BR100 Increased By (1.51%)
BR30 Increased By (1.53%)
KSE100 Increased By (1.1%)
KSE30 Increased By (1.28%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.53 (0.91%)
BIPL 27.14 Increased By ▲ 0.14 (0.52%)
BOP 33.87 Increased By ▲ 0.38 (1.13%)
CNERGY 11.04 Increased By ▲ 0.30 (2.79%)
DFML 18.07 Increased By ▲ 0.29 (1.63%)
DGKC 214.51 Increased By ▲ 7.20 (3.47%)
FABL 101.19 Increased By ▲ 0.83 (0.83%)
FCCL 55.52 Increased By ▲ 1.34 (2.47%)
FFL 16.13 Increased By ▲ 0.06 (0.37%)
GGL 23.65 Increased By ▲ 0.74 (3.23%)
HBL 308.10 Increased By ▲ 4.43 (1.46%)
HUBC 219.50 Increased By ▲ 2.38 (1.1%)
HUMNL 10.75 Increased By ▲ 0.13 (1.22%)
KEL 7.29 Increased By ▲ 0.11 (1.53%)
LOTCHEM 27.15 Increased By ▲ 0.18 (0.67%)
MLCF 97.50 Increased By ▲ 2.63 (2.77%)
OGDC 318.58 Increased By ▲ 4.54 (1.45%)
PAEL 42.74 Increased By ▲ 0.47 (1.11%)
PIBTL 17.19 Increased By ▲ 0.15 (0.88%)
PIOC 274.00 Increased By ▲ 4.55 (1.69%)
PPL 220.30 Increased By ▲ 4.09 (1.89%)
PRL 63.58 Increased By ▲ 3.44 (5.72%)
SNGP 104.62 Increased By ▲ 1.73 (1.68%)
SSGC 25.67 Increased By ▲ 0.39 (1.54%)
TELE 8.45 Increased By ▲ 0.20 (2.42%)
TPLP 14.68 Increased By ▲ 1.31 (9.8%)
TRG 60.59 Decreased By ▼ -0.26 (-0.43%)
UNITY 10.05 Increased By ▲ 0.09 (0.9%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)

دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں حالیہ اضافے نے ایک بار پھر پاکستان کے سیلاب کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ تاہم اس معاملے کو صرف موسمی سیلاب تک محدود رکھنا وسیع تر صورتحال کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان کو درپیش آبی چیلنج اب محض آفات سے نمٹنے کے دائرے سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔

اب یہ معاملہ موسمیاتی تبدیلی، معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور بالخصوص قومی سلامتی کے باہمی سنگم پر آ کھڑا ہوا ہے۔ جامع قومی آبی تحفظ پالیسی کی حالیہ ضرورت پر زور اور بڑے پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں بڑے پیمانے پر اضافے کے تازہ انکشافات اس امر کی بروقت یاد دہانی ہیں کہ پاکستان اب آبی پالیسی کو الگ الگ اور انفرادی اقدامات کے مجموعے کے طور پر لینے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

پاکستان کی آبی کمزوریاں کوئی نئی بات نہیں۔ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں تیزی آ رہی ہے، بارشوں کے نظام میں بے قاعدگی بڑھتی جارہی ہے، طویل خشک سالی کے وقفوں کے بعد تباہ کن سیلاب آتے ہیں جبکہ زیرِ زمین پانی کا اخراج بھی غیر پائیدار رفتار سے جاری ہے۔ آبادی میں اضافے اور تیزی سے بڑھتی شہری آبادی نے پہلے ہی دباؤ کا شکار آبی وسائل پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔

صرف موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی اس صورتحال کی مکمل وضاحت نہیں کرتی۔ پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں میں برسوں سے کم سرمایہ کاری، فرسودہ آبپاشی کا بنیادی ڈھانچہ، بکھرا ہوا نظامِ حکمرانی اور اہم منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر نے ملک کو سیلاب اور پانی کی قلت، دونوں کے خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا تضاد پیدا ہوگیا ہے جو اب حد درجہ مانوس ہو چکا ہے: سال کے ایک حصے میں تباہ کن سیلاب آتے ہیں جبکہ دوسرے حصے میں پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بڑے پن بجلی منصوبوں کی بڑھتی ہوئی لاگت تاخیر کی بھاری قیمت کو اجاگر کرتی ہے۔ مہنگائی، شرحِ تبادلہ میں گراوٹ، منصوبوں کی تکمیل میں طویل تاخیر اور ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں نے ایسے منصوبوں پر مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جو پاکستان کے طویل مدتی آبی اور توانائی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ چاہے دیامر بھاشا، مہمند یا داسو منصوبہ ہو تاخیر کا ہر گزرتا سال ان اہم تزویراتی سرمایہ کاریوں کو خاصا مہنگا بنا رہا ہے جبکہ ان سے حاصل ہونے والے متوقع فوائد بھی مزید مؤخر ہورہے ہیں۔

ان منصوبوں کو صرف بجلی کی پیداوار کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ پن بجلی کا بنیادی ڈھانچہ دراصل پانی ذخیرہ کرنے، سیلاب کے اثرات کم کرنے، آبپاشی کے نظام کو قابلِ اعتماد بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابل لچک پیدا کرنے میں بھی سرمایہ کاری ہے۔ ایسے ملک میں جہاں آبی ذخائر کی گنجائش اب بھی عالمی معیار سے بہت کم ہے، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اب محض ایک ترقیاتی خواہش نہیں بلکہ معاشی ضرورت بن چکا ہے۔

اس بحث کا وقت خاص طور پر اہمیت کا حامل ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے بڑھتے جارحانہ بیانات نے پاکستان کے آبی معاملات میں ایک نئی تزویراتی جہت پیدا کردی ہے۔ اگرچہ یہ معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی فریم ورک ہے اور اسے یک طرفہ طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا، تاہم حالیہ پیش رفت نے ثابت کردیا ہے کہ پانی کو اب صرف ماحولیاتی یا انجینئرنگ کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ایک ایسا معاملہ بن چکا ہے جس کے گہرے جغرافیائی سیاسی اثرات ہیں۔

تاہم، اس حقیقت کو پاکستان کی اپنی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹانے کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ بیرونی چیلنجز ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی کی ضرورت کو کم نہیں کرتے بلکہ اس ضرورت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ پانی کی تقسیم کے معاہدے پر مؤثر عمل درآمد، زیرِ زمین پانی کے استعمال کے لیے مؤثر ضوابط، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، ہائیڈرولوجیکل پیش گوئی کے نظام میں بہتری، پانی کے استعمال کا ڈیجیٹل حساب کتاب اور پانی ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے میں تیز رفتار سرمایہ کاری ایسی اصلاحات ہیں جن پر طویل عرصے سے بحث ہوتی رہی ہے۔ تاہم ان اصلاحات کی اہمیت تسلیم کیے جانے کے باوجود ان پر عمل درآمد مسلسل پیچھے رہا ہے۔

یہی اصول پروجیکٹ گورننس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگرچہ مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ لاگت میں حالیہ اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں لیکن وہ ہر تاخیر کا جواز فراہم نہیں کرتیں۔ زمین کے حصول کے تنازعات، انتظامی رکاوٹیں، خریداری کے چیلنجز اور منصوبے پر عملدرآمد میں سستی آج بھی اخراجات بڑھانے اور فوائد کو مؤخر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ لہٰذا پبلک انویسٹمنٹ (عوامی سرمایہ کاری) میں کسی بھی اضافے کے ساتھ ساتھ پراجیکٹ مینجمنٹ اور ادارہ جاتی جوابدہی کو مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے۔

پالیسی سازوں کو درپیش بنیادی چیلنج یہ ہے کہ پانی کے بحرانوں پر ردِعمل دینے کے بجائے پانی کے وسائل کو تزویراتی انداز میں منظم کرنے کی طرف منتقل ہوا جائے۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے امداد، ہنگامی بنیادوں پر پانی کی تقسیم اور آفات کے بعد تعمیرِ نو ہمیشہ ضروری رہیں گی، تاہم یہ مضبوط اداروں اور مسلسل سرمایہ کاری پر مبنی طویل مدتی منصوبہ بندی کا متبادل نہیں بن سکتیں۔

پاکستان ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں آبی تحفظ کو معاشی تحفظ، غذائی تحفظ، توانائی کے تحفظ اور قومی سلامتی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال نے اس حقیقت کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اس کے حل نہ تو نامعلوم ہیں اور نہ ہی ناقابلِ حصول۔ کمی صرف اس عزم اور عجلت کی رہی ہے کہ اگلا بحران آنے سے پہلے ان حل پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

آبی پالیسی کا رخ مزید مون سون کے موسم کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا۔ اسے مستقل قومی ترجیح بنانا ہوگا، تب ہی پاکستان اس لچک اور مضبوطی کو فروغ دینے میں کامیاب ہوسکتا ہے جس کا تقاضا بڑھتی ہوئی غیر یقینی موسمیاتی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کررہی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف