آبی وسائل کا ناقص انتظام
- پاکستان کو پانی کی قلت سے زیادہ آبی وسائل کی بدانتظامی کا بحران درپیش ہے، جس کا واحد حل شفاف حکمرانی، پائیدار انتظام اور بلاامتیاز احتساب ہے۔
پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں سولہویں نمبر پر ہے جو پانی کی شدید قلت کے دباؤ کا شکار ہیں۔ ملک میں فی کس سالانہ دستیاب پانی کی مقدار 1947 میں 5,600 مکعب میٹر سے گھٹ کر 2023 میں 930 مکعب میٹر رہ گئی، جبکہ اندازہ ہے کہ 2035 تک پاکستان مطلق آبی قلت کی سطح پر پہنچ جائے گا، جو آج سے نو سال سے بھی کم عرصے کی بات ہے۔
مزید برآں، سکڑتے ہوئے دریائے سندھ پر بڑھتا ہوا انحصار اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہا ہے اور ملک کے مطلق آبی قلت سے دوچار ہونے کی مدت مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔
انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) کی جانب سے جاری کردہ اسنو اپڈیٹ رپورٹ 2026 میں دریائے سندھ کے آبی ذخیرے (انڈس بیسن) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2020 میں برف کی پائیداری 19.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی، تاہم 2024 میں اس میں نمایاں کمی آکر یہ معمول سے 24.5 فیصد کم رہ گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 برسوں میں انڈس بیسن میں برف کی پائیداری کی یہ سب سے کم سطح ریکارڈ کی گئی۔
2026 میں بھی یہ خسارہ برقرار رہا، جب برف کی پائیداری معمول سے 18.1 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔ یہ صورتِ حال ایسے دریائی نظام میں، جہاں تقریباً نصف بہاؤ برف پگھلنے سے حاصل ہونے والے پانی پر منحصر ہے، موسمِ گرما کے آغاز ہی میں پانی کی شدید قلت کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ اس سے تقریباً 30 کروڑ افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو مؤثر اور جامع آبی وسائل کے انتظام کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
پانی کی شدید قلت سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان سے بھی زیادہ دباؤ کا شکار ممالک میں کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور بحرین شامل ہیں۔ تاہم ان ممالک نے اپنے وافر مالی وسائل کی بدولت سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹس نصب کر رکھے ہیں، جو ان کی آبادی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ان تنصیبات پر حملوں اور تنازع بڑھنے کی صورت میں مزید حملوں کے خدشات بدستور موجود ہیں۔
ڈی سیلینیشن پلانٹ ایک صنعتی تنصیب ہے جو سمندری یا کھارے پانی سے نمکیات اور معدنیات الگ کرکے اسے پینے کے قابل میٹھے پانی میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ ساحلی علاقوں کے لیے خشک سالی سے نسبتاً محفوظ پانی کا مستقل ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ریورس اوسموسس (پانی کو جھلیوں سے گزار کر) یا ڈسٹلیشن (پانی کو گرم کرکے) جیسی ٹیکنالوجیز استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم یہ عمل توانائی کا بہت زیادہ متقاضی ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں انتہائی نمکین محلول (برائن) بطور ضمنی پیداوار خارج ہوتا ہے۔
مصر میں مجموعی طور پر 82 ڈی سیلینیشن پلانٹس کام کر رہے ہیں، جن کی مشترکہ یومیہ استعداد 9 لاکھ 17 ہزار مکعب میٹر ہے۔ الجزائر میں ان پلانٹس کی سالانہ گنجائش 63 کروڑ 10 لاکھ مکعب میٹر ہے، جبکہ عمان بھی اپنی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتا ہے۔
پاکستان میں بھی کئی ڈی سیلینیشن پلانٹس موجود ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر چھوٹے پیمانے پر کام کر رہے ہیں اور انہیں آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔ البتہ چینی تعاون سے گوادر کے قریب قائم ایک پلانٹ روزانہ 3 ہزار ٹن پینے کا پانی فراہم کر رہا ہے، مٹھی میں قائم شمسی توانائی کے منصوبے کے تحت روزانہ 80 لاکھ لیٹر پینے کا پانی فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ پورٹ قاسم، کراچی میں ایک نیا پلانٹ زیرِ تعمیر ہے۔
اگرچہ ساحلی علاقوں میں ڈی سیلینیشن پلانٹس کا قیام مستقبل کے لیے ایک مؤثر حکمتِ عملی ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان کو بالخصوص گرمیوں میں توانائی کی شدید قلت کا بھی سامنا رہتا ہے۔ ملک کا بجلی کا شعبہ مسلسل غیر مؤثر انتظام، پن بجلی کی پیداوار میں سالانہ مرمت کے باعث کمی کے دوران مہنگے ایندھن کے استعمال، اور آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں میں موجود بھاری کیپیسٹی پیمنٹس جیسے عوامل کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔
اس کے باوجود، حکومت کے لیے آبی ذخیرہ گاہوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں آبی وسائل ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام کے لیے 103 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ 2025-26 میں یہ رقم 133 ارب روپے تھی۔ اس کے برعکس، سڑکوں کی تعمیر کے لیے 224.5 ارب روپے رکھے گئے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنے پی ایس ڈی پی کی ترجیحات کو سڑکوں کی تعمیر سے ہٹا کر آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر پر مرکوز کرے۔
”شمالی پاکستان کے بالائی علاقوں میں غیر موسمی زرعی تجاوزات: پائیدار اراضی انتظام کی ضرورت“ کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے:“تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ غیر موسمی کاشت کاری نقد آمدن کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے، جسے بنیادی طور پر گزشتہ کئی دہائیوں سے آباد اور بااثر مزارع برادریوں نے اختیار کیا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران یہ کاشت کاری مسلسل نشیبی علاقوں سے بلند مقامات (2,980 سے 3,800 میٹر) تک پھیلتی گئی اور وادیوں میں واقع قابلِ رسائی چراگاہوں پر بڑے پیمانے پر تجاوزات کی گئیں۔
تحقیق کے مطابق دو اہم سبزیوں، یعنی مٹر اور آلو، کی کاشت مجموعی طور پر 417.4 ہیکٹر چراگاہی اراضی پر کی گئی، جن میں 367.2 ہیکٹر پر مٹر جبکہ 50.2 ہیکٹر پر آلو کاشت کیے گئے۔
مزید یہ کہ فصلوں کی گردش (کروپ روٹیشن) اور مناسب اراضی انتظامی طریقوں کے بغیر ایک ہی فصل کی بار بار کاشت سے زمین کی پیداواری صلاحیت وقت کے ساتھ نمایاں طور پر کم ہوئی۔ نئی زیرِ کاشت اراضی میں مٹر کی پیداوار 1.8 ٹن فی ہیکٹر اور آلو کی 14.8 ٹن فی ہیکٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ پرانی زیرِ کاشت زمین میں یہ پیداوار گھٹ کر بالترتیب 0.6 ٹن اور 8.2 ٹن فی ہیکٹر رہ گئی۔
اس رجحان کے نتیجے میں کسان غیر پیداواری زرعی اراضی کو چھوڑ کر نئی حاشیائی زمینوں پر کاشت شروع کر رہے ہیں، حتیٰ کہ وہ مقررہ حد 16 ڈگری سے زیادہ ڈھلوان والی زمینوں پر بھی فصلیں اگا رہے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ کسانوں نے اہم چراگاہی علاقوں کو وسیع پیمانے پر زیرِ کاشت لا کر بے زمین چرواہوں کو ان کی روایتی چراگاہوں سے محروم کر دیا ہے۔
مزید برآں، ان زرعی تجاوزات نے چرواہوں کے روزگار اور ان بالائی علاقوں کے نازک ماحولیاتی نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہے، جن پر ان کا انحصار ہے۔ اس لیے شمالی پاکستان کے بالائی علاقوں میں سماجی و معاشی انصاف اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے پائیدار اراضی انتظام کو فروغ دینے والی مؤثر پالیسیوں اور ضوابط کی اشد ضرورت ہے۔“
مذکورہ حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں کئی دہائیوں سے دو نہایت تشویشناک رجحانات مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔
اول، بااثر اور خوشحال طبقے کی جانب سے غیر موسمی کاشت کاری کے ذریعے آمدن میں اضافے کے لیے اراضی پر ناجائز قبضے اور بے دریغ استعمال کا رجحان، جس نے پائیدار اراضی انتظام کے بنیادی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے سماجی و معاشی عدم مساوات کو بڑھایا اور ماحولیاتی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
دوم، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ آبی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں میں وسیع پیمانے پر مالی بدانتظامی، کمزور طرزِ حکمرانی اور گہری جڑیں رکھنے والی انتظامی ناکارکردگی موجود ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی کے نظام میں موجود بنیادی خامیاں ملک کے آبی اور توانائی کے تحفظ کو کمزور کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں واپڈا، ارسا، فیڈرل فلڈ کمیشن، پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس معاہدہ اور پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز سمیت اہم اداروں میں ادارہ جاتی کمزوریوں کی تشویشناک تصویر پیش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان اداروں نے مجموعی طور پر 359.6 ارب روپے کے اخراجات اور 194.3 ارب روپے کی وصولیوں کا انتظام کیا۔ آڈٹ میں بے ضابطگیوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا، جن میں سب سے زیادہ کیسز مالیاتی نظم و نسق سے متعلق تھے، جبکہ اس کے بعد معاہدوں کا انتظام، خریداری کا نظام، اثاثہ جات کا انتظام، انسانی وسائل، منصوبہ بندی اور آپریشنل امور سے متعلق بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ یہ تقسیم واضح کرتی ہے کہ انتظامی مسائل کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ تقریباً تمام ادارہ جاتی شعبوں میں گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔
نتیجتاً پاکستان اب آبی شعبے میں اصلاحات مؤخر کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس شعبے کے لیے مطلوبہ مالی وسائل فراہم کرے، جامع اصلاحات نافذ کرے اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف، خواہ وہ سرکاری شعبے سے تعلق رکھتے ہوں یا نجی شعبے سے، بلاامتیاز سخت اور مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments