امریکا نے درجنوں تجارتی شراکت داروں کو ٹیرف چوری میں معاونت کے خطرے سے دوچار قرار دے دیا
- وائٹ ہاؤس کی رپورٹ میں طویل عرصے سے جاری ’غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ‘ کے خدشے کو ہدف بنایا گیا ہے، جس کے تحت زیادہ ٹیرف سے بچنے کے لیے سامان کم ٹیرف والے کسی تیسرے ملک کے راستے بھیجا جا سکتا ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے جمعرات کو امریکا کے درجنوں تجارتی شراکت داروں کو چینی مصنوعات پر عائد امریکی ٹیرف سے بچنے میں معاونت کے ممکنہ خطرے کے طور پر نشان زد کیا اور کہا کہ مستقبل میں ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کا سراغ لگانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لی جائے گی۔
فہرست میں یورپی یونین اور تائیوان کے علاوہ امریکا کے ہمسایہ ممالک میکسیکو اور کینیڈا بھی شامل ہیں۔ دیگر ممالک میں بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور ویتنام شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی رپورٹ میں طویل عرصے سے جاری ’’غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ‘‘ کے خدشے کو ہدف بنایا گیا ہے، جس کے تحت زیادہ امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے سامان ایسے تیسرے ملک کے راستے بھیجا جا سکتا ہے جہاں امریکا نے نسبتاً کم ٹیرف عائد کر رکھا ہو۔
’’کئی برس سے جاری اس بڑے ٹرانس شپمنٹ اسکینڈل کے ذریعے کمیونسٹ چین 40 سے زائد ممالک کے راستے اپنی برآمدات کی اصل چھپاتا رہا ہے،‘‘ وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
جمعرات کو جاری کی گئی امریکی رپورٹ میں ’’غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ کے بلند خطرے سے وابستہ 40 سے زائد ممالک‘‘ کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض ممالک میں غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ کا خطرہ وسیع اور جائز تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
دوسرے ممالک کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ چین سے منسلک سپلائی چینز میں زیادہ گہرائی سے شامل ہیں، جبکہ ایک تیسرے گروپ کو امریکا تک ترجیحی رسائی سمیت ایسی سہولتیں حاصل ہیں جو انہیں سامان کا رخ تبدیل کرکے دوسرے راستے سے امریکا پہنچانے کے لیے ’’پرکشش اور موقع سے فائدہ اٹھانے والے اہداف‘‘ بناتی ہیں۔
ناوارو نے مزید بتایا کہ وائٹ ہاؤس امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت سے لیس ’’ڈیٹیکٹو بارڈر‘‘ تیار کر رہا ہے، جس کی مدد سے یہ جانچنے میں مدد ملے گی کہ آیا کسی کھیپ میں دوسرے ملک کے راستے منتقل کیا گیا سامان شامل ہے یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ نظام کھیپ سے متعلق معلومات، اس کے روٹنگ ریکارڈ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو استعمال کرے گا۔
ماہرین نے طویل عرصے سے چین سے سپلائی چینز کی دوسرے ممالک کی جانب منتقلی کی نشاندہی کی ہے۔ یہ رجحان ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت سے جاری ہے، جب 2018 کے لگ بھگ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ٹیرف جنگ شروع ہوئی تھی۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق کاروباری اداروں کی جانب سے سپلائی چینز کو متنوع بنانے سے فائدہ اٹھانے والے ممالک میں ویتنام بھی شامل تھا۔
گزشتہ سال وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد ٹرمپ نے امریکا کے تجارتی شراکت داروں پر بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کیے ہیں، جبکہ چینی درآمدات پہلے ہی عائد اضافی ڈیوٹیوں کی زد میں ہیں۔























Comments