BR100 Increased By (1.9%)
BR30 Increased By (1.3%)
KSE100 Increased By (1.66%)
KSE30 Increased By (1.87%)
BAFL 58.97 Increased By ▲ 0.28 (0.48%)
BIPL 27.06 Increased By ▲ 0.06 (0.22%)
BOP 34.75 Increased By ▲ 1.05 (3.12%)
CNERGY 11.06 Increased By ▲ 0.05 (0.45%)
DFML 18.11 Increased By ▲ 0.05 (0.28%)
DGKC 216.99 Increased By ▲ 4.96 (2.34%)
FABL 102.34 Increased By ▲ 2.20 (2.2%)
FCCL 56.42 Increased By ▲ 1.28 (2.32%)
FFL 16.41 Increased By ▲ 0.31 (1.93%)
GGL 23.81 Increased By ▲ 0.06 (0.25%)
HBL 322.04 Increased By ▲ 15.05 (4.9%)
HUBC 221.52 Increased By ▲ 3.04 (1.39%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Increased By ▲ 0.06 (0.83%)
LOTCHEM 27.12 Increased By ▲ 0.21 (0.78%)
MLCF 97.94 Increased By ▲ 2.01 (2.1%)
OGDC 316.30 Increased By ▲ 2.19 (0.7%)
PAEL 42.30 Increased By ▲ 0.38 (0.91%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 269.38 Increased By ▲ 2.21 (0.83%)
PPL 220.69 Increased By ▲ 2.97 (1.36%)
PRL 63.65 Increased By ▲ 0.95 (1.52%)
SNGP 106.24 Decreased By ▼ -0.56 (-0.52%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.34 (1.27%)
TELE 8.73 Increased By ▲ 0.25 (2.95%)
TPLP 14.78 Decreased By ▼ -0.16 (-1.07%)
TRG 61.41 Increased By ▲ 0.74 (1.22%)
UNITY 11.14 Increased By ▲ 1.01 (9.97%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.03 (2.48%)
دنیا

ایران کا آبنائے ہرمز کے نئے بحری راستے پر عمان سے معاہدے کا اعلان

  • 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز عملاً ایران کے کنٹرول میں ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایران کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے بحری راستے پر متفق ہو گئے ہیں اور اس آبی گزرگاہ کے مشترکہ انتظام سے متعلق حتمی امور طے کیے جا رہے ہیں۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز عملاً ایران کے کنٹرول میں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ تہران بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم ایران اس کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اس حوالے سے آبنائے ہرمز کے دوسری جانب واقع اپنے ہمسایہ ملک عمان کے ساتھ انتظامات کرے گا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، ”دونوں ممالک مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی محلِ وقوع پر متفق ہو چکے ہیں، اور اگر بعض تیسرے فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالیں تو دونوں ممالک کا مشترکہ اعلامیہ، جس میں بنیادی نکات اور باہمی اتفاق رائے شامل ہوگا، حتمی جائزے اور مسودہ سازی کے مرحلے میں ہے۔“

رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم اگر کوئی مفاہمت طے بھی پا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا، ”آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کے اسباب اب بھی امریکہ کی جانب سے موجود ہیں، خصوصاً ایران اور اس کے مفادات کے خلاف بحری ناکہ بندی اور دیگر جارحانہ و دھمکی آمیز اقدامات۔“

جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھیں۔ اس آبی گزرگاہ پر تنازع شروع ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بارہا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے اس بحران کے خاتمے کے لیے واشنگٹن پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا۔

Comments

200 حروف