ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز پر مارک اپ کی شرح میں کمی
- نئی شرح مالی سال 2024-25 کے دوران لاگو 17.74 فیصد مارک اپ سے 5.85 فیصد پوائنٹس کم ہے
صوبائی حکومتوں، سرکاری شعبے کے اداروں اور سرکاری ملازمین کے لیے بڑی سہولت کے طور پر وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز پر شرحِ منافع میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے 11.89 فیصد کر دیا ہے جو گزشتہ مالی سال میں 17.74 فیصد تھی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی حکومتوں کو دیے جانے والے نقد ترقیاتی قرضوں، مقامی حکومتوں، مالیاتی و غیر مالیاتی اداروں، دیگر کارپوریشنز کو فراہم کیے گئے قرضوں جبکہ وفاقی حکومت کے کمرشل شعبوں میں سرمایہ جاتی اخراجات پر عائد مارک اپ کی حتمی شرح مالی سال 2025-26 کے لیے سالانہ 11.89 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔
نئی شرح گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران لاگو 17.74 فیصد مارک اپ سے 5.85 فیصد پوائنٹس کم ہے جبکہ یہ مالی سال 2023-24 میں وصول کیے جانے والے 17.84 فیصد مارک اپ سے بھی نمایاں طور پر کم ہے۔
وزارتِ خزانہ نے یہ فیصلہ ایک سرکاری مراسلے کے ذریعے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (سی جی اے) اسلام آباد کو آگاہ کیا۔
نظرثانی شدہ مارک اپ کی شرح تین بڑی کیٹیگریز پر لاگو ہوگی: صوبائی حکومتوں کو دیے جانے والے نقد ترقیاتی قرضے، مقامی حکومتوں، مالیاتی و غیر مالیاتی اداروں اور دیگر کارپوریشنز کو فراہم کیے جانے والے قرضے جبکہ وفاقی حکومت کے کمرشل محکموں میں سرمایہ جاتی اخراجات۔
وزارت نے مزید اعلان کیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران گاڑیوں کی خریداری اور مکان کی تعمیر کے لیے سرکاری ایڈوانسز پر بھی یہی سالانہ 11.89 فیصد مارک اپ شرح لاگو ہوگی۔
کم مارک اپ شرح سے توقع ہے کہ وفاقی ترقیاتی فنانسنگ پر انحصار کرنے والی صوبائی حکومتوں اور سرکاری شعبے کے اداروں پر قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ کم ہوگا۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کے لیے مکان کی تعمیر اور گاڑیوں کی خریداری کے لیے حاصل کیے جانے والے ایڈوانسز کی مالیاتی لاگت میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments