BR100 Increased By (1.66%)
BR30 Increased By (1.75%)
KSE100 Increased By (1.2%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.50 (0.86%)
BIPL 27.08 Increased By ▲ 0.08 (0.3%)
BOP 33.92 Increased By ▲ 0.43 (1.28%)
CNERGY 11.10 Increased By ▲ 0.36 (3.35%)
DFML 18.06 Increased By ▲ 0.28 (1.57%)
DGKC 215.83 Increased By ▲ 8.52 (4.11%)
FABL 100.69 Increased By ▲ 0.33 (0.33%)
FCCL 55.90 Increased By ▲ 1.72 (3.17%)
FFL 16.08 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.99 (4.32%)
HBL 309.24 Increased By ▲ 5.57 (1.83%)
HUBC 219.89 Increased By ▲ 2.77 (1.28%)
HUMNL 10.73 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.30 Increased By ▲ 0.12 (1.67%)
LOTCHEM 27.29 Increased By ▲ 0.32 (1.19%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 2.58 (2.72%)
OGDC 319.09 Increased By ▲ 5.05 (1.61%)
PAEL 42.52 Increased By ▲ 0.25 (0.59%)
PIBTL 17.08 Increased By ▲ 0.04 (0.23%)
PIOC 272.98 Increased By ▲ 3.53 (1.31%)
PPL 221.32 Increased By ▲ 5.11 (2.36%)
PRL 63.42 Increased By ▲ 3.28 (5.45%)
SNGP 105.88 Increased By ▲ 2.99 (2.91%)
SSGC 25.93 Increased By ▲ 0.65 (2.57%)
TELE 8.46 Increased By ▲ 0.21 (2.55%)
TPLP 14.71 Increased By ▲ 1.34 (10.02%)
TRG 60.81 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
UNITY 10.01 Increased By ▲ 0.05 (0.5%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)
رائے

دنیا ریفائنری توسیع سے پیچھے ہٹنے لگی، پاکستان اپ گریڈیشن پر گامزن

  • اپ گریڈیشن سے درآمدی بچت محدود، بیرونی سپلائی پر انحصار مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

دو دہائیوں کی سوچ بچار کے بعد پاکستان نے بالآخر اپنی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے وقت پر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ دنیا برقی توانائی (الیکٹرک انرجی) کی طرف منتقل ہو رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں تیل صاف کرنے (ریفائننگ) کی ضرورت سے زائد صلاحیت موجود ہے۔

ناقدین اس پالیسی کو ایک دہائی پرانی تاخیر قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومت اسے پیٹرولیم مصنوعات کی دن بدن غیر یقینی ہوتی سپلائی چین کے خلاف ایک حکمتِ عملی سے بھرپور تحفظ کہتی ہے۔ دونوں باتیں مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتیں۔اس سوچ کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ دو نئی ریفائنریوں کے قیام کی بات 2000ء کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوئی تھی اور 2020ء کی ایک اسٹڈی نے اس منصوبے کو محدود کرکے صرف ایک نئی ریفائنری تک پھیلا دیا۔ 2026ء میں، حکومت نے اس سے بھی چھوٹے حل پر اتفاق کیا ہے، یعنی پہلے سے موجود پانچ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن۔ اس کے لیے کوئی نئی اسٹڈی نہیں کروائی گئی اور نہ ہی کسی بین الاقوامی مشیر (انٹرنیشنل کنسلٹنٹ) کی خدمات حاصل کی گئیں۔ یہ فیصلہ حکومت اور خود ریفائنری مالکان کے درمیان ان ہاؤس سطح پر کیا گیا۔

معاشی نقطہ نظر بظاہر اس کی حمایت نہیں کرتا۔ اس منصوبے کے لیے 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے، جو تقریباً تمام کی تمام درآمد شدہ پلانٹ اور مشینری پر خرچ ہوگی، تاکہ خام تیل زیادہ اور تیار شدہ مصنوعات کم درآمد کر کے بچت کی جا سکے۔ معمول کے مطابق ریفائننگ سے حاصل ہونے والے منافع (گراس ریفائننگ مارجنز) کی بنیاد پر اعداد و شمار واضح نہیں ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف اسی وقت سود مند (قابلِ عمل) نظر آتے ہیں جب فرنس آئل پر 85,000 روپے فی ٹن لیوی (ٹیکس) کو شامل کیا جائے، ایک ایسی لیوی جس کا ریفائنری کے معاشی امور سے کوئی تعلق نہیں۔یہ لیوی خود بغیر کسی دور اندیشی (پیش بینی) کے پالیسی سازی کی ایک مثال ہے۔ پاکستان کی ریفائنریاں پرانی ہائیڈرو سکمنگ ٹیکنالوجی پر چلتی ہیں، جو فرنس آئل اور ڈیزل کی زیادہ مقدار جبکہ پیٹرول کی نسبتاً کم مقدار پیدا کرتی ہیں۔ آئی ایم ایف کی ”ریزیلینس اینڈ سسٹینبلٹی فیسیلٹی“ کی ایک شرط کو پورا کرنے کے لیے وزارتِ خزانہ نے نتائج کا اندازہ لگائے بغیر فرنس آئل پر بھاری لیوی عائد کر دی۔ اس کے نتیجے میں ملکی مانگ میں شدید کمی (کریش) آئی۔ دوسری طرف برآمدی منڈیاں، جو دنیا کی آلودہ ایندھن سے دوری کی وجہ سے پہلے ہی سکڑ رہی تھیں نے صرف بھاری رعایت (ڈسکاؤنٹ) کی پیشکش کی۔ ریفائنریاں اب اس ایندھن کو پہلے ملک کے اندر گاڑیوں پر منتقل کرتی ہیں اور پھر نقصان (خسارے) پر برآمد کرتی ہیں، جو انتظامی لحاظ سے ایک غیر منطقی عمل ہے۔ المیہ تو اور بھی شدید ہے، پاکستان میں فرنس آئل کا بڑا حصہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے، جو توانائی کے مجموعی نظام کا ایک نسبتاً صاف ستھرا حصہ ہے، مگر پھر بھی اس پر ٹرانسپورٹ ایندھن کی طرح ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ ایک زیادہ سمجھدار حکومت اس پر ریفائنری پالیسی بنانے سے پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ اس لیوی پر دوبارہ مذاکرات (ری نیگوشیٹ) کرتی۔

مالیاتی ڈھانچہ (فنانسنگ اسٹرکچر) ایک اور تشویش کا باعث ہے۔ ریفائنری مالکان ایک الگ اکاؤنٹ (اسکرو اکاؤنٹ) میں مخصوص ڈیوٹی جمع کریں گے، جس سے منصوبے کی لاگت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ حاصل ہوگا۔ عملی طور پر صارفین پیٹرول اور ڈیزل کے ہر لیٹر پر اضافی دس فیصد ادا کریں گے، تاکہ ریفائنریوں کا اپنا سرمایہ (ایکویٹی) تیار ہو سکے، اس رقم کو جمع ہونے میں تقریباً تین سال لگیں گے، جس سے حقیقی سرمایہ کاری کا فیصلہ 2030ء تک مؤخر ہو جائے گا۔ دنیا میں تبدیلی آنے کے لیے یہ ایک طویل عرصہ (لونگ رن وے) ہے۔ اگر دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی الیکٹرک میں تبدیلی (الیکٹریفکیشن) کی رفتار پاکستان میں حالیہ سولرائزیشن (سولر کے فروغ) جیسی رہی تو کچھ ریفائنری مالکان رقم ہاتھ میں آتے ہی اس منصوبے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

ڈالر فنانسنگ (غیر ملکی کرنسی کا انتظام) تیسری بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستانی بینکوں کے پاس اتنے بڑے پیمانے کے منصوبوں کے لیے نہ تو مالی طاقت (بیلنس شیٹ) ہے اور نہ ہی دلچسپی (ایپی ٹائٹ)۔ غیر ملکی قرض دہندگان اس منصوبے کی بنیادی افادیت (وائبلٹی) کے ساتھ ساتھ ملک کے معاشی خطرات (ایکنامک رسک) کا بھی جائزہ لیں گے۔ اگر ریفائنری مالکان مقامی فنڈنگ کا رخ کرتے ہیں تو اسٹیٹ بیننک مشینری درآمد کرنے کے لیے درکار لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔اپنے ہی طے شدہ معیار پر دیکھا جائے تو یہ اپ گریڈیشن اتنے فائدے نہیں دیتی جتنی اس کی تشہیرکی جا رہی ہے۔ ڈیپ کنورژن ٹیکنالوجی (جدید تکنیک) فرنس آئل کی پیداوار کو فی بیرل کے تقریباً ایک تہائی سے گھٹا کر دسویں حصے تک لا سکتی ہے اور باقی خلا پیٹرول اور ڈیزل سے پورا کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان پہلے ہی اپنے ڈیزل کی تقریباً 70 فیصد ضرورت مقامی طور پر پوری کرتا ہے، لہذا وہاں درآمدات میں بچت بہت کم (مارجنل) ہوگی۔ پیٹرول کی درآمدات میں کمی آئے گی، مگر پیٹرول پر منافع کے مارجن بہت کم ہوتے ہیں اور خام تیل تو بہرحال درآمد ہی کرنا پڑے گا، جو بیرونی سپلائی پر انحصار کم کرنے کے حکمتِ عملی پر مبنی موقف (اسٹریٹیجک کیس) کو خاموشی سے کمزور کرتا ہے۔ اس کے برعکس حکمتِ عملی کے تحت پیٹرولیم کے ہنگامی ذخائر (اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو) بنانے کے لیے ایک مضبوط دلیل موجود ہے، جو اس وقت پاکستان کے پاس بالکل نہیں ہیں، اگرچہ اس کے لیے درکار ٹینک کافی مہنگے ہیں اور موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے اس کا وقت بھی درست نہیں۔

اپ گریڈیشن کے لیے سب سے زیادہ قابلِ دفاع (مضبوط) جواز ”یورو 5“ ایندھن کے معیار کی پابندی ہے۔ آیا صرف یہی بات اربوں ڈالر کے معاہدے کا جواز پیش کرتی ہے یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے اور اس رقم کو دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو الیکٹرک پر منتقل کرنے کی رفتار تیز کرنے اور بیٹری بنانے کی ملکی صلاحیت کو فروغ دینے پر خرچ کرنے کا ایک مناسب موقف بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔فی الحال یہ پالیسی زیادہ تر کاغذات کی حد تک محدود ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی ریفائنری، جس میں زیادہ تر حصص ریاست کی ملکیت ہیں، نے ابھی تک اس پر دستخط نہیں کیے ہیں اور اس کے بورڈ نے، جس میں غیر ملکی نمائندگی بھی شامل ہے، ابھی تک اپنے تحائف و خدشات (ریزرویشنز) برقرار رکھے ہیں۔ دیگر چار ریفائنریوں کے بھی اپنے مسائل ہیں۔ سب کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے نوے دن کا وقت ہے اور انکار کرنے کی صورت میں سزا یعنی ڈیزل پر ملنے والی 7.5 فیصد ڈیوٹی میں کمی اتنی سخت ہے کہ زیادہ تر ممکنہ طور پر دستخط کر دیں گے لیکن ابھی دستخط کرنا اور 2030ء میں اپ گریڈیشن کرنا مختلف باتیں ہیں۔ جب حقیقی فیصلے کا وقت آئے گا تو تمام تر حساب کتاب (کیلکولس) بالکل مختلف نظر آ سکتا ہے۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف