اسرائیلی آبادکاروں کو حاصل استثنیٰ
- دو مساجد کو نذرِ آتش کرنا، ان پر نسل پرستانہ نعرے تحریر کرنا، اور نہتے فلسطینی آبادیوں پر حملے کرنا ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے حالیہ تشدد کی لہر ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ آبادکاروں کی دہشت گردی سیاسی سرپرستی، فوجی تحفظ اور تقریباً مکمل استثنیٰ کے سہارے خوف و ہراس پھیلانے کا ایک منظم ذریعہ بن چکی ہے۔
اتوار کے روز دو مساجد کو نذرِ آتش کرنا، ان مذہبی مقامات کی بے حرمتی کرتے ہوئے ان پر نسل پرستانہ نعرے تحریر کرنا، اور نہتے فلسطینی آبادیوں پر حملے کرنا ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کی زندگی کو ناقابلِ برداشت بنانا اور مقبوضہ علاقے کے عملی (ڈی فیکٹو) الحاق کو آگے بڑھانا ہے۔
قصرہ اور کور کے قریب نئی تعمیر شدہ مساجد کو جلانا خاص طور پر قابلِ مذمت ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت عبادت گاہوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود یہ مقدس مقامات بارہا انتہا پسند آبادکاروں کا نشانہ بنتے رہے ہیں، جو خوف پھیلانے اور مذہبی منافرت کو ہوا دینے کے درپے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس قسم کا تشدد تقریباً مکمل استثنیٰ کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ پرتشدد آبادکاروں نے فلسطینی دیہات پر اسرائیلی قابض افواج کی موجودگی میں، بلکہ بعض اوقات ان کے تحفظ میں حملے کیے ہیں۔
طال کے قریب حالیہ تصادم میں اطلاعات کے مطابق آبادکار اسرائیلی قابض فوجیوں کے ہمراہ تھے، جو سکیورٹی کوآرڈینیٹرز کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر شہری انتہا پسندی اور ریاستی اختیار کے درمیان حدِ فاصل کو دھندلا دیا ہے۔ اس کے بعد مزید قابض فوجیوں کی تعیناتی اور فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ آبادکاروں کا تشدد نہ صرف برداشت کیا جا رہا ہے بلکہ اسے عملی طور پر سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
درحقیقت، اسرائیل کی حکومت کے بعض اعلیٰ ترین رہنما، جن میں انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ بھی شامل ہیں، 1967 کی عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد سے اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے الحاق کی کھلے عام وکالت کرتے ہیں، جبکہ ایسی یہودی بستیوں کی توسیع کی حمایت بھی کرتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت بڑے پیمانے پر غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔
جب حکمران اتحاد کے ارکان کھلے عام علاقائی الحاق کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں اور اسی دوران آبادکار فلسطینی برادریوں کے خلاف خوف و ہراس کی مہم کو تیز کر دیں، تو یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ یہ تشدد دراصل ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد جبر اور خوف کے ذریعے مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی اور سیاسی حقیقت کو تبدیل کرنا ہے۔ ایسے میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ انتہا پسند آبادکار اس قدر اعتماد کے ساتھ کارروائیاں کرتے ہیں۔
تحمل اور ضبط کی اپیلیں، خواہ کتنی ہی نیک نیتی سے کی جائیں، اس وقت تک کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں جب تک ان کے ساتھ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے جائیں۔ پوپ لیو اور ریورنڈ منثر اسحاق سمیت مذہبی رہنماؤں کی جانب سے تشویش کا اظہار ان حملوں کی سنگینی کو ضرور اجاگر کرتا ہے، لیکن صرف اخلاقی غم و غصہ انصاف کا متبادل نہیں بن سکتا۔
آج مقبوضہ مغربی کنارہ اس حقیقت کی واضح مثال پیش کرتا ہے کہ جب جغرافیائی سیاسی مفادات کو بین الاقوامی قانون اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کے اصولوں پر فوقیت دی جائے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔
استثنیٰ کی اس جڑ پکڑ چکی ثقافت نے پرتشدد آبادکاروں کو پہلے سے کہیں زیادہ بے خوف اور دلیر بنا دیا ہے۔ جب تک اس گہرے استثنیٰ کو حقیقی احتساب اور امریکا سمیت اسرائیل کے دیگر مغربی اتحادیوں کے مسلسل دباؤ کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جاتا، آبادکاروں کا تشدد بڑھتا ہی رہے گا، جس سے نہ صرف خطے کا استحکام مزید خطرے میں پڑے گا بلکہ منصفانہ اور دیرپا امن کی جو معمولی سی امید باقی ہے، وہ بھی دم توڑ دے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments