، لیکن وہ ان لوگوں کے سامنے بے بس تھے جو ٹیلی فون کے کھمبوں سے ان کے گھروں تک آنے والی تاروں کا پیچھا کرتے اور اس ’’قیمتی راز‘‘ کو چھپانے پر انہیں چھیڑا کرتے تھے۔
موبائل فون واقعی مواصلات میں ایک انقلاب ہے۔ آج اس انقلاب کے ثمرات سے لطف اندوز ہونے والے شاید تصور بھی نہیں کرسکتے کہ ماضی میں ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنا کس قدر مشکل تھا اور آج یہ کام کس قدر آسان اور سہل ہوگیا ہے۔
یہ تبدیلی صرف رابطے کی رفتار اور سہولت تک محدود نہیں، بلکہ مواصلات کی کم ہوتی لاگت نے بھی ہمارے باہمی میل جول اور رابطے کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے۔
مواصلاتی انقلاب کو سلام!




















Comments