امریکا، بھارت تجارتی معاہدے پر تین سے چار ماہ میں دستخط کر سکتے ہیں،امریکی عہدیدار
- واشنگٹن اور نئی دہلی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے دوطرفہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ غور تجارتی معاہدہ آئندہ تین سے چار ماہ میں طے پا سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔
آسیان وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر منیلا میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی عہدیدار نے کہا، ”معاہدہ تیار ہے، ہمارے پاس اس کا مسودہ موجود ہے۔“
انہوں نے بتایا کہ اب صرف واشنگٹن کی جانب سے سیکشن 301 کے تحت جاری تجارتی تحقیقات کی تکمیل باقی ہے۔ یہ قانون غیر منصفانہ تجارتی طریقوں سے متعلق ہے اور امریکا کو ٹیرف عائد کرنے یا دیگر جوابی اقدامات کا اختیار دیتا ہے۔
واشنگٹن اور نئی دہلی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے دوطرفہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق معاہدہ تقریباً مکمل ہے اور تاخیر کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بنیادی اختلاف کے بجائے امریکا کی جاری تجارتی تحقیقات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 60 ممالک پر مشتمل سیکشن 301 کی ایک تحقیق رواں یا آئندہ ہفتے مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ان کے بقول، ”جیسے ہی یہ اور دیگر تحقیقات مکمل ہوں گی، نہ صرف بھارت بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی پیش رفت دیکھنے میں آئے گی۔“
معاہدے کی متوقع تکمیل کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا، ”شاید مزید تین سے چار ماہ۔“
دوسری جانب واشنگٹن پہلے ہی بھارت سمیت درجنوں ممالک پر جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی تجارت روکنے میں ناکامی کے الزام میں 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دے چکا ہے۔
علاوہ ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا کہ یکم اگست سے امریکا درآمد کی جانے والی جنیرک ادویات پر دو سال تک کوئی ٹیرف عائد نہیں کرے گا، تاہم اس کے بعد ایک سال کے لیے 100 فیصد اور پھر 200 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا، جس سے بھارت کی دواساز صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔
بھارت جنیرک ادویات برآمد کرنے والے ممالک میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، کیونکہ 2025 میں اس کی 25.8 ارب ڈالر مالیت کی دواساز برآمدات میں سے 9.7 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 38 فیصد، صرف امریکا کو برآمد کی گئیں۔























Comments