ٹرمپ کے نئے ٹیرف کے بعد پاکستانی بانڈز میں گراوٹ
- سری لنکا اور انڈونیشین بانڈز پر بھی دباؤ دیکھا گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد جمعہ کو پاکستان کے بین الاقوامی سورین بانڈز کی قیمت میں 0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ سری لنکا اور انڈونیشین بانڈز پر بھی دباؤ دیکھا گیا۔
جبری مشقت کی پابندیوں پر عمل درآمد میں نرمی کے الزامات کے تحت 60 تجارتی شراکت داروں کی اشیا پر 10 فیصد اور 12.5 فیصد کے نئے امریکی ٹیرف کا اعلان عین اس وقت کیا گیا جب 10 فیصد کا عارضی عالمی ٹیرف ختم ہورہا ہے۔
پاکستان کے 2036 میں میچور ہونے والے سورین بانڈ کی قیمت 0.5 فیصد کم ہو کر 97.80 سینٹ کی بولی پر آ گئی جبکہ انڈونیشیا کے 2045 میں میچور ہونے والے بانڈ میں بھی اتنی ہی کمی ہوئی اور اس کی بولی 88.48 سینٹ پر پہنچ گئی۔
سری لنکا کے 2033 میں میچور ہونے والے بانڈ کی قیمت ایک سینٹ سے کچھ زائد گر کر 93.05 سینٹ فی ڈالر کی بولی پر آ گئی۔ امریکا سری لنکا کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے جہاں تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات کی جاتی ہیں جن میں زیادہ تر گارمنٹس شامل ہیں۔
ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہنڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کو نئے 10 فیصد ٹیرف کا سامنا ہوگا۔
یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ایسے ٹیرف کی شرح مقرر کی گئی ہیں جو پہلے سے نافذ موسٹ فیوریٹ نیشن ٹیرف ریٹس کے ساتھ ملا کر مجموعی طور پر 10 فیصد یا 12.5 فیصد بنتی ہیں۔
نئے ٹیرف اقدام کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی وعدے یعنی تقریباً عالمی سطح پر ٹیرف عائد کرنے کے وژن کو بحال کرنے کی تازہ ترین کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے فروری میں گزشتہ سال قومی ہنگامی قانون کے تحت عائد کیے گئے 10 فیصد سے 50 فیصد تک کے جوابی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔
جمعرات کو فیڈرل رجسٹر نوٹس میں اعلان کیے گئے یہ ٹیرف امریکا کی 99.4 فیصد درآمدات کا احاطہ کرتے ہیں، تاہم ان میں متعدد مصنوعات کو استثنیٰ دیا گیا ہے جن میں تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء شامل ہیں۔


























Comments