نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر اچانک شروع ہونے والی بحث نے کئی روز سے سیاسی بحث و تکرار کو جنم دے رکھا ہے لیکن اس کے باوجود اس حوالے سے کوئی واضح صورتِ حال سامنے نہیں آسکی کہ آخر کیا تجویز دی جارہی ہے، کون دے رہا ہے، کس ٹائم فریم کے تحت اور اس کے لیے آئینی لائحہ عمل کیا ہوگا۔ یہ خلا اس لیے اہم ہے کیونکہ معیشتیں اور مالی منڈیاں بری خبروں کو ایک بار سمجھ آنے کے بعد برداشت کرسکتی ہیں لیکن غیر یقینی صورتِ حال کو برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے اور پاکستان پہلے ہی بہت زیادہ غیر یقینی کا شکار ہے۔
وزیر داخلہ کے یہ ریمارکس کہ نظامِ حکمرانی عملاً مفلوج ہوچکا ہے، اپنی جگہ اتنے سنجیدہ تھے کہ ان سے سیاسی تنازع کھڑا ہونا فطری تھا۔ بعد ازاں ان کی وضاحت، موجودہ حکومت کی جانب سے اپنی آئینی مدت مکمل کرنے پر اصرار، اتحادی جماعتوں اور کابینہ کے ساتھیوں کی مزاحمت اور ممکنہ آئینی تنظیمِ نو سے متعلق وسیع تر قیاس آرائیوں نے ابہام کی نئی پرتیں پیدا کردی ہیں۔ کاروباری رہنما پہلے ہی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال انہیں ایسے وقت میں زیادہ محتاط بنارہی ہے جب سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری پہلے ہی نمایاں طور پر گرچکی ہے۔
پالیسی سازوں کے نزدیک، معزز وزیر داخلہ کے مؤقف کے چاہے جو بھی اچھے یا برے پہلو ہوں، مباحثے کا یہی وہ حصہ ہے جسے وہ کم اہمیت دے رہے ہیں۔
سرمایہ کاروں کو مستقل سیاسی ہم آہنگی درکار نہیں ہوتی۔ دنیا کی چند ہی معیشتوں کو یہ سہولت حاصل ہے۔ تاہم انہیں اس حوالے سے معقول یقین دہانی ضرور درکار ہوتی ہے کہ وہ کن قواعدوضوابط کے تحت کام کرنے والے ہیں۔ سرمایہ جاتی اخراجات کے فیصلے، بھرتیوں کے منصوبے، توسیع کے پروجیکٹس اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے وعدے، سب سیاسی تسلسل، ٹیکسز، ضوابط اور ادارہ جاتی استحکام سے متعلق مفروضوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ جب یہ مفروضے غیر یقینی کا شکار ہوجائیں تو سرمایہ انتظار کی راہ اختیار کرتا ہے، منصوبے مؤخر ہوجاتے ہیں، خطرے کی شرح بڑھ جاتی ہے اور عملدرآمد کی رفتار سست پڑجاتی ہے۔
پاکستان اس وقت اس صورتحال کا ہرگز متحمل نہیں ہوسکتا۔
پاکستانی معیشت پہلے ہی جاری خلیجی جنگ، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اہم علاقائی منڈیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ کاروباری حلقے بلند ایندھن لاگت، خلیجی منڈیوں تک رسائی میں کمی اور وسیع تر علاقائی تنازع کو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کا باعث بننے والے عوامل قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں وفاق کی تنظیمِ نو سے متعلق غیر حل شدہ ملکی بحث، جبکہ بیک وقت حکومت کی سیاسی بقا کے حوالے سے قیاس آرائیوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے، ایک غیر ضروری اضافی بوجھ ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے گرد گھومتی ہوئی سیاسی بیان بازی نے وفاقی حکومت کے خاتمے کی الٹی گنتی کی بازگشت کو ایک بار پھر زندہ کردیا ہے حالانکہ جب سے اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے، ایسی ہی پیشگوئیاں بار بار سامنے آچکی ہیں اور دم توڑ چکی ہیں۔ ان سیاسی گھڑیوں کا بار بار ری سیٹ ہونا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نیوز رومز کے لیے تو مواد فراہم کرسکتا ہے لیکن کاروباری ادارے ایسی افواہوں پر اپنے سرمایہ کاری کے منصوبے نہیں بناسکتے جو ہر چند ہفتوں بعد بدل جاتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ طرزِ حکمرانی میں اصلاحات سے متعلق سوالات کو دبا دیا جائے۔ اگر موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تنظیمِ نو کی ضرورت ہے تو اس معاملے پر سنجیدہ قومی بحث ہونی چاہیے۔ نئے صوبوں کا قیام بھی بالآخر اسی بحث کا حصہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس نوعیت کی بڑی آئینی اصلاحات اشاروں، تقاریر اور متضاد تشریحات کے ذریعے آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے آئین کے تحت بھاری اکثریت اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے۔ یہی حقیقت قیاس آرائیوں کے بجائے سنجیدگی اور محتاط طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
لہٰذا حکومت پر لازم ہے کہ وہ ملک کے سامنے واضح مؤقف پیش کرے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی کوئی باقاعدہ تجویز موجود ہے تو اسے شفاف انداز میں پیش کیا جائے جس میں اس کے آئینی طریقۂ کار، معاشی جواز اور ممکنہ ٹائم فریم کو واضح طور پر بیان کیا جائے۔ اگر ایسی کوئی تجویز موجود نہیں تو اعلیٰ حکام کو قیاس آرائیوں کو اس خلا کو پُر کرنے کی اجازت دینا بند کردینی چاہیے۔ حکومت کی مدت سے متعلق سوالات پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اتحادی جماعتوں کے اختلافات جمہوری سیاست کا حصہ ہیں لیکن حکومت کے فوری خاتمے سے متعلق مسلسل قیاس آرائیاں لازماً معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
مارکیٹس زیادہ ٹیکس، کمزور معاشی نمو اور حتیٰ کہ سیاسی مشکلات کو بھی قیمتوں میں سموسکتی ہیں لیکن مسلسل بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے کی مؤثر طور پر قیمت کا تعین نہیں کرسکتیں۔
پاکستان کی معیشت پہلے ہی ایسے حقیقی مسائل سے دوچار ہے کہ اسے غیر محتاط سیاسی اشاروں کے ذریعے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ بالآخر جو بھی اصلاحات زیر غور لائی جائیں حکومت اور معیشت کے نظام کو پیشگوئی کے قابل انداز میں کام کرتے رہنا چاہیے۔ سیاسی تبدیلی، آئینی بحث اور انتظامی اصلاحات کو سنبھالا جا سکتا ہے، جس چیز کو غیر معینہ مدت تک نہیں سنبھالا جا سکتا وہ ایسا ماحول ہے جہاں کسی کو معلوم نہ ہو کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026























Comments