اسٹیٹ بینک کو قبل از وقت نرمی سے گریز کرنا چاہیے
- اگر سخت شرحِ سود برقرار رکھنا سرمایہ کاری اور ملکی معاشی سرگرمیوں کے لیے حد سے زیادہ دردناک ہو جائے تو پاکستان کے پاس ایڈجسٹمنٹ کا ایک اور راستہ موجود ہے
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج پالیسی ریٹ کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے طے شدہ ہے۔ سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنا ہے۔
گزشتہ اجلاس میں ایک رکن نے اضافے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ باقی آٹھ نے بغیر کسی تبدیلی کی حمایت کی تھی۔ اس بار پالیسی کو مزید سخت کرنے کی جانب جھکاؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن زیادہ اہم سوال آج کا فیصلہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک اب افراطِ زر (مہنگائی)، معاشی نمو اور آگے مانیٹری پالیسی کے راستے کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔حالات واضح طور پر خراب ہوئے ہیں۔ جون میں افراطِ زر پہلے ہی دوبارہ ڈبل ڈیجیٹ میں داخل ہو چکی تھی جبکہ ایران تنازع کی شدت نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے اور بیرونی ماحول کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس تازہ ترین جھٹکے سے پہلے مالی سال 27ء کے لیے اوسط افراطِ زر کی زیادہ تر پیش گوئیاں 7 سے 9 فیصد کے درمیان تھیں۔ اگر پٹرولیم کی قیمتیں کئی مہینوں تک بلند سطح پر برقرار رہیں تو اس اندازے کو برقرار رکھنا معاشی طور پر ناممکن ہو جائے گا۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے پاس حالات سے نمٹنے کی گنجائش بہت محدود چھوڑی ہے۔ بیرونی جھٹکوں کا سامنا کرنے والے مرکزی بینک عام طور پر شرحِ سود، تبادلے کی شرح (ایکسچینج ریٹ) کی نقل وحرکت اور معاشی طلب کو کم کرنے کے امتزاج پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان نے ان میں سے ایک راستہ تقریباً بند کر رکھا ہے۔ حکام تبادلے کی شرح کو سخت کنٹرول میں رکھنے کے فیصلے پر قائم ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی بوجھ کا غیر متناسب حصہ مانیٹری پالیسی کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔اس فیصلے کے نتائج بھی ہوتے ہیں۔ اگر روپے کو مناسب قدر میں تبدیلی کی اجازت نہ دی جائے تو شرحِ سود کو لازماً اُس سطح سے بلند رکھنا پڑے گا جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔ ایسی صورتِ حال میں حقیقی مثبت شرحِ سود صرف ایک محتاط معاشی پالیسی نہیں رہ جاتی بلکہ وہ بڑھتی ہوئی معاشی طلب، سرمائے کا بیرونِ ملک فرار اور بیرونی مالیاتی توازن میں بگاڑ سے بچاؤ کا سب سے بڑا دفاعی ہتھیار بن جاتی ہے۔
ایکسچینج ریٹ کی اس پالیسی کے نقصان دہ اثرات بھی اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا رئیل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (ریئر) بڑھ کر 106.5 تک پہنچ چکا ہے، جو 2018 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ اگرچہ اس اشاریے کو منصفانہ قیمت ناپنے کا حتمی طریقہ نہیں ماننا چاہیے لیکن اس کا رخ اہم ہے۔ روپے کی قدر میں اس وقت حقیقی طور پر بڑا اضافہ ہوا ہے جب ہماری برآمدی صلاحیت کمزور اور تجارتی خسارہ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شرحِ سود میں فوری کمی کی توقعات بے جا ہیں۔ اگر ایران کا تنازع کل ہی ختم ہو جائے اور تیل کی قیمتیں دوبارہ 70 ڈالر فی بیرل کی نچلی سطح پر بھی آ جائیں، تب بھی اسٹیٹ بینک کے پاس شرحِ سود میں تیزی سے کٹوتی کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔ افراطِ زر بلند سطح پر موجود ہے، بیرونی خطرات بڑھ چکے اور ایکسچینج ریٹ معاشی ایڈجسٹمنٹ میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔
اسٹیٹ بینک کو اس سے قبل بھی ایک بار اپنا رخ بدلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے گھٹا کر 10.5 فیصد پر لانے کے بعد افراطِ زر اور بیرونی خطرات میں اضافے کی وجہ سے اسے دوبارہ شرحِ سود بڑھانی پڑی تھی۔ شرحِ سود میں کٹوتی کی طرف ایک اور فوری واپسی معاشی پالیسی کے تسلسل اور کریڈبیلٹی کو کمزور کرے گی۔ اگر تیل کی بلند قیمتیں برقرار رہتی ہیں اور عام افراطِ زر میں سرائیت کرنے لگتی ہیں تو رواں کیلنڈر سال کے اختتام سے پہلے شرحِ سود میں ایک اور اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات ماننے سے انکار نہیں کہ شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کے فوری اضافے کے لیے ایک معقول دلیل موجود ہے لیکن موجودہ حالات میں جلد بازی سے بچنے کے جواز بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ معاشی سرگرمیاں سست پڑتی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ مالیاتی حالات پہلے ہی سے سخت اور پابند ہیں۔ اگر مقامی سطح پر طلب پہلے ہی سے کمزور ہو اور قیمتوں کے بڑھنے کا ثانوی اثر کنٹرول میں رہے تو محض بیرونی سپلائی کے جھٹکے کی بنا پر فوری شرحِ سود بڑھانا ناگزیر نہیں ہوتا لیکن یہ ثانوی اثرات ہی ہیں جن پر اسٹیٹ بینک کو اس وقت کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ ایندھن کی بلند قیمتیں بالآخر ترسیل، پیداوار اور تقسیم کے اخراجات میں ظاہر ہوں گی۔ فوری جھٹکا بیرونی ہو سکتا ہے لیکن اس کا طویل عرصے تک قائم رہنا ہی یہ طے کرے گا کہ آیا یہ صرف وقتی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ ہے یا بنیادی افراطِ زر اور مارکیٹ کی توقعات میں سرائیت کر رہا ہے۔
مالیاتی منڈیاں اس خطرے سے واقف معلوم ہوتی ہیں۔ سرکاری بانڈز کی پیداوار (ییلڈز) ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال شرحِ سود میں کمی کے امکانات بالکل نہیں دیکھ رہے، بلکہ اس میں مزید سختی کے کچھ امکانات محسوس کر رہے ہیں۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں طویل تنازع پاکستان کے درآمدی بل کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی طلب کو کمزور کرے گا اور افراطِ زر کا دباؤ بھی اونچا رکھے گا۔ یہ ایسا ماحول نہیں ہے جس میں قبل از وقت نرم پالیسی کا تجربہ کیا جائے۔اس کے برعکس سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اب تمام تر توجہ معاشی نمو (گروتھ) پر ہونی چاہیے۔ تاہم یہ ایک خطرناک جوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ سرمایہ کاری سست ہے اور قرضوں کی لاگت تکلیف دہ ہے، لیکن صرف بلند شرحِ سود ہی وہ بنیادی وجہ نہیں جس سے پاکستان کو سرمایہ کاری راغب کرنے میں دشواری ہو رہی ہو۔ کم شرحِ سود کمزور پیداواری صلاحیت، غیر یقینی ریگولیٹری ماحول، ناپائیدار برآمدی صلاحیت اور اس معاشی ڈھانچے کا متبادل نہیں بن سکتی جو ملکی طلب بڑھتے ہی بار بار ادائیگیوں کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کے بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس کچھ امید ان خبروں سے پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان نے امریکی خزانے (یو ایس ٹریژری) سے 10 ارب ڈالر کی معاشی استحکام کی سہولت (اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی) کی درخواست کی ہے۔ اگر یہ سہولت سازگار شرائط پر مل جاتی ہے تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہو سکتے ہیں، پاکستان کی کریڈٹ پروفائل بہتر ہو سکتی ہے اور قلیل مدتی بیرونی مالیاتی خطرات کم ہو سکتے ہیں لیکن کسی ممکنہ امکان اور ایک پختہ معاشی پالیسی کے مفروضے کے درمیان ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ارجنٹائن کے ساتھ موازنہ اس حوالے سے آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ارجنٹائن کے معاملے میں سینئر امریکی حکام نے مدد کی فراہمی سے پہلے ہی حکمتِ عملی اور سیاسی تناظر میں عوامی سطح پر حمایت کی بات کی تھی لیکن پاکستان کی اس مبینہ درخواست کے حوالے سے امریکی ٹریژری کی جانب سے ابھی تک کوئی آن ریکارڈ اشارہ نہیں ملا، چہ جائیکہ اس کے ملنے کے امکان، ساخت یا وقت کی وضاحت موجود ہو۔ معاشی پالیسی کو مفروضوں اور قیاس آرائیوں پر مرتب نہیں کیا جا سکتا۔
بنیادی نقطہ یہ ہے کہ سالہا سال کی دردناک ایڈجسٹمنٹ کے بعد بھی ایک اور مالیاتی سہولت مانگنے کی ضرورت خود کئی تلخ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان نے مالیاتی پرائمری سرپلس حاصل کیا، بلند حقیقی شرحِ سود برقرار رکھی اور بھاری معاشی قیمت چکا کر ملکی طلب کو دبایا۔ اس کے باوجود سرمایہ کاری بے جان ہے، برآمدات کمزور اور بیرونی استحکام کا تمام تر انحصار اب بھی غیر ملکی ترسیلاتِ زر (ریمیٹنس) اور سرکاری مالیاتی امداد پر ہے۔ یہ صورتِ حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اصل مسئلہ کہیں اور ہے، گہری مالیاتی اصلاحات، ریگولیٹری ڈھانچے میں بہتری، برآمدی مسابقت میں اضافہ اور نجی سرمایہ کاری کی پائیدار بحالی کے بغیر معاشی استحکام محض عارضی ثابت ہوگا۔ مانیٹری پالیسی یہ نتائج حاصل نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس سے یہ توقع رکھی جانی چاہیے کہ وہ اس ایکسچینج ریٹ پالیسی کی خامیوں کی تلافی غیر معینہ مدت تک کرتی رہے جو کرنسی کے ذریعے ہونے والی قدرتی ایڈجسٹمنٹ کو روکتی ہے۔لہٰذا فی الحال سب سے معقول طریقہ یہی ہے کہ پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے اور آئندہ کے لیے سخت پالیسی (ہاکش بائس) کا واضح اشارہ دیا جائے۔ اسٹیٹ بینک کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ شرحِ سود میں کمی فی الحال ممکن نہیں اور اگر توانائی اور خوراک کی قیمتیں بنیادی افراطِ زر میں سرائیت کرتی ہیں تو مزید سختی کا آپشن موجود ہے۔
اگر سخت شرحِ سود برقرار رکھنا سرمایہ کاری اور ملکی معاشی سرگرمیوں کے لیے حد سے زیادہ دردناک ہو جائے تو پاکستان کے پاس ایڈجسٹمنٹ کا ایک اور راستہ موجود ہے۔ ایکسچینج ریٹ کو اپنا کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، تاکہ شرحِ سود کو تمام معاشی بوجھ اکیلے نہ اٹھانا پڑے۔























Comments