پاکستان کے لیے 10 ارب ڈالر کا مالی سہارا
- پاکستان کو صرف اپنی کرنسی کے استحکام کی نہیں، بلکہ اپنے معاشی نظم و نسق کے استحکام کی بھی اشد ضرورت ہے۔
واشنگٹن سے رواں ہفتے سامنے آنے والی ان اطلاعات نے، جن کے مطابق پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ”ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی“ کی درخواست کی ہے، بجا طور پر امید کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ اگر اس درخواست کی منظوری مل جاتی ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ میں دوطرفہ مالی معاونت کے اہم ترین انتظامات میں سے ایک ہوگا۔
تاہم، غیرملکی سرمایہ کے ایک اور ممکنہ بہاؤ پر خوشی منانے سے پہلے پاکستان کو ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا: کیا ایک اور قرض معیشت کی بیماری کا علاج کرے گا، یا محض اس کی علامات کو کچھ عرصے کے لیے ٹال دے گا؟
جیسا کہ اس سہولت کے نام سے ظاہر ہے، ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی کا مقصد کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانا، اس کی کرنسی پر دباؤ کم کرنا اور مالیاتی منڈیوں کا اعتماد بحال کرنا ہوتا ہے۔
اس نوعیت کے انتظامات کئی دہائیوں سے امریکی وزارتِ خزانہ کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ (ای ایس ایف) کے ذریعے موجود ہیں، تاہم ان کا استعمال نہایت محدود رہا ہے اور تقریباً ہمیشہ انہی مواقع پر کیا گیا ہے جہاں امریکا کے براہِ راست اسٹریٹجک مفادات وابستہ رہے ہوں۔
1995 میں میکسیکو کے لیے ای ایس ایف کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کو اس کی نمایاں ترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شدید مالیاتی عدم استحکام کا شکار بعض دیگر ممالک کو بھی محدود معاونت فراہم کی گئی، مگر ایسی مداخلتیں کبھی خیرات یا ہمدردی کی بنیاد پر نہیں کی گئیں۔ ان کے پسِ پشت ہمیشہ جغرافیائی سیاسی اور معاشی مفادات کا اشتراک کارفرما رہا ہے، اور اس وقت پاکستان دونوں حوالوں سے امریکا کے لیے ایک موزوں شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔
اگر پاکستان اس مطلوبہ سہولت کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے کسی گرانٹ یا بلاعوض امداد کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف کے قرض کی طرح یہ بھی تقریباً یقینی طور پر ایک قابلِ واپسی مالی سہولت ہوگی، جس کے ساتھ ادائیگی کی مقررہ مدت، سود، رپورٹنگ کی شرائط اور پالیسی سے متعلق تقاضے منسلک ہوں گے۔ اگرچہ ممکن ہے کہ یہ روایتی آئی ایم ایف پروگرام کے مقابلے میں نسبتاً کم سخت شرائط کی حامل ہو، تاہم یہ تصور کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا کہ واشنگٹن کسی پالیسی عزم، شفافیت اور تزویراتی تعاون کی توقع کے بغیر پاکستان کو 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
بیرونی قرضوں کے حوالے سے پاکستان کا تجربہ کئی تلخ حقائق کی یاد دلاتا ہے۔ مختلف حکومتوں نے بارہا غیرملکی مالی معاونت کو داخلی اصلاحات کے متبادل کے طور پر استعمال کیا۔ آئی ایم ایف کے پروگرام، دوست ممالک کی جانب سے جمع کرائی گئی رقوم، تجارتی قرضے اور کثیرالجہتی مالی معاونت نے وقتی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر کو ضرور سہارا دیا، مگر ان میں سے کوئی بھی معیشت کی بنیادی ساختی کمزوریوں کو دور نہ کر سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک قرض کے بعد دوسرے قرض کا سلسلہ معمول بنتا چلا گیا۔
جیسے ہی بیرونی رقوم کی آمد میں کمی آتی ہے، زرمبادلہ کی قلت، مالیاتی عدم توازن اور قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ دوبارہ سر اٹھا لیتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ صرف ڈالر کی کمی نہیں، بلکہ برآمدات سے خاطر خواہ زرمبادلہ کمانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، سرکاری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے، توانائی کے شعبے کے نقصانات کم کرنے اور پائیدار پیداواری سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مسلسل ناکامی ہے۔
کھپت یا بجٹ خسارے کی مالی اعانت کے لیے قرض لینا درحقیقت ضروری معاشی اصلاحات کو مؤخر کرنے کے مترادف ہے، جبکہ اس سے آئندہ نسلوں پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔
وفاقی حکومت کی آمدنی کا پہلے ہی ایک بڑا حصہ صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے، جو تشویش ناک صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسے میں مزید 10 ارب ڈالر کا قرض، خواہ نرم شرائط پر ہی کیوں نہ ہو، مستقبل میں ادائیگیوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھا دے گا، الا یہ کہ ان رقوم سے ایسے معاشی فوائد حاصل ہوں جو ان کی مالی لاگت سے زیادہ ہوں۔ یہی کسی بھی بیرونی قرض کے حصول کا بنیادی معیار ہونا چاہیے۔
اگر اس نوعیت کی سہولت کی منظوری مل جاتی ہے، اور بظاہر اس کے امکانات موجود ہیں، تو اس کے استعمال کو سخت قومی ترجیحات کے تابع ہونا چاہیے۔ یہ رقم حکومتی جاری اخراجات، سیاسی مقاصد کے تحت دی جانے والی سبسڈیز یا خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں پر صرف نہیں ہونی چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ یہ وسائل ایک مرتبہ پھر بااثر طبقوں کے مفادات کی نذر ہو جائیں، جبکہ عام شہری بدستور مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی خدمات میں گراوٹ کا بوجھ اٹھاتے رہیں۔
اس کے برعکس، ہر ڈالر کو ایسے منصوبوں سے منسلک کیا جانا چاہیے جن کے نتائج قابلِ پیمائش ہوں، مثلاً برآمدی مسابقت میں اضافہ، توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، آبی تحفظ، لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور صنعتی پیداوار میں اضافہ۔
بلاشبہ یہ تمام اہداف بلند اور شاید موجودہ حالات میں مشکل دکھائی دیتے ہیں، لیکن پاکستان کو قرضوں کے دائمی چکر سے نکالنے کا یہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اس معاملے کے تزویراتی پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس نوعیت کا کوئی بھی بڑا دوطرفہ مالیاتی انتظام لازماً پالیسی سازی کی خودمختاری سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگرچہ امریکا کے ساتھ معاشی تعاون کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، لیکن مالیاتی انحصار کو کبھی بھی تزویراتی انحصار میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ مضبوط داخلی اداروں کی بدولت پاکستان زیادہ معاشی خودمختاری حاصل کرے، نہ کہ بیرونی قرض دہندگان پر مسلسل انحصار کرتا رہے۔
لہٰذا بنیادی سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے فراہم کی جانے والی استحکامی مالی سہولت قبول کرنی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس ایسا نظم و نسق، شفافیت اور اصلاحات پر عمل درآمد کا نظم موجود ہے جو قرض کی رقم کو پائیدار قومی دولت میں تبدیل کر سکے؟
عام پاکستانیوں کے لیے کسی بھی نئے بیرونی قرض کی اہمیت اسی وقت ہوگی جب اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں، مہنگائی میں کمی آئے، برآمدات میں اضافہ ہو، ریاستی ادارے مضبوط ہوں اور مستقبل میں قرضوں پر انحصار کم ہو۔
بصورتِ دیگر، یہ قرض بھی ملک کی اس طویل تاریخ کا ایک اور باب بن جائے گا جس میں آج کے مسائل کا حل کل کے مواقع کو گروی رکھ کر تلاش کیا جاتا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو صرف اپنی کرنسی کے استحکام کی نہیں، بلکہ اپنے معاشی نظم و نسق کے استحکام کی بھی اشد ضرورت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments