مسئلہ حل ہوگا یا صرف نقشہ بدلے گا؟
- سالہا سال کی انتظامی بے عملی، عوامی خدمات کی کمزور فراہمی اور ادارہ جاتی خرابیوں نے اس بات کے کافی شواہد فراہم کر دیے ہیں کہ موجودہ نظام ناکام ہو رہا ہے
وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ مشاہدہ کہ پاکستان کا نظامِ حکمرانی مؤثر طور پر مفلوج ہو چکا ہے، چند ہی سنجیدہ حلقے اس سے اختلاف کریں گے۔
سالہا سال کی انتظامی بے عملی، عوامی خدمات کی کمزور فراہمی اور ادارہ جاتی خرابیوں نے اس بات کے کافی شواہد فراہم کر دیے ہیں کہ موجودہ نظام ناکام ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں ان کی جانب سے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز نے پاکستان کے قدیم ترین آئینی اور سیاسی مباحث میں سے ایک کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
تاہم، اس سے پہلے کہ ملک صوبائی حدود ازسرنو متعین کرے اگر واقعی ایسا کرنا ضروری ہے اسے پہلے ایک زیادہ بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا: کیا واقعی صوبوں کا حجم سب سے بڑا مسئلہ ہے یا مسئلہ یہ ہے کہ ان صوبوں کو چلایا کس طرح جا رہا ہے؟
یقینی طور پر اس بات پر بحث کرنے میں وزن ہے کہ آیا پاکستان کو مستقبل میں مزید صوبوں کی ضرورت ہوگی یا نہیں۔ چھوٹے انتظامی یونٹس، اگر مناسب حالات میں قائم کیے جائیں، تو حکومت کو عوام کے قریب لا سکتے ہیں، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنا سکتے ہیں اور حکمرانی کو زیادہ مؤثر اور جوابدہ بنا سکتے ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی داخلی انتظامی ساختوں میں تبدیلیاں کی ہیں کیونکہ آبادی میں اضافہ ہوا اور انتظامی ضروریات مزید پیچیدہ ہوئیں۔ لہٰذا اس معاملے پر کھلے اور سنجیدہ انداز میں بحث کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
اصل مشکل اس وقت شروع ہوتی ہے جب نئے صوبوں کو پاکستان کے حکمرانی کے بحران کا مرکزی حل قرار دیا جاتا ہے۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی ناکامی صرف یہ نہیں رہی کہ اسلام آباد سے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی حقیقت میں مکمل طور پر نہیں ہو سکی۔
بلکہ مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ صوبائی حکومتیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کو حقیقی معنوں میں مقامی حکومتوں تک منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں رہیں۔ آخرکار آئین سے مشترکہ فہرست کے خاتمے اور اختیارات کی منتقلی کا ایک بنیادی مقصد یہی تھا کہ فیصلہ سازی کو ممکن حد تک شہریوں کے قریب لایا جائے۔
اس کے برعکس صوبے بڑی حد تک ان اختیارات کے مراکز بن گئے جو کبھی نچلی سطح تک مؤثر انداز میں منتقل ہی نہیں کیے گئے۔ یہ ہچکچاہٹ کوئی اتفاق نہیں ہے۔
اختیارات کی حقیقی معنوں میں بااختیار مقامی حکومتوں کو منتقلی کے ساتھ بجٹ، سیاسی اثر و رسوخ اور اختیارات بھی منتقل ہوتے ہیں۔ چند ہی صوبائی حکومتوں نے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، ان اختیارات سے دستبردار ہونے میں دلچسپی دکھائی ہے۔
مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر ہوتی رہی ہے، مالی اختیارات بدستور مرکزیت کا شکار ہیں اور بلدیاتی ادارے محدود خودمختاری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس لیے یہ دلیل دینا مشکل ہے کہ نئے صوبے بنانے سے خود بخود حکمرانی بہتر ہو جائے گی، جبکہ موجودہ صوبے ہی حقیقی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے گریز کرتے رہے ہیں۔
یہاں ایک تضاد بھی موجود ہے جس کا اعتراف ضروری ہے۔ پاکستان میں جس دور میں مقامی حکومتوں کا نظام شاید سب سے زیادہ مضبوط اور بااختیار تھا، وہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا۔
فوجی حکومت کے بارے میں کسی کے بھی خیالات کچھ ہوں، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس دور میں مقامی حکومتوں کو بعد کی منتخب حکومتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ انتظامی اور مالی اختیارات حاصل تھے۔ یہ ایک مشکل حقیقت ہے جو جمہوری حکومتوں کے اس عزم پر سوال اٹھاتی ہے کہ آیا وہ جمہوریت کی ایک اہم ترین بنیاد یعنی عوامی سطح پر حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں یا نہیں۔
مزید صوبوں کے حامی حلقے بھی موجودہ حکمرانی کے بحران کی بنیادی وجوہات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے سکے۔ انتظامی نااہلی، بیوروکریسی کی پیچیدگیاں، سیاسی مداخلت، کمزور احتساب اور جڑ پکڑ چکی کرپشن نے پورے وفاق میں حکمرانی کے نظام کو بتدریج کمزور کیا ہے۔ یہ مسائل صرف صوبائی حدود تبدیل کرنے سے ختم نہیں ہوں گے۔
جب تک وسیع تر ادارہ جاتی اصلاحات نہیں کی جاتیں، اسی بیوروکریسی، اسی انتظامی ثقافت اور اسی سیاسی مفادات کے نظام کے ساتھ چھوٹے صوبوں میں بھی وہی مسائل برقرار رہیں گے۔
عملی پہلوؤں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ نئے صوبوں کا قیام آئینی ترامیم، وسیع سیاسی اتفاقِ رائے، اثاثوں اور واجبات کی تقسیم، سول سروسز، محصولات کی تقسیم اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق پیچیدہ مذاکرات کا تقاضا کرے گا۔
ایسے وقت میں جب صوبے خود امن و امان، مالیاتی نظم و نسق، کم وسائل رکھنے والے تعلیمی اور صحت کے نظام اور مقامی انتظامیہ کے مسائل سے دوچار ہیں، اتنی بڑی انتظامی تبدیلی شروع کرنا لازماً بہت زیادہ سیاسی توانائی صرف کرے گا، جبکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ حکمرانی کی بنیادی خامیاں حقیقتاً دور ہو جائیں گی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دینا چاہیے۔ آبادی اور انتظامی دباؤ میں اضافے کے ساتھ پاکستان کو مستقبل میں مزید صوبوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
لیکن ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔
آج کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ اختیارات کی منتقلی کے نامکمل عمل کو مکمل کیا جائے، مقامی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جائے، انتظامی احتساب کو مضبوط کیا جائے، بیوروکریسی میں اصلاحات کی جائیں اور صوبائی حکمرانی کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔
اس کے بعد ہی ملک بہتر انداز میں یہ فیصلہ کر سکے گا کہ آیا مزید آئینی تنظیم نو واقعی ضروری ہے یا نہیں۔
وزیر داخلہ کی یہ بات درست ہے کہ موجودہ نظام کو سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے مسائل کے حقیقی ماخذ کا سامنا کر رہا ہے یا پھر اس مشینری کو درست کیے بغیر صرف نقشہ تبدیل کرنے کی تجویز دے رہا ہے جو مشینری پہلے سے موجود نظام کو مؤثر بنانے میں ناکام رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments