مسابقتی کمیشن نے کاسٹرول کی ملکیت میں تبدیلی کی منظوری دے دی
- بی پی پی ایل سی کاسٹرول گروپ، ہولڈنگز لمیٹڈ کو موشن جے وی کو کے ہاتھوں فروخت کر دے گا
مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے فیز ون کے جائزے کے بعد امریکی سرمایہ کاری فرم اسٹون پیک پارٹنرز کے قائم کردہ خصوصی مقصد کے حامل ادارے موشن جے وی کو لمیٹڈ کی جانب سے بی پی پی ایل سی کے عالمی کاسٹرول چکنائیوں (لبریکنٹس) کے کاروبار کی مجوزہ خریداری کی منظوری دے دی ہے۔
جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان میں کاسٹرول کی چکنائیاں کاسٹرول گروپ ہولڈنگز لمیٹڈ کے ذریعے فروخت اور مارکیٹ کی جاتی ہیں۔مسابقتی کمیشن کا کہنا تھا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ یہ لین دین عالمی سطح پر ہے، پاکستان کے انضمام کے ضابطہ قانون کے تحت ایسے ادغام جن میں پاکستان میں کام کرنے والے کاروبار شامل ہوں، ان کا جائزہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لیا جاتا ہے کہ وہ مسابقت کو نمایاں طور پر کم نہ کریں یا متعلقہ مارکیٹ میں کسی تسلط کی پوزیشن کو پیدا یا مضبوط نہ کریں۔
اس معاہدے کے تحت بی پی پی ایل سی کاسٹرول گروپ ہولڈنگز لمیٹڈ، جو کہ عالمی کاسٹرول چکنائیوں کے کاروبار کی مالکن ہے، کو موشن جے وی کو کے ہاتھوں فروخت کر دے گا۔کینیڈا پینشن پلان انوسٹمنٹ بورڈ اپنی مکمل ملکیت والی ذیلی کمپنی کے ذریعے بالواسطہ اقلیتی حصہ دار بنے گا جبکہ لین دین کی تکمیل کے بعد اسٹون پیک کے پاس بالواسطہ تنہا کنٹرول برقرار رہے گا۔
مسابقتی کمیشن نے پاکستان میں چکنائیوں کی فروخت کو متعلقہ مارکیٹ قرار دیا۔کمیشن نے کہا کہ نہ تو اسٹون پیک اور نہ ہی کینیڈا پینشن پلان انوسٹمنٹ بورڈ کی پاکستان کی چکنائیوں کی مارکیٹ میں کوئی موجودہ سرگرمیاں ہیں۔ نتیجے کے طور پر یہ لین دین پاکستان میں مسابقتی کاروباروں کو یکجا نہیں کرتا اور ہدف کے کاروبار کے ساتھ کوئی افقی یا عمودی اشتراک پیدا نہیں کرتا۔
کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس خریداری سے مارکیٹ کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، مارکیٹ میں داخلے کی کوئی رکاوٹیں پیدا نہیں ہوں گی اور نہ ہی پاکستان کی چکنائیوں کی مارکیٹ میں کسی مسلط پوزیشن کا قیام یا استحکام عمل میں آئے گا۔ لہٰذا اس نے مسابقت ایکٹ 2010 کی دفعہ 31(1)(d)(i) کے تحت اس لین دین کی اجازت دے دی۔
کمیشن کی یہ منظوری مسابقت ایکٹ، 2010 کے تحت اس کے مسابقتی جائزے تک محدود ہے۔ مسابقتی کمیشن نے کہا کہ یہ لین دین دیگر تمام متعلقہ قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے تابع رہے گا۔





















Comments